46

ناظمین کے فنڈزمیں کٹوتی مگر کیوں ۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

logo
خیبرپختونخواکے بے اختیاربلدیاتی نمائندے اب گلیاں پختہ کراسکیں گے اور نہ ہی نالیوں کی تعمیرومرمت کے منصوبے پایہ تکمیل ہوں گے کیونکہ میڈیاکے ذریعے موصولہ اطلاعات کے مطابق خیبرپختونخواکے 45ہزارسے زائدمنتخب بلدیاتی نمائندوں کے ترقیاتی فنڈز سمیت دیگر مدوں میں فراہم کی جانے والی رقوم میں20فیصدکٹوتی کاانکشاف ہواہے اوریہ بھی کہ ویلج اور نائبرہوڈکونسلوں کے فنڈزمیں70فیصد تک کٹوتی کی گئی ہے۔موصولہ اطلاعات کی روشنی میں ذرائع کاکہناہے کہ خیبرپختونخواکی حکومت نے رواں مالی سال کے بجٹ میں بلدیاتی نما ئندوں کے لئے 29ارب روپے کی خطیررقم مختص کی تھی اوریہ رقم ویلج اور نائبرہوڈ کونسلوں کے ناظمین سے لے کر ٹاؤن وڈسٹرکٹ ممبراورتحصیل و ٹاؤن ناظمین میں گلی کوچوں کی پختگی اورنالیوں کی تعمیرومرمت کی مدمیں استعمال ہونے کی غرض سے تقسیم ہونے تھی جبکہ تعلیم وصحت کے شعبوں سمیت کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کے لئے الگ رقم مختص کی تھی تاہم رواں مالی سال کے اختتام کومحض ڈیڑھ ماہ سے بھی کم وقت باقی ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کواب تک فنڈز کی صرف پہلی ہی قسط اداکی گئی ہے۔ذرائع کایہ بھی کہناہے کہ فی ضلعی کونسلر کے لئے72 لاکھ روپے کافنڈمختص تھامگرانہیں صرف 20لاکھ روپے اداکئے گئے ہیں اسی طرح ٹاؤن ممبران کے فنڈزمیں 20فیصد کٹوتی کی گئی ہے جبکہ ویلج اور نائبرہوڈکونسلوں میں صورتحال اس سے بھی زیادہ گھمبیر ہے۔ایک طرف تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک کے اعلانات، وعدے اور دعوے ہیں جوتاحال عوام کے ذہنوں پر چھائے ہیں اور دوسری جانب مذکورہ بالااطلاعات اور خیبر پختو نخوا کی حکومت کاحقائق پر مبنی نظرآتے کردارکے تناظرمیں دیکھاجائے توپی ٹی آئی کی قیادت کی لب کشائی اورصوبائی حکومت کی کارکردگی میں واضح تضادہے ۔11مئی2013کی انتخابی مہم میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے نظام میں تبدیلی لانے اور نیا پاکستان بنانے کااعلان کرکے گویاآسمان سے باتیں کرتی مہنگائی کی چکی میں پستی غربت وافلاس ،بے روزگاری اوربدامنی کے شکار،زندگی کے کسی بھی شعبے میں بنیادی ضروریات کی سہولتوں سے محروم اورخاندان مغلیہ کی تاریخ دہراتے حکمرانوں کے تعصب،تنگ نظری اورظالمانہ طرزعمل پر مبنی رویوں اور طرزحکمرانی سے مایوس عوام کے نبض پر ہاتھ رکھ کرانہیں روشن صبح نواورتابناک مستقبل کی نوید سنائی تھی یہی وجہ تھی کہ عوام نے انتخابات میں عمران خان اوران کی جماعت پر غیرمعمولی اعتمادکیاجس کے نتیجے میں اگرچہ عمران خان کے وزیراعظم بننے کاخواب توشرمندہ تعبیر نہ ہوسکاتاہم وفاق میں خاطرخواکامیابی لینے سمیت خیبرپختونخوا میں عوام نے اپنے ووٹ کی طاقت سے ان کی جماعت پی ٹی آئی کو حکمرانی دلادی اورپرویزخٹک کو وزارت اعلیٰ کے منصب پرفائزکیا۔وزارت اعلیٰ کاتاج سرپررکھنے کے بعد پرویزخٹک نے جوش اقتدار میں آکردعووں اور وعدوں پر مبنی جواعلانات کئے ان میں چیدہ چیدہ یہ تھے کہ بسائیں گے نئے شہر،نئے انڈسٹریل زون قائم کریں گے، یکساں نظام تعلیم رائج کریں گے، صحت اور تعلیم کے شعبوں میں اصلاحات لائیں گے،پولیس تھانہ اور پٹواری کلچرکوتبدیل کریں گے، غیرملکی سرمایہ کاری لائیں اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کاجابچھائیں گے،مہنگائی، بے روزگاری پر قابوپانے کے لئے روزگارکے ذرائع پیداکریں گے اورامن امان کوبہتربناکر عوام کی جان ومال کاتحفظ یقینی بنائیں گے مگربدقسمتی سے اب جبکہ زیادہ حکومتی مدت گزرچکی ہے اور کم عرصہ باقی ہے عمران خان کی زیرنگرانی اورپرویز خٹک کی زیر قیادت پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت تاحال وعدوں اور دعوں کے تناظرمیں اعلان کردہ ان منصوبوں کوعملی جامہ پہننانے میں تاحال کامیابی سے ہمکنارنہیں ہو سکی ہے۔اگرچہ صوبائی حکومت صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانے میں بھی کوئی خاص دلچسپی لیتی نظرنہیں آئی تھی اورووٹر لسٹو ں کی تیاری ،کبھی حلقہ بندیوں اور حدبندیوں کے تعین تو کبھی لوکل گورنمنٹ قوانین میں ترامیم کے نام پر سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے بارباروقت مانگ کر بلدیاتی انتخابات مؤخر کرانے کی غرض سے استدعاکی صورت میں روائتی لیت و لعل سے کام لیتی رہی حالانکہ الیکشن مہم کے دوران اور صوبے میں حکومت سازی کے فوری بعدتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان یہ دعویٰ کرتے سنائی دیتے تھے کہ بلدیاتی انتخابات کی بڑی اہمیت ہے اور اس کاانعقاد دیگر صوبوں کے مقابلے میں سب سے پہلے ان کی صوبائی حکومت کرے گی مگرسب سے پہلے بلدیاتی انتخابات کرانے کااعزازتونامساعد حالات اور امن وامان کی کمزورصورتحال کے باوجودغیرمتوقع طورپربلوچستان حکومت لے اڑی اور اس کاکریڈٹ بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ عبدالمالک بلوچ کو نہ دینازیادتی ہوگی جبکہ خداخدا کرکے خیبرپختونخوامیں بلدیاتی الیکشن ہوابھی تو اس میں دوسروں پرالزام لگانے والی پی ٹی آئی اپنا ہی دامن انتخابی دھاندلی کے داغ سے نہ بچاسکی۔بہرحال اس کے باوجود عوام امید لگائے بیٹھے تھے کہ بلدیاتی اداروں کے قیام اور اختیارات کی نچلی سطح پرمنتقلی سے حالات میں تبدیلی آئے گی مگراب فنڈزکی کٹوتی کے حوالے سے موصولہ اطلاعات کی روشنی میں ضلعی حکومتوں کی دکان بھی پھیکاپکوان ثابت ہورہی ہے جسے دیکھتے ہوئے لگ یہ رہاہے کہ ضلعی حکومتوں کوفنڈزکی کمی کے معاملات میں پھنساکر ناکام بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور یہ ان قوتوں کی کارستانی ہوسکتی ہے جوشروع سے اس نظام کے مخالف تھیں۔دوسری جانب اس میں کوئی دورائے نہیں کہ اگلے انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی اور ناکامی کادارومدار خیبرپختونخوامیں قائم موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ہوگااوراس حوالے سے پی ٹی آئی کے ہاتھ ایک سنہراموقع ہاتھ لگاہے کہ بلدیاتی نظام کے تحت ضلعی حکومتوں کو مستحکم بناکران کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں کوپایہ تکمیل بنانے اور عوام کوبنیادی ضروریات کی سہولتیں ان کی دہلیزوں پر دینے کاکریڈٹ لیں بصورت دیگر آئندہ الیکشن میں پی ٹی آئی کی کامیابی ایک خواب ہی رہے گاکیونکہ حساب کتاب عوام بھی رکھتے ہیں جبکہ اب تووزیراعظم نے بھی دعویٰ کیاہے کہ اگلے الیکشن میں خیبرپختونخواپی ٹی آئی کے ہاتھ نکل جائے گا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں