33

وزیر خزانہ سے چترال ایوان تجارت وفدکی ملاقات، چترال میں ڈالر اکاؤنٹ و فاریکس ایکسچینج، دروش اور بونی میں بینک آف خیبر کی نئی شاخیں کھولنے کااعلان

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ صوبے میں صنعتی و معاشی زونز کے قیام کے علاوہ مقامی و گھریلو صنعتوں اور روزگار کے امکانات میں اضافہ اگلے مالی سال کیلئے ہمارے بجٹ ترجیحات میں سرفہرست ہیں چترال پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے جہاں کا قدرتی حسن، لوگوں کی مہمان نوازی، حب الوطنی، جفاکشی اور مذہب سے لگاؤ کی پوری دنیا معترف ہے ہماری شروع دن سے کوشش ہے کہ یہاں مقامی صنعت و حرفت اور توانائی و سیاحت کے منصوبوں کو فروغ دیکر روزگار کے مواقع بڑھائے جائیں چترال میں سیلاب سے تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے ہمہ گیر پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے وہ چترال ایوان صنعت و تجارت کے آٹھ رکنی وفد سے باتیں کررہے تھے جس نے سرتاج احمد خان کی زیر قیادت سول سیکرٹریٹ پشاور میں ان سے ملاقات کی اورانہیں مقامی صنعت و تجارت کے سلسلے میں درپیش مسائل ومشکلات سے آگاہ کرنے کے علاوہ ترقیاتی منصوبوں اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق دیگر معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا وفد میں انجمن تاجران چترالی بازار کے صدر عبدالرزاق بھی شامل تھے وفد کی طرف سے پیش کردہ مسائل و مطالبات پر وزیرخزانہ نے یقین دلایا کہ چترال میں ڈالر اکاؤنٹ و فاریکس ایکسچینج، دروش اور بونی میں بینک آف خیبر کی نئی شاخیں کھولنے، صوبائی فنانس کمیشن میں چترال کے مناسب کوٹے، چکدرہ سے لیکر ارندو تک مناسب جگہ ڈرائی پورٹ کے قیام اور مقامی معدنیات، پن بجلی اور جنگلات وسیاحت کے مواقع سے استفادے کیلئے بلاسود قرضوں کی فراہمی پر ہمدردانہ غور کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ انہوں نے ذاتی تگ و دو کرکے وفاق سے حالیہ پی ایس ڈی پی میں چترال کی دو بڑی شاہراہیں بونی شندور اور تور کھو روڈ کی تعمیر کی منظور کرالی ہیں اور ہماری بھرپور کوشش ہے کہ اس وسیع ضلع میں سیلاب سے متاثرہ انفراسٹرکچر اور مواصلاتی نظام کو عالمی معیار پر بحال کیا جائے انہوں نے کہا کہ چترال سے ملحقہ ہمسایہ ملک افغانستان اور وسطی ایشیاء تک تجارتی راستوں کی ترقی ہمارے اہداف میں شامل ہے جس سے مقامی لوگ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستانی عوام کے معاشی فوائد وابستہ ہیں انہوں نے دریائے کابل کو دریائے چترال سے موسوم کرنے سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ یہ نام غلط فہمی کے سبب پڑا ہے ورنہ یہ دریا چترال میں سینکڑوں میل کا سفر طے کرکے جلال آباد سے ہوتا ہوا وارسک کے راستے پشاور میں داخل ہوتا ہے اور کابل سے اس کا دور کا بھی واسطہ نہیں تاہم انہوں نے کہا کہ چترال سمیت صوبے کے وسائل اور افرادی قوت کی ترقی ہماری توجہ کا محور ہے تاکہ ہم زندگی کے ہر میدان میں ترقی کرسکیں اسی طرح تجارت و صنعتکاری ہماری اولین ضرورت ہے جو صوبے کی پسماندگی، غربت اور بیروزگاری کے خاتمے کے علاوہ یہاں کی معاشی خوشحالی کی ضامن بن سکتی ہے اگرچہ ماضی کی غلط پالیسیوں کے سبب خیبرپختونخوا صنعتوں کیلئے سازگار صوبہ نہیں رہا اور رہی سہی صنعتیں بھی دم توڑ رہی ہیں مگر ہم ایسا مزید نہیں ہونے دینگے اس ضمن میں ہم نے بعض بنیادی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے ہم اپنی تاجر اور صنعتکار برادری کو بھی اعتماد میں لینا ضروری سمجھتے ہیں ہم سرکاری محکموں کے سرخ فیتے کا نظام ختم کر رہے ہیں آئندہ سرکاری محکموں کا ہر کام فوری اور ون ونڈو آپریشن کے تحت ہو گا صنعتکاروں کا بھی فرض ہے کہ آگے بڑھ کر ہمارے ساتھ تعاون کریں انہوں نے صنعتکار اور تاجر برادری پر زورد یا ہے کہ ہمیں اپنی تجاویز دیں اور صوبے میں کاروباری اور صنعتی ترقی کیلئے حکومت کی کوششوں سے فائدہ اٹھائیں انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کرپشن کے خاتمے اور ہر سطح پر میرٹ، انصاف اور قانون کی بالادستی یقینی بنانے کیلئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے تاکہ صنعت و کاروبار سمیت ہر شعبہ ترقی کی ڈگر پر چل پڑے صوبے کے اندر سرمایہ کاری کی ترغیب کیلئے صنعتوں کو سستی بجلی کی فراہمی اور تمام انڈسٹریل زونز کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے علاوہ دیگر کئی پالیسی اقدامات بھی شامل ہیں ملاکنڈ سمیت اہم تجارتی مقامات پر پانچ نئے صنعتی زون قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے ہماری حکومت نئی صنعتیں لگانے کے خواہش مند صنعتکاروں اور سرمایہ کاروں کو پرکشش مراعات کے ساتھ ساتھ اُنہیں درکار تمام سہولیات اور گارنٹیاں دے رہی ہے تاکہ صنعتوں کو ترقی دیکر نہ صرف صوبے کی تباہ حال معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے بلکہ یہاں کے لوگوں بالخصوص نوجوانوں کو کاروبار اور ترقی کے زیادہ سے زیادہ مواقع فراہم کئے جا سکیں صنعتوں کی ترقی کیلئے فنی تعلیم کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ صوبائی حکومت سرکاری فنی تعلیمی اداروں میں دی جانے والی تعلیم و تربیت کو جدید سائنسی خطو ط پر استوار کرنے اور اسے ہر علاقے کی مقامی صنعتوں کی ضروریات اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کر رہی ہے انہوں نے وفد کے دیگر مسائل حل کرنے کی یقین دہانی بھی کرائی وفد نے کاروباری مشکلات کے حل کیلئے اقدامات پر وزیرخزانہ کا شکریہ ادا کیا انہوں نے کرپشن کے خاتمے اور نظام کی تبدیلی کے ایجنڈے کے سو فیصد اہداف حاصل کرنے میں اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں