52

وزیر خزانہ کا خیبر پختونخوا میں غیراعلانیہ اور ناروا لوڈشیڈنگ پر انتہائی تشویش کا اظہار

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے صوبے بالخصوص دیر پائیں میں غیراعلانیہ اور ناروا لوڈشیڈنگ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واپڈا حکام کو سختی سے تاکید کی ہے کہ وہ وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کا بھرم رکھتے ہوئے کم از کم رمضان جیسے با برکت مہینے کے تقدس اور عوام کی مشکلات کے پیش نظر سحر،افطار اور تراویح کے اوقات میں بجلی بند کرنے سے گریز کریں اسکی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائیں اور صوبائی حکومت کے دئیے ہوئے شیڈول کے مطابق کوشش کریں کہ شام 7سے رات 10بجے اور رات2تاعلی الصبح 4بجے لوڈ شیڈنگ بالکل نہ ہو یہ ہدایت انہوں نے واپڈا ہاؤس پشاور میں پیسکو چیف انوارالحق سے خصوصی ملاقات اور لوڈ مینجمنٹ سے متعلق اجلاس میں جاری کی پیسکو چیف نے یقین دلایا کہ رمضان المبارک میں لوڈ شیڈنگ کم سے کم سطح پر لانے کیلئے موثر اقدامات کئے جا رہے ہیں تاہم لوڈشیڈنگ بڑھنے کی اصل وجہ گرمی کی شدت اور بجلی کی کھپت میں اضافہ ہے انہوں نے بتایا کہ دیر پائیں سمیت صوبے بھر میں وولٹیج کا مسئلہ تقریبا حل کر دیا گیا ہے اور گرڈز کو بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ اضلاع کی سطح پر اضافی ٹرانسفارمر مہیا کر دئیے گئے ہیں جس پر وزیرخزانہ نے اطمینان کا اظہار کیا تاہم غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر بطور خاص تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پوری صوبائی کابینہ اور صوبائی حکومت کے تحفظات سے وفاق کو اگاہ کرنے کی ہدایت کی اور بتایا کہ اپنی ضرورت سے زیادہ اور سستی بجلی پیدا کرنے والے ہمارے صوبے میں سب سے زیادہ لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے جو ہر طرح سے بے انصافی ہے اس ظالمانہ لوڈ شیڈنگ کی وجہ سے اکثر علاقوں میں خواتین اور بچے شدید گرمی میں ٹرپنے کے علاوہ ٹیوب ویل بند ہونے کی وجہ سے پینے کا پانی بھی ناپید ہو جاتا ہے اور مساجد میں وضو اور دیگر عبادات تک مشکل بن جاتے ہیں انہوں نے کہا کہ انہیں ملک میں بجلی کی کمی کا احساس ہے لیکن منتخب نمائندے کی حیثیت سے ہمیں عوام کی مشکلات اور احساسات کا بھی پورا خیال ہے کیونکہ اس میں عوام کا کوئی قصور نہیں پیسکو عوام دوست رویہ اپنائے اور ناگزیر لوڈ شیڈنگ پر حکومت کو اعتماد میں لے تو ہم بھی عوام کو سمجھانے کی پوزیشن میں ہونگے اور کہیں بھی عوامی احتجاج کی نوبت نہیں آئے گی انہوں نے واضح کیا کہ نہ صرف دیرپائیں بلکہ صوبے کے کسی بھی حصے میں شیڈول سے ہٹ کر لوڈ شیڈنگ کسی صورت قابل قبول نہیں کی جائے گی انہوں نے کہا کہ اگر واپڈا اپنی پرانی لائنیں تبدیل اور لائن لاسز کم کرے تو لوڈ شیڈنگ پر کافی حد تک قابو پایا جا سکتا ہے انہوں نے کہا کہ اٹھارہویں آئینی ترمیم کے بعد اب دیگر صوبوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ خیبر پختونخوا کی تقلید کرتے ہوئے بجلی پیداکرنے کے اپنے منصوبے شروع کریں تاکہ لوڈ شیڈنگکا جلد سدباب ممکن ہو انہوں نے کہا کہ ہماری صوبائی حکومت بجلی کی پیداوار بڑھانے کیلئے تندہی سے تگ و دو کر رہی ہے اور اب تک اربوں روپے کی لاگت سے سینکڑوں پن بجلی گھروں کی پلاننگ مکمل کی گئی ہے جن میں سے دو منصوبوں کا ہو افتتاح ہو چکا ہے اور مزید پانچ منصوبے زیرتکمیل ہیں البتہ تب بھی واپڈا کی ذمہ داری ختم نہیں ہو جاتی بلکہ اس میں کئی گنا اضافہ ہو جاتا ہے اور اگر واپڈا عوام کی تکالیف کا جلد مداوا نہ کر سکے تو یہ پھر محکمہ نہیں بلکہ سفید ہاتھی کہلائے گا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں