33

حکومت نے چترال ضلعے کوترقی کے میدان میں یکسر نظرانداز کردیا ہے جس سے عوام میں بددلی اور مایوسی پھیل رہی ہے۔مولاناعبدالاکبر

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال)چترال سے قومی اسمبلی کے سابق رکن مولانا عبدالاکبر چترالی اور جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد نے کوشٹ پل کے گرجانے کی سانحے کا جوڈیشل انکوائری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیر کے بعد چھ ماہ کے عرصے میں پل کا دریا برد ہونا افسوسناک واقعہ ہے جس میں تین قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوگئے۔ جماعت اسلامی کے دیگر رہنماؤں قاضی سلامت اللہ، معراج الدین، سراج احمد، زاہد نواز اور دوسروں کی معیت میں ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پل گرنے کے سانحے میں جان بحق ہونے والوں کو شہداء پیکج دئیے جائیں جن کی جانیں حکومتی غفلت کی وجہ سے ضائع ہوگئے اور ان کے خاندانوں کی کفالت حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے۔ انہوں نے کہامزیدمطالبہ کیاکہ پل کی مرمت سے متعلق ٹھیکہ داروں کے واجب الاد ا بلز فی الفور ادا کئے جائیں اور کوشٹ پل کی بحالی کاکام ہنگامی بنیادوں پر شروع کیا جائے۔ جماعت اسلامی کے رہنماؤں نے صوبائی حکومت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ اس حکومت نے چترال ضلعے کوترقی کے میدان میں یکسر نظرانداز کردیا ہے جس سے عوام میں بددلی اور مایوسی پھیل رہی ہے ddddجوکہ انارکی،لاء اینڈ آرڈر کی صورت حال پیدا ہونے اور حکومت کے خلاف شدید نفرت پیدا ہونے پر منتج ہوسکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ سال کے سیلا ب سے متاثر انفراسٹرکچرکی بحالی پر کوئی کام شروع نہیں کی گئی جس سے اہالیان چترال کی زندگی اجیرن بن کررہ گئی ہے ۔ انہوں نے چترال ٹاؤن کے لئے واحد واٹر سپلائی اسکیم کو دریا بردگی سے بچایا جائے جوکہ دریائے لوٹ کوہ کی زد میں ہے اور کسی بھی وقت دریا اس کے پائپ بہا لے جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں