37

افغان مہاجرین کی وطن واپسی کامعاملہ۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

گزشتہ دنوں ایک مؤقر روزنامہ اخبارمیں شائع ہونے والی یہ خبر زیرنظرآئی تھی کہ خیبرپختونخواحکومت نے وفاق کو صوبے میں قانونی اور غیرقانونی 20 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی مدت پوری ہونے کے بعد صوبہ بدر کرنے کی سفارش کی ہے اور اس معاملے پر صوبائی اور وفاقی حکومت نے سفارشات پر مبنی نیاپالیسی ڈرافٹ بھی تیارکرلیا ہے تاہم اس پالیسی کوحتمی شکل دینے کے لئے وزیراعظم اور وزارت سیفران کے ساتھ ساتھ آرمی چیف سے بھی مشاورت کی جائے گی۔خبرمذکورہ کی تفصیل یہ تھی کہ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین کی مدت 31 دسمبر2015کوختم ہوئی تھی جس کے بعد سہ فریقی معاہدے میں پاکستان نے افغان مہاجرین کو30 جون 2016تک مزیدچھ ماہ کی توسیع دی تھی ۔خبرمذکورہ میں ذرائع کے حوالے سے کہاگیاہے کہ جو پالیسی تیارکی گئی ہے اس کے پہلے مرحلے میں یہاں مقیم غیر قانونی افغان مہاجرین کونکالاجائے گاجبکہ افغان مہاجرین کومزید توسیع نہ دینے کا بھی فیصلہ کیاگیاہے تاہم وزارت سیفران نے وزیراعظم کی وطن واپسی تک یہ معاملہ التوا میں رکھاہواہے مزیدیہ کہ گزشتہ دنوں پاک افغان سرحد پر بارڈرمینجمنٹ کے معاملے پردونوں ممالک کے مابین ہونے والی کشیدگی کومدنظررکھتے ہوئے سرحدی نگرانی سے متعلق قوانین کے مطابق سخت ترین پالیسی بنائی گئی ہے جبکہ صوبائی حکومت نے شدت پسندی، اغواء برائے تاوان، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم میں افغان مہاجرین کے ملوث ہونے کے تحفظات سے وفاق کو آگاہ کردیاہے ۔ مگراب میڈیاکے ذریعے موصولہ اطلاعات یہ ہیں کہ افغان مہاجرین کی مزید میزبانی کے معاملے پر وفاق اور صوبہ خیبرپختونخواکے مابین اختلافات سامنے آئے ہیں۔ بتایاجاتاہے کہ افغان مہاجرین کے قیام کی مدت 30 جون کوختم ہونے پر وفاقی حکومت نے صوبے کی سفارشات کو نظرانداز کرتے ہوئے مہاجرین کے قیام میں مزید دوسال کی توسیع کافیصلہ کرلیاہے تاہم خیبرپختونخواحکومت نے یہ فیصلہ ماننے سے انکارکردیاہے جس کے بعد پشاورپولیس نے غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیاہے۔ ادھرصوبائی حکومت کے ترجمان مشتاق غنی نے بتایاہے کہ ان کاصوبہ 30 لاکھ سے زائد مہاجرین کابوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتااوراگر وفاق توسیع کے معاملے پر بضد رہاتوہم مطالبہ کریں گے کہ پنجاب میں کیمپس قائم کرکے مہاجرین کووہاں منتقل کیاجائے۔مشتاق غنی کے مطابق30 جون کے بعد صوبے میں مقیم تمام افغان مہاجرین اپنے کیمپوں تک محدودرہیں گے اورانہیں آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت نہیں ہوگی۔اگرجائزہ لیاجائے توخیبرپختونخواکی موجودہ حکومت شروع دن سے یہاں مقیم افغان مہاجرین کے مزید قیام کی مخالف رہی ہے اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک متعدد بارشدید تحفظات ظاہرکرکے زوردیتے رہے ہیں کہ مہاجرین کوان کے ملک واپس بھیج دیاجائے۔ قطع نظراس کے کہ افغان مہاجرین کو مزید قیام کی توسیع ملتی ہے کہ نہیں تاہم حقیقت احوال یہ ہے کہ پاکستان کم وبیش تیس سالوں سے افغان مہاجرین کو سرآنکھوں پر بٹھاکران کی جومہمان نوازی کرتاآرہاہے وہ نہ صرف لاجواب ہے بلکہ اخوت ومحبت،بھائی چارے، برداشت،انسانی ہمدردی اور عزت وتکریم کی ایسی مثال تاریخ انسانی میں شائد کہیں اور ملتی ہو ۔ پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین چونکہ اپنے نام پر پراپرٹی حاصل نہیں کرسکتے اس لئے ان کے بجلی،ٹیلی فون اورگیس کے کنکشنز،کمرشل اوررہائشی مکانات کی صورت میں پراپرٹی اور ان کی زیراستعمال گاڑیاں مقامی شہریوں کے نام پر رجسٹرڈہیں جبکہ لڑائی جھگڑوں اور دیگر نوعیت کے جرائم میں ملوث ہونے پر تھانہ کچہریوں میں ان کی ضمانتیں بھی پاکستانی شہری ہی کرتے ہیں اور اگرانہیں پاکستانی شہریوں کایہ تعاون حاصل نہ ہوتاتوبجلی ،گیس اور ٹیلی فون جیسی سہولتیں انہیں میسرہوتیں نہ تھانہ کچہریوں سے ضمانت پر رہائی ۔دوسری جانب حکومت اور متعلقہ اداروں نے ریاست پاکستان میں بسنے والے افغان مہاجرین کوسرکاری تعلیمی اداروں میں پڑھائی اور ہسپتالوں میں علاج معالجہ سے بھی نہیں روکاہے۔ یہاں مقیم افغان مہاجرین کے بچے ہرسطح کے تعلیمی اداروں میں پڑھائی جبکہ ہسپتالوں میں ہرقسم کے طبی علاج معالجہ کے لئے جاتے ہیں حالانکہ افغان مہاجرین مریضوں کے باعث ہسپتالوں میں او پی ڈی اورآپریشن کارش اس قدر بڑھ گیاہے کہ اگرصرف پشاور کی بات کی جائے تویہاں لیڈی ریڈنگ ہسپتال، حیات شہید ٹیچنگ ہسپتال، حیات آباد میڈیکل کمپلکس او رکڈنی سنٹر حیات آباد سمیت دیگرطبی مراکز میں اگریومیہ ہزاروں مریضوں کا معائنہ اورسینکڑوں مریضوں کے آپریشن ہوتے ہیں توان میں آدھے سے زیادہ افغان مہاجرین مریض ہی ہوتے ہیں اس صورتحال کے پیش نظربیشترمقامی شہری مریض دن بھرانتظارکرنے کے باوجود بغیرمعائنہ کے واپس لوٹتے ہیں جبکہ شدید تکلیف کے باوجود بھی ا نہیں آپریشن کے لئے مہینوں بعد کی تاریخ ملتی ہے اب اس سے زیادہ پاکستانی حکومت اور شہری کریں بھی توکیا کریں مگر قابل افسوس امریہ ہے کہ یہاں مقیم افغان مہاجرین نے پاکستانیوں کی ہمدردیوں،جذبہ ء اخوت ومحبت اورنیکیوں کاجواب ہمیشہ نفرت سے دیاہے وہ اسٹریٹ کرائمز،بدامنی،انتشار،مذہبی منافرت،لسانی تعصب، منشیات فروشی اور دیگرنوعیت کے غیراخلاقی سرگرمیوں میں ملوث رہ کریہاں کے ریاستی قانون کو چیلنج کرتے رہے ہیں۔کہتے ہیں جوبندہ جہاں رہتاہے وہاں کاقانون اس پرلاگوہوتاہے لیکن پاکستان میں مقیم افغان مہاجرین اس سے بھی خودکومبراسمجھتے ہیں مثال کے طورپروہ رہتے بستے، کھاتے پیتے اورکماتے پاکستان میں ہیں جبکہ روزہ اور عید سعودی عرب کے ساتھ مناتے ہیں۔ بہرحال دیکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت پاکستان میں ان کے مستقبل کاکیافیصلہ کرتی ہے۔ البتہ صوبائی حکومت کے دکھائی دیتے تیوراوروزیراعلیٰ پرویزخٹک کے تحفظات پر مبنی بیانات کی روشنی میں شائد یہ کہناغلط نہیں ہوگا کہ افغان مہاجرین کی وطن واپسی کامعاملہ اگر صوبائی حکومت کے مکمل دائرہ اختیارمیں ہوتا توتبدیلی کے دعویداروں کے ہاتھوں خیبرپختونخوامیں کوئی اورتبدیلی آتی نہ آتی یہاں مقیم افغان مہاجرین اب تک وطن واپس ضرور جاچکے ہوتے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں