76

چترال، شانگلہ، دیر اور ہری پور واقعات پر عنایت اللہ کا اظہار رنج

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبرپختونخوا کے سینئر وزیر برائے بلدیات عنایت اللہ اور وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے چترال کے علاقے ارسون میں خراب موسم اور شدید سیلابی ریلے کے سبب مسجد میں عبادت میں مشغول نمازیوں کے بہہ جانے سمیت جانی ومالی نقصانات پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے انہوں نے رمضان المبارک کی ستائیسویں شب طوفان اور جانی نقصانات کی اطلاع ملنے پر فوری طور پر ضلع ناظم، ضلعی، پی ڈی ایم اے اور الخدمت فاؤنڈیشن کی انتظامیہ سے رابطہ کرکے متاثرہ علاقوں میں ریلیف و امدادی کاروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی جبکہ امدادی کاروائیوں کی نگرانی کے علاوہ وزیراعلیٰ پرویز خٹک، چیف سیکرٹری اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی صورتحال سے لمحہ بہ لمحہ اگاہ کرتے رہے انہوں نے چترال کے زعماء سے رابطوں میں ایک ہفتہ کے دوران مسلسل دوسری بار طوفان و سیلاب سے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دلی رنج وفسوس کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ یہ موسمیآفت دراصل قدرت کا امتحان ہے دونوں وزراء نے دیر بالا و پائیں اور شانگلہ میں بھی خراب موسم کی وجہ سے سیلابی نقصانات پر اظہار افسوس کیا جبکہ متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ضلعی انتظامیہ کی معاونت سے ہنگامی بنیاد پر امدادی کاروائیاں شروع کرنے اور نقصانات کا تخمینہ لگانے کی ہدایت کی انہوں نے صورتحال کی نزاکت کے پیش نظر پی ڈی ایم اے اور صوبے بھر کی ضلعی انتظامیہ کو 24گھنٹے الرٹ رہنے کی کال بھی جاری کی درایں اثناء عنایت اللہ اور مظفر سید ایڈوکیٹ نے ہری پور میں تربیلہ ڈیم کے ٹی فور منصوبے پر کام کے دوران شٹرنگ گرنے کے المناک واقعے پر بھی گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے جس میں چینی انجینئروں سمیت متعدد نوجوان موت کی نظر جبکہ چینی اہلکاروں سمیت کئی افراد زخمی ہوگئے انہوں نے ہری پور کی ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو جائے حادثہ پہنچ کر اور ڈیم اہلکاروں کی معاونت سے لاشیں اور زخمی ملبے سے نکالنے، ہسپتال منتقلی اوردیگر ریلیف کاروائیاں عمل میں لانے کی ہدایت کی انہوں نے اپنے الگ تعزیتی پیغامات میں دونوں واقعات میں جاں بحق افراد کی مغفرت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی جبکہ متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں