92

قومی سلامتی اور دفاع ۔۔جی اوسی ملاکنڈ کاخطاب۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اس میں کوئی شک نہیں کہ2009 سے قبل ملاکنڈڈویژن میں طالبانائزیشن کے باعث حکومتی رٹ مکمل طورپر ختم ہوچکی تھی ہرطرف بندوق کاراج تھااوریہاں کے عوام بڑی تکلیف میں تھے مگر آج حالات یکسرتبدیل ہوچکے ہیں آج یہ بات یقینی طورپرکہی جاسکتی ہے کہ حالات وہ نہیں ہیں جن کا2008-09 میں یہاں کے عوام سامنا کررہے تھے اوران بدلتے حالات کاپوراکریڈٹ یقینی طورپردلیراورقابل فخر افواج پاکستان کوجاتاہے جنہوں نے راہ راست کے نام سے دہشت گردی کے خلاف آپریشن کاآغازکیااور اسے کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچا کر دنیا بتادیاکہ ہم سے جوٹکرائے گااس کا صفحہ ہستی سے نام مٹ جائے گا ۔ پاک فوج کے عظیم سپوتوں کی شبا نہ روزمحنت،کوششوں ،کاوشوں اور قربانیوں کی بدولت نہ صرف ملاکنڈڈویژن سے ریاستی رٹ چیلنج کرنے والے دہشت گردوں اور شرپسندوں کاصفایاہوابلکہ گلی کوچوں اورمحلوں میں چھوٹے بڑے واردات کرتے جرائم پیشہ عناصر کابھی قبلہ درست کیاگیایہی وجہ ہے کہ یہاں مکمل امن قائم ہوچکاہے عوام ایک آزاد اورپرسکون فضاء میں سانس لے رہیں،تاجر برادری اور دیگرکاروباری حلقے بلاکسی خوف وخطرکے اپناکاروبارکررہے ہیں ، سرکاری ملازمین دفاتراور طلباء تعلیمی اداروں میں جاتے ہوئے اردگردکے ماحول کو انتہائی پرامن محسوس کرتے ہیں۔ ملاکنڈ ڈویژن میں امن وامان کی موجودہ صورتحال اور ماضی قریب کے پس منظرکے تناظرمیں یہ تمہید میں نے اس لئے باندھی کہ آج میں اپناکالم جنرل آفیسر کمانڈنگ ملاکنڈمیجر جنرل آصف غفورکی اس تقریر کے نام کرتاہوں جوانہوں نے 27مئی2016 کوچکدرہ دیر لوئر میں قائم ملاکنڈیونیورسٹی میں’’ قومی سلامتی اوردفاع ‘‘کے موضوع پر طلباء وطالبات سے مخاطب ہوکرکی تھی کیونکہ ان کی تقریران کی مثبت سوچ،ملک کی ترقی وخوشحالی،قومی سلامتی اورملکی دفاع کے لئے ان کے جذبہ حب الوطنی،ہمت اور حوصلہ کی بھرپورعکاسی کررہی تھی۔میجر جنرل ایک طرف قوم کے بچوں اور بچیوں کوحصول تعلیم اور اچھی پڑھائی کی جانب راغب کرنے کی سعی اوردوسری طرف پاک فوج کی ہمت و حوصلہ ،بہادری اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کو سامنے لاکرملک وقوم کے دشمنوں کوللکاررہے تھے ۔میجرجنرل آصف غفورنے اس موقع پر لب کشائی کرتے ہوئے کہاکہ طلباء اور نوجوان نسل قوم وملک کاقیمتی سرمایہ ہے اگرنوجوان نسل راہ راست پر رہی تودنیاکی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی اور آج کے نوجوان خوش قسمت ہیں کہ وہ آزادفضاء میں تعلیمی اداروں کے اندر پڑھائی کررہے ہیں اور حکومت ان کو مطلوبہ سہولیات بہم پہنچارہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ قومی سلامتی ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے جس میں ہرادارے کااپنااپنا حصہ اور کام ہوتاہے۔’’میں نے دشمن کے بچوں کوپڑھاناہے‘‘ والے نغمے کاپیغام نثرمیں دیتے ہوئے میجرجنرل آصف غفورکاکہناتھاکہ قومی سلامتی میں طلباء کاکردار کلیدی ہوگا لہٰذاطلباء پر لازم ہے کہ وہ اچھی پڑھائی کریں کیونکہ بندوق کے بعد ہم نے قلم ہی سے دہشت گردی کوشکست دینی ہے۔قومی سلامتی کے بعد دفاع وطن پراظہارخیال کرتے ہوئے انہوں نے اپنے عزم کودہرایا اور واضح پیغام دیاکہ پاک فوج نے دفاع وطن کی قسم کھائی ہے اور اس کوپوراکرتی آرہی ہے اوراس عظیم مقصد کے حصول کے لئے پاک فوج جان دینابھی جانتی ہے اور جان لینابھی ۔قوم کوحوصلہ دلاتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ اگرچہ ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان اور بھارت کے مابین براہ راست جنگ نہیں ہوئی تاہم نائن الیون کے بعد دشمن ملک نے ہماری کمزوریوں کافائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور اس کے لئے سالوں تک مشق کیامگر پاک فوج نے دشمن کے ہر وارکوناکام بناکراسے خاک میں ملادیاور دہشت گردی کوشکست دے کر خطرناک لائن پارکردی ۔انہوں نے کہاکہ دفاع وطن پاک فوج کی ذمہ داری ہے اوروہ اسے بطریق احسن نبھارہی ہے جبکہ پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افواج پاکستان کے ہوتے ہوئے کوئی وطن عزیزکومیلی آنکھ سے دیکھنے کی جراٗت تک نہیں کرسکتا۔ ان کے مطابق سوفیصد امن دنیاکے کسی بھی معاشرہ میں قائم نہیں ہوسکتاتاہم دہشت گردی کوہم نے جڑ سے اکھاڑپھینکناہے۔ پاک فوج کی قربانیوں کاتذکرہ کرتے ہوئے جنرل آفیسر کمانڈنگ نے کہاکہ اب تک دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لگ بھگ 66 ہزارافرادنے جانوں کا نذرانہ دیاہے جن میں چھ ہزار تک پاک فوج کے جوان اور آفیسرزشامل ہیں لیکن قربانی کاسفرکبھی ختم نہیں ہوتاجب بھی قربانی دینے کاوقت آتاہے فوجی پیچھے مڑکرنہیں دیکھتے بلکہ سینہ سپرہوکرآگے بڑھتے ہیں اور ملک وقوم پر قربان ہوجاتے ہیں۔ جنرل آفیسرکمانڈنگ میجرجنرل آصف غفورنے یونیورسٹی آف ملاکنڈکے طلباء وطالبات کے مختلف سوالوں کے جواب بھی دیئے ۔ اس موقع پر ملاکنڈ یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈا کٹرجوہرعلی اور بریگیڈئرمشتاق بھی طلباء سے مخاطب ہوئے۔وائس چانسلر نے کہاکہ ہمیں اپنی پالیسیوں پر غورکرناہوگاجبکہ مثبت رویوں اورتعلیم کافروغ وقت کااہم تقاضا ہے کیونکہ بناؤ بگاڑ کاذمہ دارمعاشرہ ہی ہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ فروغ تعلیم اور کسی بھی میدان میں ترقی کاحصول ان کے اہداف ہیں اور اس حوالے سے ان کی یونیورسٹی کامیابی سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تعلیم کے بغیر کوئی تبدیلی نہیں آسکتی اور انہیں اس بات پر فخرہے کہ ملاکنڈیونیورسٹی کے طلباء وطالبات دل لگاکر پڑھائی کررہے ہیں یہی وجہ ہے کہ آج اس یونیورسٹی کاشمار ملک کے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ہوتاہے۔بریگیڈئرمشتاق نے بھی لب کشائی کرتے ہوئے جامعہ کے زیرتعلیم طلباء وطالبات کوبڑے دلچسپ اندازمیں ان کے فرائض بارے مثبت پیغامات دیئے اور انہیں محظوظ رکھاتاہم بلاشبہ اس موقع پر جنرل آفیسر کمانڈنگ ملاکنڈمیجر جنرل آصف غفورکاخطاب غیرمعمولی اہمیت کاحامل تھاجسے سن کر ’’اے وطن کے سجیلے جوانوں میرے نغمے تمہارے لئے ہیں‘‘۔’’ اے وطن پیارے وطن ‘‘ ۔’’میں نے دشمن کے بچوں کوپڑھاناہے‘‘۔’’میں ایسی قوم سے ہوں جس کے وہ بچوں سے ڈرتاہے‘‘ جیسے نغمے ذہن میں گونجتے رہے اورحب الوطنی کاجذبہ سرچڑھ کر بولتارہاسو مذکورہ سرگرمی کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہوگی ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس قسم کی قابل تقلید سرگرمیوں کاتسلسل قائم رہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں