47

صوبائی حکومت کی طرف سے عوام کو صحت کی سہولیات دینے کے دعوے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں دھرے کے دھرے رہ گئے

چترال ( محکم الدین سے) صوبائی حکومت کی طرف سے عوام کو صحت کی سہولیات دینے کے دعوے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں دھرے کے دھرے رہ گئے ۔اور لوگوں کیلئے علاج تو دور کی بات ، او پی ڈی چٹ کا حصول جان جوکھوں کا کام بن گیا ۔ جبکہ ہسپتال انتظامیہ اپنی بے بسی کا رونا رونے پر مجبور ہے ۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال انتظامیہ کی غفلت اور انتظامی بد نظمی کی وجہ سے چترال کے دورو دراز علاقوں سے علاج کیلئے آنے والے مردو خواتین مریضوں کو جن مشکلات سے گزرنا پڑتا ہے ۔ وہ ناقابل بیان ہے ۔ ہسپتال میں مرد و خواتین مریضوں کی او پی ڈی چٹ کے لئے صرف ایک کھڑکی کھول دی گئی ہے ۔ جس میں بد نظمی ، ہاتھا پائی ، گالم گلوچ روز کا معمول بن گیا ہے ۔ اور خواتین مردوں کے اس دھینگامشتی دیکھ کر بغیر ڈاکٹروں سے ملے واپس اپنے گھروں کو جانے میں عافیت سمجھتی ہیں ۔ کیونکہ اُن کیلئے علیحدہ اوپی ڈی کاونٹر نہیں ۔ اس لئے وہ مردوں کے اس رش میں چٹ حاصل کرنے سے قاصر رہتی ہیں ۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ کو اس کا ذرا برابر احساس نہیں ۔ کہ اس کیلئے اپنے دو کلاس فور متعین کرے ، پولیس بلائے یا خواتین کیلئے سابقہ کی طرح الگ کاونٹر کھولے ۔ ہسپتال کے خواتین او پی ڈی کاونٹر پر پیرا میڈیکل ایسوسی ایشن نے بورڈ آویزان کرکے قبضہ کیا ہوا ہے ۔ جہاں خواتین خود انتہائی آسانی سے او پی ڈی چٹ حاصل کرتی تھیں۔ پیر کے روز ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں مریضوں کا ہجوم اور ہسپتال انتظامیہ کی بدانتظامی نے صوبائی حکومت کے طبی سہولیات کے دعووں کی قلعی کھول دی ۔ جب دور دراز سے صبح سویرے آئے ہوئے مریضوں کا رش بڑھ گیا اور او پی ڈی چٹ کے لئے آپس میں گھتم گھتا ہوئے ۔ ا س دوران دو مریض اس رش میں پھنس کر بے ہوش ہوئے۔ مروئے سے تعلق رکھنے والے ایک مریض نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ بد نظمی کی وجہ سے وہ صبح سویرے آنے کے باوجود او پی ڈی چٹ حاصل نہیں کر سکے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ ایک سوچے سمجھے سازش کے تحت مریضوں کو کلنک کی طرف جانے پر مجبور کرنے کیلئے یہ حالات بنائے گئے ہیں ۔ مریضوں کو قطاروں میں بھی کھڑا کرکے نظم ضبط قائم کیا جا سکتا ہے ۔ لیکن ہسپتال میں سب بے بس افراد کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ ایک مریض خاتون نے کہا ۔ کہ صحت کی سہولیات کی فراہمی کا دعوی کرنے والے یہ تو دیکھیں ۔ کہ خواتین پر کیا گزر رہی ہے ۔ کیا خواتین کیلئے الگ او پی ڈی نہیں کھولی جاسکتی ۔ اس سلسلے میں جب ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال ڈاکٹر فیض الملک جیلانی سے رابطہ کیا گیا۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ مریض اور اُن کے معاونین نظم و ضبط قائم کرنے میں ہسپتال انتظامیہ کا ساتھ نہیں دے رہے ۔ حالانکہ قطاروں میں نہایت آسانی سے سب کو موقع مل سکتا ہے ، انہوں نے کہا ۔ کہ خواتین او پی ڈی الگ نہیں کی جا سکتی اور لوگوں کا یہ رش و دھکم پیل روز کا معمول ہے ، کوئی غیر متوقع واقعہ نہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں