75

وفاقی روئیے کے خلاف سخت گیرموقف اپنانے اور بعض انتہائی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا حکومت نے صوبائی بجٹ کی تیاری میں وفاق کے عدم تعاون، وجبات کی عدم ادائیگی اور معاندانہ روئیے کے جواب میں سخت گیرموقف اپنانے اور بعض انتہائی اقدامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے جن میں صوبے کی جملہ مقتدر سیاسی قوتوں اور جماعتوں سے رابطے اور قومی اسمبلی و سینیٹ میں متحدہ پارلیمانی گروپس کے ذریعے وفاقی بجٹ کا بائیکاٹ اور صوبے کی مالی مشکلات و زمینی حقائق پر مبنی تقاریر و بیانات کی مہم چلانے کے آپشن شامل ہیں اس کا عندیہ خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے سول سیکرٹریٹ پشاور میں ہڑتالی پی ایم ایس افسران سے ملاقات اور مرکز اسلامی میں شوریٰ اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کے دوران دیا ہے اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے بھی درخواست کی کہ صوبے کے گونا مالی مسائل کو قومی سطح پر اجاگر کریں کیونکہ یہ قومی یکجہتی کا تقاضا بھی ہے صوبے کے عوام مسلسل حق تلفیوں پر احساس محرومی کا شکار ہونے لگے ہیں اور زیادتیوں کا یہ سلسلہ گھٹنے کی بجائے بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ایک جمہوری اور آئینی نظام کے تحت برسراقتدار آنے والی مرکز ی حکومت کا چھوٹے صوبوں سے رویہ ہر نئے دن کے ساتھ آمرانہ بنتا جا رہا ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے میڈیا کی وساطت سے خیبرپختونخوا کی تمام سیاسی قیادت سے اپیل کی کہ وہ آگے آئیں اور صوبے کے ساتھ ہونے والی بے انصافیوں کے ازالے کیلئے متحدہ و موثر کردار ادا کریں جس کیلئے ناگزیر ہو گیا ہے کہ پہلے اقدام کے طور پر اسلام آباد میں صوبے کی تمام پارلیمانی گروپس کا اتحاد قائم کیا جائے اور سب ایک ہی مشترکہ پلیٹ فارم سے ایک آواز بلند کرکے صوبے کے تمام واجب الادا حقوق اور وسائل مرکز سے بازیاب کرائیں اور اگر ضروری ہوا تو وفاقی بجٹ کے بائیکاٹ سمیت دیگر آپشن بھی زیرغور لائے جائیں انہوں نے کہا کہ وفاق کے طر زعمل سے ثات ہو گیا ہے کہ قیمتی معدنی و آبی وسائل سے مالا مال اس مالدار صوبے کو پسماندگی، غربت اور بیروزگاری کی دلدل میں دھکیلنے کی ارادی کوششیں اور سازشیں کی جارہی ہیں جن سے نمٹنے کیلئے ابھی یا کبھی نہیں کا مرحلہ بھی آپہنچا ہے کیونکہ آخر ہم کب تک اپنے جائز حقوق کیلئے مرکز سے رحم کی بھیک مانگتے پھریں گے یہ صوبے کی تعمیر و ترقی اور یہاں کے عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور اپنے عوام کے مفاد کی خاطر ہم سب کو متفق ہو کر فیصلہ کن لڑائی لڑنا ہو گی اور اسی میں ہم سب کا بھلا ہے پی ایم ایس اور پی سی ایس افسران کے ہڑتال سے متعلق وزیرخزانہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ہماری حکومت کی ریڑھ کی ہڈی اور ہمارے وجود کا حصہ ہیں اور انکی ہڑتال ختم اور خفگی دور کرنے کیلئے وزیراعلیٰ پرویزخٹک ہم سب سے زیادہ متفکر ہیں یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کی قائم کردہ پارلیمانی کمیٹی کے رکن کی حیثیت سے ان ہڑتالی افسران سے آج تیسری بار ملاقات کرکے کم از کم عارضی طور پر ہڑتال ختم کرنے کی استدعا کی ہے اور افسران نے اس کا باہمی مشارت کے بعد جلد ہی مثبت جواب دینے کا عندیہ دیا ہے اگر ایسا ہوا تو ہم انکے مسائل و مطالبات کا زیادہ سرعت سے ازالے کی گارنٹی دیتے ہیں تاہم صوبائی حکومت انتظامی مشکلات کے باوجود سختی برتنے کے صریحاً خلاف ہے مظفر سید ایڈوکیٹ نے افسران کی ہڑتال کے سبب بجٹ سازی میں مشکلات سے متعلق سوال پر کہا کہ اسی سبب بھی وہ افسران سے ہڑتال ختم کرنے کی اپیل کیلئے تیسری بار گئے اور امید ہے کہ وہ عوامی مفاد میں مثبت ردعمل دینگے البتہ انہوں نے از راہ تفنن یہ بھی کہا کہ وفاق کی مہربانی سے بجٹ میں رہ کیا گیا ہے میڈیا سے درخواست ہے کہ اپنوں کی حق تلفی کے سبب ہماری مالی زبوں حالی کی بازگشت اسلام آباد پارلیمنٹ ہاؤس تک پہنچے اور ہماری داد رسی ہو۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں