86

کے پی پولیس دنیا کی بہترین فورس بن چکی ہے ۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ کا دعویٰ ہے کہ ہماری پولیس ملک کی بہترین اور مثالی فور س بن چکی ہے ہماری کوشش ہے کہ یہ پوری دنیاکی منظم ترین اور عوام دوست پولیس بن کر ابھرے اور اس مقصد کیلئے اسے مکمل طو ر پر خود مختار اور ہر قسم کے بیرو نی دباؤسے آزاد و غیر جانبدار بنانے کے ساتھ ساتھ جدید سازوسامان سے لیس کرنا موجودہ حکومت کے اخلاص کا واضح ثبو ت ہے ہم بہتر نتائج کی بنیادپر ا پنی پولیس فورس کو مزید سہولیات اور وسائل کی فراہمی سے بھی دریغ نہیں کرینگے اس امر کا اظہار انہوں نے سنٹرل پولیس آفس پشاور میں انسپکٹر جنرل پولیس ناصر خان درانی سے ملاقات کے موقع پر کیا ملاقات میں صوبے میں امن و امان، صوبائی اورضلعی پبلک سیفٹی کمیشن کی فعا لیت اور پولیس کی ضروریات پوری کرنے اور کارکردگی کو زیادہ فعال بنانے کیلئے متعدد تجاویز اور سفارشات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور ضروری فیصلے کئے گئے وزیر خزانہ نے صوبے سے دہشت گردی، بھتہ خو ری، اغوا ء برائے تاوان، بدا منی اورسماج دشمن عناصر کے خاتمے کیلئے پولیس فورس کے مثالی کردار اوربیش بہاقربانیو ں کا اعتراف اور پولیس فورس کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ نہ صر ف خیبر پختونخواکے عوام بلکہ پوری پاکستانی قوم کو اس پر فخر ہے او ر انکی لازوال قربانیوں کو ہمیشہ یاد بھی رکھا جا ئے گااُنہوں نے کہا کہ پولیس کو جدید تقاضو ں سے اہم آہنگ کرنے کے ساتھ سا تھ پولیس نظام کو شفاف ، غیر جا نبدار ، جو ابدہ اور ذ مہ دار فورس بنانے کیلئے موثر اقدامات کےئے جارہے ہیں انہوں نے کہاکہ صوبے کے پولیس نظام کو مکمل آزاداور اور ہر قسم کی مداخلت سے بھی پاک کردیا گیاہے جسکا اعتراف قومی اور بین الاقوامی سطح پر ہو چکا ہے اُنہوں نے کہا کہ حالیہ بلدیاتی انتخابات کے تناظر میں ریگولر اور کمیونٹی پولیسنگ کو مقامی حکومتوں کی ضروریات سے ہم آہنگ اور عوامی امنگوں کا آئینہ دار بنانے کیلئے مزید دور اس اقدامات اور اصلاحات بھی کئے جارہے ہیں جو وسیع تر قومی مفاد کے حامل ثابت ہونگے مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ نائن الیون اور افغانستان پر امریکی حملے کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کے طویل عر صے کے دو ران خیبرپختونخوا کی پولیس نے شہریوں کی جان ومال اور عزت وآبروکے تحفظ کیلئے جانوں کے نذرانے پیش کےئے عوام کو نشانہ بنانے والی پہلی گولی اپنے سینے پر کھائی اور دہشت گردوں کے خودکش دھماکوں اور بارود کی آگ اپنے خون سے بجھائی ہے انکی بیش بہاقربانیاں ہماری قومی تاریخ کا سنہر ی باب بن چکی ہیں تاہم اُنہو ں نے کہاکہ ہماری پولیس کا ناقابل فراموش کارنامہ صوبے سے دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ اور بدامنی کا مکمل خاتمہ ہے جس نے ابتدائی ٹریننگ نہ ہونے کے باوجود پاک فوج کے شانہ بشانہ ان دیکھے دشمنوں اور دہشت گردوں کی سرکو بی میں کامیابی حاصل کی اوریہ پوری قوم پر ایک بڑا احسان ہے اُنہو ں نے یہ اعتراف بھی کیاکہ ہماری پولیس اپنی انتھک کوششوں کی بدولت صوبے میں اغواء برائے تاوان، چوری، ڈکیتی اور دیگرسماجی برائیوں کا گراف بھی تقریباًنیچے لانے میں کامیاب ہوچکی ہے اور وہ دن دور نہیں جب ہماری فرض شناص پولیس صوبے کو امن و آشتی کاگہوارہ بنانے، وسطی ایشیا کے تجارتی و معاشی مرکزکی حیثیت سے اسکی عظمت رفتہ کی بحالی اور سیاسی ومعاشی استحکام دلانے کا خواب شرمندہ تعبیر بنانے میں صف او ل میں شمار ہوگی ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں