102

چوہدری مجید حکومت کے پانچ سال۔۔۔تحریر: سردارعتیق احمد سدوزئی

آزاد کشمیر حکومت اپنی مدت پوری کرتے ہوئے آج کل میں رخصت ہو جائے گی، اس حکومت کے صحافتی مشیروں اور معاونین کی ایک لمبی فہرست ہے، جس میں آزادکشمیر بھر میں اپنا نمایاں مقام رکھنے والے سینئر صحافی حضرات بھی تھے اور نوجوان صحافی بھی ، کم و بیش ایک درجن کے قریب اس حکومت میں صحافی ایڈجسٹ ہوئے جو پریس سیکرٹری برائے وزیراعظم، ڈائریکٹر اطلاعات، ڈی جی انفارمیشن، مشیر اطلاعات، معاونین میڈیا اور کشمیر لبریشن سیل میں کوارڈنیٹر یا معاون کی پوسٹوں پر فرائض منصبی سرانجام دیتے رہے، ایک صاحب کو انکی سرکاری پوسٹ کا قلمدان ملا تو انہوں نے آزادکشمیر کے دس اضلاع کے تیس کے قریب ترقیاتی و بلدیاتی اداروں سے فنڈز اکٹھے کیے کہ آزادکشمیر کے ہر ضلع پر ایک ڈاکومنٹری بنائی جائے گی جس میں موجودہ حکومت کے کارہائے نمایاں دکھائے جائیں گے مگر پھر شائد اس فلم کو سنسر بورڈ سے کلیئرنس نہ مل سکی۔ موجودہ حکومت کے درجن بھر میڈیا منیجرز موجودہ دور حکومت میں انتہائی مصروف رہے اور انکی مصروفیت اس قدر تھی کہ انہیں وقت بھی نہ مل سکا کہ موجودہ حکومت کے کچھ اچھے کاموں کو بھی عوام میں اجاگر کر سکیں ، پانچ سالوں میں اگر کبھی کوئی سیاسی تقریب آگئی تو اشتہارات دیکر حکومت کا بول بالا کر دیا، اگر کوئی برسی آگئی تو شہداء پر کالم تحریر کر دیا اور پھر اپنی مصروفیات میں مگن ہو گئے۔ شائد یہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت جب پانچ برس پورے کرنے کو ہے تو آزادکشمیر کے عوام میں اس حکومت کی تصویر اس قدر کالی آئی ہے کہ چوہدری عبدالمجید کا نام پڑھتے ہی عام آدمی کے ذہن میں کرپشن، لوٹ مار کا خیال آجائے گا اور اسی طرح اگر وزراء کے نام ذہن میں آئیں تو کافی خوبصورت اور مصالحہ دار کہانیاں ذہن میں آجاتی ہے جسکی بنیادی وجہ اپوزیشن نے حکومت کی جو تصویر کشی کی اسکو درجن بھر میڈیا منیجرز زائل کرنے میں ناکام رہے۔ موجودہ حکومت نے کرپشن ، بدعنوانی، لوٹ مار، عہدوں کی خرید و فروخت ، رشوت سمیت کئی کارہائے نمایاں کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ اچھے کام بھی کیے جنکو سراہا جانا انتہائی ضروری ہے اگر مشیران حکومت ان کارہائے نمایاں کو بھی اپنے قلم کے ذریعے عوام تک لاتے تو حکومت کچھ بہتر تصویر لیکر گھر جاتی۔
آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی کی مدت اور چوہدری عبدالمجید کی حکومت کا قصہ تمام ہوا، آزادکشمیر میں 1947 سے 2011تک یوں تو درجنوں حکومت بنیں اور سب کا دور اپنی اپنی جگہ ریاست کی تعمیر و ترقی اور سیاسی خدوحال پر گہرے نقوش چھوڑ گیا مگر پانچ سال میں چوہدری عبدالمجید کی پیپلز پارٹی حکومت نے جو کارہائے نمایاں سرانجام دیئے اسکی نہ تو ماضی میں مثال ملتی ہے اور نہ ہی شائد مستقبل میں ایسی کوئی مثال قائم ہو پائے گی۔ راقم ہمیشہ مجید حکومت کا ناقد رہا ہے مگر آج صرف ان کاموں کا ذکر ہو گا جو مجید حکومت نے اپنے عہد میں کئے اور انکے ثمرات مستقبل میں پوری ریاست کو ملیں گے۔ آزادکشمیر میں یوں تو تعمیر و ترقی کا سہرا سابق صدر جنرل حیات خان، سابق وزیراعظم و صدر سردار سکندر حیات خان کے سر جاتا ہے مگر اس تمام تعمیر و ترقی کو چار چاند مجید حکومت نے لگائے ہیں، مجید حکومت کے کافی میگا پراجیکٹس پایا تکمیل کو پہنچ چکے جبکہ کچھ اگلی حکومت کے دور میں پایا تکمیل کو پہنچیں گے۔
میڈیکل کالجز مجید حکومت کا سب سے بڑا اور تاریخی کارنامہ ہے، ماضی میں آزادکشمیر میں ڈویژن سے اضلاع تک ایک میڈیکل کالج کے قیام پر اضلاع کی لڑائی ہوا کرتی تھی اور اگر فیصلہ ہوتا کہ میڈیکل کالج میرپور بنے گا تو مظفرآباد اور راولاکوٹ سے مخالفت ہوتی اور اگر وہاں بننے کی بات ہوتی تو میرپور مخالفت میں کھڑا ہوتا تھا مجید حکومت نے آتے ہی سب سے پہلے میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ میں تین میڈیکل کالج بنا کر ایک طرف تمام اضلاع کو یکساں تعلیم کے مواقع فراہم کیے اور ساتھ ہی ساتھ میڈیکل کالجوں پر اضلاع کی لڑائی ختم کروا دی اس وقت تمام میڈیکل کالجز آپریشنل ہیں اور ان میں کشمیر کے بچے میڈیکل کے مختلف شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔ پہلا بیج تین سال بعد ایم بی بی ایس کی ڈگری لیکر ان کالجوں سے باہر آئے گا، اگر فی کالج ایک سو طلباء و طالبات ڈاکٹر بن کر نکلے تو ہر سال آزادکشمیر اوسطاً تین سو ڈاکٹرز پیدا کرنے والا پاکستان کا واحد خطہ بن کر ابھرے گا تاہم ان ڈاکٹرز کو روزگار آزادکشمیر میں دینا کسی بھی حکومت کے بس کی بات نہیں ہوگی البتہ ریاست کے یہ ہنرمند بچے پاکستان کے چاروں صوبوں کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں روزگار حاصل کریں گے جس سے آزادکشمیر میں زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اور لوگوں کا معیار زندگی بلند کرنے میں مدد ملے گی۔ریاست کی تاریخ میں یہ سنہری کارنامہ جب بھی تذکرے میں آئے گا تو چوہدری عبدالمجید کا نام ہمیشہ لیا جاتا رہے گا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل کالج میرپور اب یونیورسٹی میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ بے نظیر بھٹو شہید میڈیکل یونیورسٹی کا افتتاح گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے کیا۔
آزادکشمیر میں بیس بیس سال سے سکولوں اور کالجوں کی اپ گریڈیشن کا عمل رکا ہوا تھا۔ صرف میرپور شہر کی بات کی جائے تو میرپور میں بچیوں کے لئے ایک ڈگری کالج اور ایک انٹر کالج تھا جبکہ بچوں کیلئے صرف ایک ڈگری کالج تھا پانچ سال کے عرصہ میں میرپور میں بچیوں کے تین ڈگری کالج اور بچوں کے دو ڈگری کالج نئی نسل کو تعلیم سے بہرہ مند کر رہے ہیں۔ اسی طرح انٹر کالجوں کی تعداد بھی پہلے سے تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔آزادکشمیر بھر میں مڈل سکولوں کو ہائی سکول، ہائی سکول کو انٹر کالج اور پرائمری سکولوں کو مڈل سکول کا درجہ دیا گیا، اپ گریڈ ہونے والے سکولوں کو مطلوبہ سہولیات اور بلڈنگ تو نہیں مل سکی البتہ ان میں کلاسوں کا اجراء ہو چکا ہے اور آہستہ آہستہ اگلی حکومتوں میں سہولیات بھی مل جائیں گی جس سے تعلیم کے لئے غریب عوام کو بچے دور دراز کے علاقوں میں نہیں بھیجنا پڑیں گے۔
مجید حکومت نے باغ میں خواتین یونیورسٹی، کوٹلی میں آئی ٹی یونیورسٹی، راولاکوٹ میں پونچھ یونیورسٹی اور میرپور میں عالمی اسلامی یونیورسٹی جبکہ بھمبر میں کیڈٹ کالج کا قیام عمل میں لایا جبکہ مجید حکومت سے قبل آزادکشمیر میں صرف دو یونیورسٹیاں تھیں جن میں سے ایک مسٹ یونیورسٹی سابق صدر راجہ ذوالقرنین خان کا کارنامہ تھا جبکہ آزادجموں و کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد موجود تھی جو بڑے اضلاع میں اپنے کیمپس بھی رکھتی تھی۔ ان یونیورسٹیوں کے طلباء و طالبات اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے جب میدان عمل میں آئیں گے تو پاکستان میں35 لاکھ کی آبادی رکھنے والا ایک چھوٹا خطہ ابھر کر سامنے آئے گا۔ اگر اوسطاً تمام یونیورسٹیاں سالانہ تین ہزار طلباء و طالبات کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کر کے فارغ التحصیل کریں گے تو بے روزگاری کا مسئلہ ضرور پیدا ہوگا مگر پڑھی لکھی نوجوان نسل کے وقار میں کتنا اضافہ ہوگا اور آزادکشمیر کے طلباء کی قومی اور بین الاقوامی سطح پر کتنی مانگ ہوگی اسکا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
اسی طرح منگلا سے میرپور شہر اور میرپور شہر سے جڑی کس تک دو رویہ سڑکیں ، میرپور شہر میں سات کے قریب پبلک پارکوں کا قیام بھی اپنی جگہ تاریخی کارنامے ہیں، چوہدری عبدالمجید جو میرپور شہر کے رہائشی بھی ہے کے حوالہ سے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنے حلقہ انتخاب کے فنڈز بھی میرپور شہر کی خوبصورتی پر لگا دیئے۔ پانچ برس قبل جو میرپور شہر تھا اب اس میں بہت زیادہ تبدیلی رونما ہو چکی ہے۔ میرپور شہر کی ترقی کے منصوبے جب پایہ تکمیل کو پہنچیں گے تو یقیناًلوگ چوہدری عبدالمجید کو یاد کریں گے، میرپور شہر میں سکھیاں کے مقام پر بنایا جانے والا آزادکشمیر کا پہلا والک ٹریک پارک اپنی مثال آپ ہے۔گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے اس پارک کی تختی کاافتتاح میرپور اسٹیڈیم میں کیا جو اگلے دنوں پارک میں نصب کر دی جائے گی۔ پارک کی تکمیل آخری مراحل میں ہے اور جب یہ پارک مکمل ہو کر شہریوں کی چہل قدمی کے لئے کھلے گا تو منگلا ڈیم کے نظارے کرتے شہری چوہدری عبدالمجید کو ضرور دعائیں دیا کریں گے۔ اسی طرح مجید حکومت کے آنے سے پہلے میرپور شہر میں قبرستانوں میں لاشیں دفنانے پر لڑائیاں ہوا کرتی تھی اور کوئی غریب مر جاتا تو پورے شہر کا چکر کاٹ کر بھی اسکو بڑی مشکل سے کسی قبرستان میں دو گز جگہ ملا کرتی تھی، اس مسئلہ کے پیش نظر چوہدری عبدالمجید نے چترپڑی کے مقام پر 23 ہزار کنال رقبہ قبرستان کے لئے منظور کیا اب شہر میں قبروں پر بھی لڑائی نہیں ہوا کرے گی اور میرپور منگلا مرکزی شاہراہ پر واقع اس قیمتی رقبہ پر قبضہ مافیا نے جو نظریں گاڑھ رکھی تھیں انہیں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح نیوسٹی کے مقام پر سپورٹس سٹیڈیم کی منظوری، انڈور گیمز کمپلیس کا قیام بھی اپنی جگہ اہم کارنامے قرار دیے جاسکتے ہیں۔ اسی طرح میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کے قیام کے حوالہ سے چوہدری عبدالمجید کی شروع دن سے کاوشیں لائق تحسین رہی ہیں مگر وفاقی حکومتوں نے اسکی منظوری سے پس و پیش سے کام لیا، تاہم چوہدری عبدالمجید جاتے جاتے ائیرپورٹ کو اگلی حکومتوں کے گلے کی ہڈی بنا گئے ہیں، انہوں نے بلاول بھٹو زرداری سے میرپور انٹرنیشنل ائیرپورٹ کا افتتاح تو کروا دیا جو کہ بلاول بھٹو تو دور چوہدری عبدالمجید کے دائرہ کار میں بھی نہیں آتا مگر وزیراعظم آزادکشمیر کے نوٹیفکیشن کو منسوخ کرنا بھی اگلی حکومت کے بس کی بات نہ ہوگی اور اس پر کام کرنا منسوخی سے بڑا چیلنج بن کر سامنے آئے گا۔
چوہدری عبدالمجید کا ان تمام کارناموں پر بھاری سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے آزادکشمیر بھر میں امیرغریب کا فرق رکھے بغیر سیاسی کارکنوں کے وسیع پیمانے پر ایڈجسٹمنٹ کی۔ رنگ ساز، دیگیں پکانے والے، یاماہا موٹر سائیکل پر شہر میں پارٹی کے جھنڈے لگانے والے کارکن مشیر، کوارڈنیٹر تعینات ہوئے اور بڑی تعداد میں کارکنوں کو سرکاری محکموں میں نوکریاں دی گئیں، آزادکشمیر میں بہت کم کارکنان ایسے ہونگے جو کسی وجہ سے ایڈجسٹ نہیں ہو سکے، وزیراعظم ہاؤس کے دروازے عام لوگوں کے لئے کھول دیئے گئے اور پورے پانچ سال چوہدری عبدالمجید کے گھر واقع سیکٹر ایف ٹو میرپور کا دروازہ بند نہیں کیا گیا، ہر خاص و عام کو آزادی حاصل رہی کہ وہ براہ راست وزیراعظم سے مل کر اپنا مسئلہ بیان کرے، یہ الگ بات ہے کہ چوہدری عبدالمجید کی زبان سے خائف لوگ ان سے ملنے کم ہی جایا کرتے تھے کیونکہ جو لوگ شروع شروع میں وفد لیکر جاتے تھے دوبارہ ملنے کی حسرت نہیں رہتی تھی پھر بھی آج تک یہ رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ کوئی شہری اپنا مسئلہ لیکر وزیراعظم کے پاس گیا ہو اور وزیراعظم سے کھری کھری سننے کے بعد اسکا مسئلہ حل نہ ہوا ہو۔
اب انتخابات کی آمد آمد ہے،لال سپاہی کا بیٹا شائد دوبارہ کبھی وزیراعظم نہ بن پائے مگر جب روایتی حکمرانوں کے پاس دوبارہ سے مسند اقتدار آئے گی اور بیوروکریسی میں گھرے وزراء اعظم سے ملنے کیلئے جب سیاسی کارکنوں کو دو دو گھنٹے انتظار کے بعد کسی بیوروکریٹ کی منت سماجت کر کے وزیراعظم سے ملنے کا موقع ملے گا تو وہ وزیراعظم سے مل کر صرف اتنا ہی بتا پائے گا کہ جناب پانچ سال جماعت کے ساتھ کام کرتارہا ہوں اور مجھے دو گھنٹے باہر بٹھایا گیا ہے کہ اسکی ملاقات کا وقت ختم ہو جائے گا، جب سیاسی کارکنوں پر سرمایہ دار بھاری پڑ جائیں گے اور ناشتے اور کھانے کھلا کر غریب کارکنوں کو کسی دور افتادہ مقام پر پہنچا دیا جائے گا ، سیاسی پوسٹوں پر بااثر اور سرمایہ کے حامل لوگ براجمان ہونگے، پارٹی کے لیڈران جب ایک عام کارکن کو پہچاننے سے انکار کر دیں گے ، جب ایک چوہدری ریاض کے مقابلے میں پانچ پانچ چوہدری ریاضوں کا تسلط قائم ہوگا ،تب انہیں چوہدری عبدالمجید کی بہت یاد آئے گی مگر شائد پھر کبھی لال سپاہی کا بیٹا وزیراعظم نہ بن سکے۔۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں