86

مسائل مگر ہیں نہیں۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

گزشتہ دنوں کسی کام کے پیش نظر ایک مہربان قلم کارساتھی امجد علی سحاب جوایک مؤقرروزنامہ اخبارکے ادارتی صفحہ کے انچارج اوربہترین لکھاری ہیں کے ساتھ موبائل ٹیکسٹ میسجنگ ہوئی۔میں نے ان سے اپنے کالمز میں کمی بیشی کے حوالے سے دریافت کیاتوانہوں نے جواباََ میری تعریف کی جوکہ ان کی زرہ نوازی ہے البتہ اپنی تعریف سن کرخوش ہوناانسانی فطرت ہے سوان کی جانب سے میرے لئے بھیجے گئے تعریفی کلمات پڑھ کرمجھے بھی فطری خوشی ملی لیکن یہ خوشی دیرپاثابت نہیں ہوئی کیونکہ تعریف کرنے کے ساتھ ہی انہوں نے مجھے مسائل پرکام کرنے کا مشورہ دیاامجدعلی سحاب کامشورہ سرآنکھوں پرلیکن مشکل یہ ہے کہ نظریں چارکرکے میں نے اپنے گردوپیش کے حالات اور معاشرتی زندگی کی رواں صورتحال کاہرزاویئے سے تفصیلی اور تقابلی جائزہ لیامگر مجھے کہیں پرکوئی بھی مسئلہ نظرنہیں آیا۔میں نے سڑکوں کا جائزہ لیاتوکوئی بھی سڑک کہیں پربھی ٹوٹ پھوٹ کاشکاردکھائی نہیں دی بلکہ ملاکنڈڈویژن کی تمام سڑکیں موٹروے کانظارہ پیش کرتی نظر آئیں۔میں نے یہ بھی جاننے کی کوشش کی کہ کہیں پرکسی بازاریاکسی چوراہے پر ٹریفک جام کے مسائل تونہیں جن سے عوام کومشکلات درپیش ہوں توپتہ چلاکہ کہیں پر بھی ایسانہیں ہے ہر جگہ ٹریفک بلارکاؤٹ رواں دواں جاری رہتی ہے یہاں بھی کوئی مسئلہ نظرنہیں آیاتومیں نے ہسپتالوں کارخ کیاوہاں جاکرپتہ چلاکہ سب کچھ توقع سے زیادہ ٹھیک چل رہاہے، ڈاکٹرزاوردیگرطبی عملہ کی حاضری سوفیصد ہے، مریضوں کاخاص خیال رکھاجارہاہے، انہیں تمام تر ادویات بھی سرکاری طورپر مہیاجبکہ طبی مراکزمیں دن رات سروس فراہم کی جاتی ہے، ہسپتالوں کی صفائی بھی مثالی ہے اور مریضوں کوہسپتال انتظامیہ سے کوئی بھی شکایت نہیں ہے۔ہسپتالوں میں بھی بسیار کریدنے کے کچھ نہ ملاتواب کی بارمیں نے تعلیمی اداروں کی حالت پتہ کرنے کی ٹھان لی مگروہاں کی حالت بھی ہسپتالوں سے کچھ زیادہ مختلف نہیں نکلی اساتذہ حاضر،طلباء کی حاضری سوفیصد، پڑھائی کامعیار اعلیٰ،سکول کی عمارتوں کی حالت اس قدر شاندارکہ کمرے زیادہ اور زیرتعمیرطلباء وطالبات کی تعدادکم،ہر سکول کی چاردیواری اورکھیل کودکی سرگرمیوں کے لئے کشادہ میدان موجود پائے، کلاس رومزمیں بچوں کے بیٹھنے کے لئے بہترین فرنیچر کاانتظام نظرآیا بلکہ اس سے بڑھ کراچھی بات یہ لگی کہ تعلیم مفت کردی گئی ہے زیرتعلیم بچوں سے سالانہ داخلہ فیس لی جاتی ہے نہ امتحان کی داخلہ فیس،سکولوں میں بچوں کوصاف پانی کی فراہمی کابھی انتظام موجودہے ۔تعلیمی حالت جاننے سے فارغ ہواتوبجلی کی لوشیڈنگ اورکم وولٹیج کاکھوج لگانے نکلاتاہم یہاں بھی سب کچھ ٹھیک پایااورپتہ چلاکہ کہیں پر بھی نہ توبجلی کے وولٹیج کی کمی کامسئلہ ہے نہ ہی ایک منٹ کے بجلی کی بندش کامعاملہ، حکومت اپنے اعلانات پر من وعن عمل پیرا اور عوام حکومتی اقدامات سے مطمئن ہیں۔پولیس تھانوں کا حال بھی قابل تعریف ہے روائتی تھانہ کلچر کاخاتمہ ہوچکاہے اورپولیس کسی بھی ناخوشگوارواقعہ کے رونماء ہونے پرنہ صرف بروقت موقع پر پہنچتی ہے بلکہ پولیس تھانہ آنے والے سائلین کے ساتھ اچھابرتاؤبھی کرتی ہے۔غرض یہ کہ مجھے کہیں بھی کوئی مسئلہ نظرنہیں آیاسوقلمکارساتھی امجدعلی سحاب کے مشورے سے مجھے خودمسئلہ لاحق ہوگیاہے کہ جب مسئلہ ہی کوئی نہیں تومسائل پر کام کس طرح کروں۔خیرصحت ،تعلیم، مواصلات،توانائی معاملات اوردیگرشعبوں میں مسائل کا میں نے جونقشہ کھینچاہے مجھے یقین ہے کہ سمجھنے والے میرے اندازتحریرکامطلب سمجھ گئے ہوں گے اوراگرکسی کی سمجھ میں بات نہیں آئی توایک واقعہ شائد فرضی ہوکاذکرقارئین کی نذرکرتاہوں اس یقین کے ساتھ کہ وہ بات کی تہہ تک ضرورپہنچ پائیں گے اوربات کی تہہ تک پہنچنااورکچھ نہیں سوائے اس کے کہ قارئین کووہ ساری باتیں الٹی لگے جومیری تحریر کے آغازسے یہاں تک کاحصہ ہے۔ ہوایوں کہ ایک دفعہ الیکشن میں کھڑے ایک امیدوار نے علاقے کے لوگوں کو جمع کیااوران سے کہاکہ میں چند باتیں آپ کوبتاناضروری سمجھتاہوں تاکہ الیکشن کے بعدہمیں ایک دوسرے سے کوئی گلہ شکوہ نہ ہو۔یہ کہ اگرمیں الیکشن جیت گیاتو صبح نوبجے سے پہلے اور رات نوبجے کے بعد آپ میں سے کوئی بھی شخص میرے گھرآئے گانہ فون پر مجھے تنگ کرے گاکیونکہ یہ وقت میں ہمیشہ اپنے گھروالوں کودیتاہوں۔ پولیس تھانہ، تحصیلدار،پٹواری ،واپڈااورٹی اینڈٹی کے ایس ڈی او سے متعلقہ کسی کام کی سفارش کے لئے آپ لوگ مجھے تکلیف کی زحمت نہیں دیں گے کیونکہ میں اپنے لیول سے کم لوگوں کو سفارش کرنامناسب نہیں سمجھتا۔اگرمیں کسی کے رشتہ دارکی فوتگی پر اس کی جنازہ یاشادی بیاہ کی تقریب میں شریک نہ ہوسکا تو اس پر آپ ناراض نہیں ہوں گے اور ویسے بھی آپ لوگوں کوپتہ ہے کہ غمی خوشی میں شریک ہونامیری عادت نہیں ہے۔ کسی کام کے سلسلے میں میرے گھر آنے والا شخص خالی ہاتھ کبھی نہیں آئے گاکیونکہ میں خالی ہاتھ گھرآنے والوں کوپسند نہیں کرتا۔رہی بات سڑکیں ،سکولز اورہسپتال بنانے ،بجلی کی فراہمی اورمہنگائی اور بے روزگاری پر قابوپانے کی تویہ حکومت کی ذمہ داری ہوگی میری نہیں۔آخری بات یہ کہ اب جبکہ میں الیکشن میں کھڑاہوں تومجھے کامیاب کراناآپ کافرض ہے۔علاقہ مکینوں نے باتیں سن لیں اور چلے گئے اور جب الیکشن کے روز نتیجہ آیاتوپتہ چلاکہ موصوف کوصرف ایک ہی ووٹ پڑاتھاوہ بھی ممکن ہے کہ اس کااپنا تھا۔ اگرچہ موصوف کے ساتھ تووہی سلوک ہواجوہونا چاہئے تھالیکن سچ تویہ ہے کہ موصوف اچھا آدمی تھاکیونکہ اس نے اپنے ووٹرزسے سچ توبولااور سچ بو ل کراپنے منطقی انجام کوپہنچامگرہمارے سیاسی لیڈرزاورمنتخب نمائندے روزہم سے جھوٹ بولتے ہیں،روزسبزباغ دکھادکھاکر ہمیں ورغلاتے ہیں لیکن ہم ہیں کہ ہرباران پر اندھااعتماد کرتے چلے جا رہے ہیں۔شائد قصورہمارے لیڈرزاورمنتخب نمائندوں کانہیں ہے کیونکہ وہ توسیاسی مداری ہیں ہاتھ دکھاکراپنامنجن توبیچیں گے مگر قصور ہمارا ہی ہے کہ ہم جھوٹ اورسچ میں فرق کونہیں سمجھتے ۔ذراسوچئے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں