47

ماہ رمضان کاتقدس اورٹی وی نشریات ۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

المیے کی بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں عموماََ لوگوں سے وہ کام لیاجاتاہے جن کااس کام سے دورکابھی کوئی واسطہ تعلق نہیں ہوتا۔مثال کے طورپر ہمارے ہاں سکولوں میں عربی کے مضمون کامعلم انگریزی ،ریاضی کامعلم اسلامیات اور معاشرتی علوم کامعلم ریاضی کامضمون پڑھارہاہوتا ہے ۔اسی طرح اگرمنتخب حکومتوں کاجائزہ لیاجائے توپیشے کے لحاظ سے میڈیکل ڈاکٹرکوزراعت،سائنس وٹیکنالوجی کے ماہرکومذہبی امور، صنعت کارکوپانی وبجلی،قانون دان کودفاع ،مذہبی امورکے ماہر کوصحت جبکہ ماہرتعلیم کو قانون کی وزارت کاقلمدان سونپاجاتاہے اور یہی عوامل منتخب حکومتوں اور تعلیمی نظام کی پستی،ناکامی اور ناقص کارکردگی کاباعث بن رہے ہیں۔تمہید کے بعدمیں آتاہوں اصل موضوع کی طرف وہ یہ کہ میڈیاکے ذریعے موصولہ اطلاعات کے مطابق پاکستان الیکٹرانک میڈیاریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا)نے رمضان المبارک ٹرانسمیشن کے حوالے سے نجی ٹی وی چینل ٹی وی ون کے پروگرام ’’عشقِ رمضان‘‘ اس کے میزبان شبیرابوطالب اور آج نیوزکے پروگرام ’’رمضان ہمارا ایمان‘‘اوراس کے میزبان حمزہ علی عباسی پر پیمراآرڈیننس 2002کے سیکشن27کے تحت فوری طورپرپابندی لگادی ہے اور یہ اقدام پیمراکے ازخود نوٹس پر نہیں بلکہ ناظرین کی شکایات پراٹھایاگیاہے۔مزیدتفصیل میں بتایا گیا ہے کہ رمضان ٹرانسمیشن کے دوران مذکورہ دونوں پروگرامزمیں پیمراکی ہدایات اورقواعد و ضوابط کونظراندازکیاگیاہے اورغیرضروری متنازعہ بحث چھیڑکر ملک کے مذہبی حلقوں میں اشتعال پھیلایاگیاہے۔بتایا جاتا ہے کہ اس طرح کے پروگرامز نشرہونے کے بعدمذکورہ نجی ٹی وی چینلزکے خلاف پیمراکوصرف چاردنوں میں1133 شکایات موصول ہوئی ہیں اوران شکایات میں ناظرین نے رمضان نشریات کی آڑمیں صرف ریٹنگ کے لئے اس مبارک مہینے کے تقدس کوپامال کیے جانے، متنازعہ فرقہ وارانہ اور متشددانہ گفتگوکے نشر ہونے پر سخت غم وغصے کااظہار کیا ہے۔پیمرانے واضح ہدایات دیتے ہوئے کہاہے کہ مذکورہ دونوں ٹی وی چینل پیمراکی ہدایات پرعملدر آمد یقینی بنائیں بصورت دیگر ان کی نشریات بند کردی جائیں گی۔ پیمراکی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں یہ بھی ہے کہ مذکورہ پروگرامز کے میزبانوں اور ایک شریک گفتگومہمان علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے اگرکسی دوسرے چینل پر اس طرح کی متنازعہ گفتگوکی تواس چینل کے پروگرام کوبھی بندکردیا جائے گا۔بدقسمتی یہ ہے کہ پیمراقوانین بناتی اور الیکٹرانک میڈیاکے لئے وقتاََفوقتاََ ہدایات جاری کرتی رہتی ہے مگرنجی ٹی وی چینلز کی جانب سے ان پر عملدرآمد نہیں کیاجاتا۔ اگرچہ ہمارے ہاں میڈیاآزادہے اوراسے آزاد رہناچاہئے لیکن باعث تشویش امریہ بھی ہے کہ اس آزادی کی آڑمیں ٹی وی چینلزمذہبی اور سیاسی حوالے سے جوکچھ کرتے دکھائی دے رہے ہیں اورمیڈیابالخصوص الیکٹرانک میڈیا نے آزادی کاجومطلب لیاہے اس کی تصویربڑی خوفناک ہے۔ ہرچینل مقابلے کی دوڑمیں شامل ہے اور ریٹنگ کے کلچرنے چینل انتظامیہ کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ رکھی ہیں انہیں آگے کچھ بھی دکھائی نہیں دیتاسوائے اس کے کہ ان کی ریٹنگ اچھی ہو۔ایک دوسرے پر سبقت لینے کی اس دھکم پیل میں نجی ٹی وی چینلزکے ٹاک شوز کے مردوزن اینکرزاوران کے شرکائے گفتگودوران بحث غیرمہذب،غیرپارلیمانی اور انتہائی ناشائستہ اندازاپناتے ہوئے غیرسنجیدگی ،غیرذمہ داری اور اخلاقی اقدارکی پامالی کی تمام حدودپارکرلیتے ہیں اوران کے ذہن میں یہی ہوتاہے کہ وہ آزادہیں ،وہ جوکچھ کررہے ہوتے ہیں یہ ان کاحق ہے اور ان سے پوچھنے والاکوئی نہیں ہے۔کہتے ہیں ایک آدمی کی مرغی روزسونے کاانڈادیتی تھی احمق آدمی نے ہرروزانتظارکرنے کی زحمت سے بچنے اورایک ساتھ تمام انڈے نکالنے کی لالچ میں مرغی ذبح کرلی تواسے ایک ہی انڈاملااور پھروہ سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند ہوگیایہی حال ہمارے الیکٹرانک میڈیاکابھی ہے جو راتوں رات شہرت اور دولت حاصل کرنے کی لالچ میں نظریاتی اساس کھورہاہے ۔میڈیاکے نظرآتے غیرذمہ دارکردارکے تناظرمیں سنسنی خیزی،اشتعال انگیزی اور خوف وہراس پر مبنی پروان چڑھتے میڈیاکلچرکودیکھتے ہوئے شائد یہ کہناغلط نہیں ہوگاکہ میڈیاکی باگ ڈورغیرموزوں لوگوں کے ہاتھوں میں آگئی ہے جس کے باعث سنجیدہ اور معیاری صحافت دم توڑرہی ہے۔صحافت کاچہرہ متنازعہ اورجانبدارہوکرداغ دارہورہاہے اوراطلاعات کی فراہمی کاایک ایساماحول جنم لے رہاہے جس سے قوم مایوسی اوربے چینی میں مبتلادکھائی دیتی ہے۔ ضلع اٹک سے تعلق رکھتے میرے ایک قریبی دوست مدثراسلام ایڈووکیٹ نے گزشتہ دنوں سوشل میڈیاپرایک پوسٹ شیئرکی تھی کہ آج کل فیس بک پر وہ لوگ عالم دین بنے ہوئے ہیں جن کی ٹانگیں نکاح کے وقت اس لئے کانپ رہی ہوتی ہیں کہ کہیں نکاح خواں انہیں کلمے سنانے کانہ کہیں ۔مدثر اسلام کی بات کو ذرامختلف اندازمیں پیش کرتے ہوئے بتاتاچلوں کہ آج کل نجی ٹی وی چینلزکے مذہبی پروگراموں میں ناچ گانے والوں نے علمائے دین کامنصب سنبھالا ہواہے جنہیں شائد کلمے بھی نہیں آتے ہوں گے۔اگرچہ ایسے کئی مثالیں موجودہیں تاہم میں ذکرکروں گاایک نجی ٹی وی چینل کاجس کے ایک پروگرام ’’یارحیم یارحمان۔رمضان رمضان‘‘کی میزبانی پچھلے رمضان میں نامورگلوگاراحمدجہانزیب کررہے تھے اوراس دفعہ اسی پروگرام کے میزبانی کے فرائض ایک اورمشہورگلوکارعلی حیدرانجام دے رہے ہیں اوردلچسپ بات یہ ہے کہ رمضان کے پورے مہینے میں فنکارعالم صوفیانہ کلام گاتے ،نعتیں پڑھتے اور مذہبی گفتگوکرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن عیدکے خصوصی ٹرانسمیشن میں واپس اپنے اصلی حالت میں آکر نہ صرف ناچ گانے کے پروگراموں کے میزبانی کررہے ہوتے ہیں بلکہ خودبھی ناچتے ،جھومتے اور گاتے نظرآتے ہیں جس سے یہ اندازہ لگانامشکل نہیں کہ وہ توفنکارہیں اورفنکارکاکام اوراس اصل پہچان ہی یہی ہے کہ وہ روپ دھارے گا لیکن اگر ٹی وی چینل والے محض اپنی ریٹنگ بڑھانے کی خاطر ایسے بہروپیوں کوبھاری معاوضہ پر رمضان جیسے مقدس اور بابرکت مہینے کے خصوصی ٹرانسمیشن کے میزبان بناکر ٹی وی سکرین پر سامنے لاتے ہیں تویہ دین کے ساتھ مذاق والی بات ہے اورپھر ناظرین ایسے پروگراموں پر انگلی تواٹھائیں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں