281

(تعارف)ڈپٹی اسپیکرخیبرپختونخوا ثریابی بی ۔۔۔۔تحریر:حمیدالرحمن حقی

بااخلاق اور باکمال اور نہایت اثر روسوخ کے حامل باوقار نفیس و مستقل مزاج اور شریف النفس شائستہ گفتار و کردار کے حامل اور خدمت خلق کے جزبے سے سرشار مشہور ومعروف سماجی و سیاسی شخصیت چیرمین نور عالم خان(مرحوم) کی صاحبزادی اور چترال کی قابل فخر بیٹی محترمہ ثریا بی بی 4 جنوری 1979 کو ضلع اپر چترال کے انتہائی دور افتادہ گاوں آوی کے موضع سینگھاندہ کے قدیم الایام سیاسی گھرانے میں پیدا ہوئی، ابتدائی تعلیم و تربیت گورنمنٹ پرائمری سکول آوی سے حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم وتربیت گورنمنٹ ہائی سکول بونی سے بہتریں نمبروں کیساتھ پاس کی..اپنی تعلیمی سالوں کے دوراں ثریا بی بی ایک باہمت و بآادب اور ہونہار و نہایت ذہین و فطین طالبہ کے طور پر جانی جاتی تھی، تاہم سخت ترین تعلیمی مشکلات اور دور دراز سفری مشکلات اور مقامی طالبات کے لئے حصول تعلیم میں درپیش مختلف دشواریوں کے باوجود اپنی تعلیمی سفر جاری رکھتے ہوے بالترتیب سوشیالوجی اور اردو مضامین میں ایم اے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مقامی پرائیوٹ آساس پبلک سکول سے بطور پرنسپل اپنی کئرئیر کے آغاز کی،اور نہایت طویل عرصے تک بحیثیت ایک نہایت بہترین منتظم، معلمہ و استانی علاقے میں علم کی شمع جلانے میں کردار ادا کرتے ہوے مقامی بہن بیٹیوں کو علم کی روشنی سے روشناس کراتی رہی،…. چونکہ محترمہ علاقے کی ایک قد آور علمی سیاسی اور سماجی اثررسوخ کے حامل خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے ایک عرصے تک درس و تدریس کے شعبے کیساتھ منسلک رہنے کے بعد علاقے کی پسماندگی کو دیکھتے ہوے مقامی خواتین کو باختیار بنانے اور ان کی بھرپور آواز بلند کرنے کی خاطر درس و تدریس کیساتھ ساتھ باقاعدہ طور پر سیاسی اور سماجی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لینی شروع کی……..چونکہ ثریا بی بی کے دادا “چھیرمن حاکم آف ریشن” چترال کے شاہی دور حکومت میں شاہی دربار کے رکنِ خاص ہونے اور ایک وسیع علاقے میں بحیثیت حاکم مقرر ہونے کے علاوہ ایک دور اندیش سیاسی امور کے جانے جاتے شخصیت تھے،جبکہ ریاستی دور حکومت کے بعد ان کے بیٹے نور عالم (مرحوم) نے وراثت میں ملی سیاست کو اپنا کیرئیر بناتے ہوے بانی رکن کے طور پر مسلم لیگ میں شامل ہوے ، اور اپنی سیاسی بصیرت کیساتھ مسلسل اٹھارہ سال تک مقامی سطح پر ڈسٹرکٹ کونسل کے وائس چیرمین رہتے ہوے علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں بھرپور کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اولاد کی بھی خوب سیاسی تربیت کرتے رہے،جس کی بنا موصوف کی دختر نیک اختر ثریا بی بی بھی باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوے باپ کیساتھ ملکر باقاعدہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کیے،اور قلیل عرصے میں ہی مسلم لیگ کے پلیٹ فارم سے ایک مقامی خاتون سیاسی کارکن کے طور پر ابھر آئی،لیکن مسلم لیگ کی طرف سے مقامی خواتین کی جانب توجہ کے فقدان اور خواتین پلیٹ فارمز کی عدم دستیابی کے باعث محترمہ ثریا بی بی سن 2007 میں مسلم لیگ چھوڑ کر باقاعدہ طور پر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرتے ہوے پارٹی میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنانے کیلیے دن رات محنت کرتی رہی،اور 2008 کے عام انتخابات میں پارٹی اور پارٹی منشور کو گھر گھر پہنچانے میں بھرپور کردار ادا کرتے ہوے دیکھتے ہی دیکھتے مقامی خواتین کی تنظیم سازی اور پارٹی مفاد کی خاطر دور دراز علاقوں میں خواتین کو متحد کرنے کے علاوہ 2013 اور 2018 کے عام انتخابات میں پارٹی کے لیے ایک اچھی خاصی ووٹ بنک بنا ڈالی،اس دوران جگہ جگہ پارٹی کیلیے ووٹ کمپینر اور پولنگ ایجنٹ بھی کام کرتی رہی،جبکہ 2021 کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کے خواتین امیدواروں کیلیے پورے چترال میں بھرپور الیکشن مہم چلائی، جس کے نتیجے میں 139 خواتین کونسلرز پارٹی ٹکٹس پر کامیاب ہوئیں، اس دوران وائس پریزیدنٹ خواتین ونگ ملاکنڈ دویژن بھی رہے اور پارٹی سطح پر خواتین کی نمائندگی کرتے ہوے پارٹی کے بانی چیرمین اور اس وقت کے وزیر اعلیٰ محمود خان کیساتھ وقتا فوقتا ملاقات کرتے ہوئے مقامی خواتین کے مسائل حل کرنے کی بھرپور کوشش کرتی رہی، جبکہ 2022 کے رجیم چینچ اپریشن کے بعد ایک مخلص پارٹی کارکن کے طور پر صف اول کا کردار کرتے ہوے ملک بھر میں جاری مختلف دھرنوں اور جلسے جلسوں میں شامل ہوکر پارٹی اور پارٹی قائد کیلیے مصیبت و تکالیف برداشت کرتی رہی…یوں پارٹی کیساتھ بے لوث محبت، ہمدردی اور وفاداری کو دیکھتے ہوے حالیہ جنرل الیکشن میں موصوفہ کو پارٹی ٹکٹ ملنے کے بعد بطور خاتون امیدوار الیکشن لڑتے ہوے چترال کی تاریخ میں پہلی جبکہ خیبر پختونخواہ کی واحد الیکٹیڈ خاتون ممبر صوبائی اسمبلی ہوکر ڈپٹی اسپیکر خیبر پختونخواہ منتخب ہوئی…… محترمہ چترال کے معروف نام چھیرمن حاکم کی پوتی، مشہور سیاسی شخصیت چیرمین نور عالم ( مرحوم) کی دختر نیک اختر جبکہ نوجوان سماجی کارکن نوری عالم کی زوجہ اور چترال کے نامور پولو پلئیر اسرار عالم اور اقبال عالم کی چھوٹی بہن کے علاوہ اپر چترال کی قابل فخر بیٹی ہیں، پروردگار چترال کی قابل فخر بیٹی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے… امین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں