38

ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال )خیبرپختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ ملاکنڈ ڈویژن میں کسٹم ایکٹ کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا وفاقی حکومت کی تمام تر کوششوں کے باوجود دہشت گردی اور قدرتی آفات سے تباہ حال ملاکنڈ کے غریب لوگوں پر اس ٹیکس کو نہیں لگنے دیا جائے گا اسی طرح دیر سمیت پورے ملاکنڈ میں ترقی کا عمل تیز کیا جا رہا ہے جس پر یہاں کے تمام نمائندے متفق ہیں وہ دیر پائیں میں زیارت تالاش خٹ کلے روڈ کے افتتاح کے بعد منعقدہ عوامی اجتماع سے خطاب کر رہے تھے جس سے دیگر عمائدین کے علاوہ ڈسٹرکٹ کونسلر فضل قادر، تحصیل کونسلر عنایت الرحمان، یونین کونسلر شمس الرحمان اور الخدمت فاؤنڈیشن کے نمائندے ساجداللہ خان نے بھی خطاب کیا اور تعمیر و ترقی کے میدان میں موجودہ صوبائی حکومت کے اقدامات کو سراہتے ہوئے اپنے اس ضمن میں مکمل تعاون کا ایقین دلایا مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ دیر پائیں کی پسماندگی دور کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں تعلیم،صحت، آبنوشی، آبپاشی، بلدیات اور دیگر تمام شعبوں میں جاری منصوبوں کی تیزی سے تکمیل کے علاوہ نئی سکیمیں بھی شروع کی جا رہی ہیں انہوں نے موقع پر موجود حکام کو تمام جاری اور نئے منصوبے کی جلد اور اعلیٰ معیار کے مطابق مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اسکی بدولت محکموں پر عوام کا اعتماد بڑھے گا جو وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ ماضی میں کرپشن اور ناقص کارکردگی کی وجہ سے محکموں پر سے عوامی اعتماد اٹھ گیا تھا انہوں نے کہا کہ ہم نے پچھلے سال بلدیاتی انتخابات کروا کر حقیقی معنوں میں اختیارات نچلی سطح تک منتقل کئے ہیں جبکہ دیگرصوبوں نے پرانا نظام رائج کیا ہے کیونکہ وہ اختیارات نیچے عوام کو منتقل کرنا نہیں چاہتے انہوں نے کہاکہ کمیشن مافیا اور اپوزیشن جماعتیں ہماری حکومت کے خلاف غلط پروپینگدہ مہم چلارہی ہیں تاہم عوام باشعور ہیں اور کبھی بھی ان کے جھوٹے دعوؤں پر کان نہیں دھریں گے ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ ہم نے سو فیصد کرپشن اور کمیشن ختم کردی ہے مگر سرعام رشوت اور کمیشن تو دور کی بات اب سرکاری اہلکار اب اپنی نوکری ہتھیلی پر رکھ کر رشوت اور کمیشن لے سکیں گے ہم نے آزاد احتساب کمیشن قائم کردیا اور اسکی زد سے اب کوئی نہیں بچ سکے گاانہوں نے کہا کہ ہم صوبے کی ترقی کے لیے پن بجلی کی پیداوار بڑھانے، زرعی انقلاب برپا کرنے اور صوبے کے طو ل وعرض میں زیر زمین پانی کی سطح اونچی کرنے کیلئے چھوٹے آبی ذخائر بنارہے ہیں جس سے زرعی انقلاب برپا ہوگا اور زیر زمین پانی اور خشک چشمے دوبارہ پھوٹیں گے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہماری حکومت نے ابتدائی عرصے میں تمام محکموں میں اصلاحات اور قانون سازی کا کام مکمل کیا اور اب انکے بہتر نتائج عوام محسوس کرنے لگے ہیں اور ہمیں بھی بتاتے ہیں ہم نئے سکول و ہسپتال بنانے اور عمارات کی تعمیر پر خزانہ لٹانے اور عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ بڑھانے کی بجائے پہلے سے موجود اداروں کو اتنا بہتر بنارہے ہیں کہ انکی سہولیات سے عوام مطمئن ہو کر مزید کی ضرورت بھی محسوس نہیں کریں گے آئندہ عوامی مفاد کا ہر ضروری کام اُنکے مطالبے سے پہلے منصوبہ بندی کے تحت خود کار طریقے سے ہو گا سکول و کالج اور یونیورسٹیوں کا معیار اتنا بہتر ہو گا کہ غریب کا بچہ پڑھ لکھ کر بیروزگار نہیں ہو گا آئندہ اُستاد، ڈاکٹر اور ہر سرکاری اہلکار اپنی ڈیوٹی سو فیصد انجام دے گا اور اپنی تنخواہ پر گزارہ کرے گا ورنہ گھر جائے گا اور کوئی دوسرا فرض شناس آدمی اس کی جگہ لے گا احتساب کمیشن کسی غلط کام پروزیر اعلیٰ تک کی سرزنش کر سکے گا معلومات تک رسائی ایکٹ کے تحت کوئی بھی شہری سرکاری معلومات، دستاویزات و اخراجات کی تفصیلات قانونی حق کے طور پر مانگ سکتا ہے خدمات تک رسائی قانون کے تحت ہر شہری کاکام وقت مقررہ پر ہو گا ورنہ انچارج افسر جرمانہ اپنی جیب سے بھرے گا کانفلکیٹ آف انٹرسٹ کے تحت کوئی حکومتی شخص ذاتی کاروبار یا دوسارے معاملات میں اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرسکے گا ہر کام سفارش کے بغیر میرٹ اور انصاف پر ہو گا انہوں نے یقین دلایا کہ صوبے کے دوسرے علاقوں کی طرح دیر پائیں میں بھی ترقی کا ہمہ گیر عمل شروع ہوگا نئے ڈیم بنائے جائیں گے جن سے صوبے کی زرعی معیشت میں بہتری آئے گی تعلیم و صحت سمیت تمام شعبوں کی کارکردگی بھی مزید بہتر بنائی جائے گی اب ترقی کی رفتار تیز ہو گی اُنہوں نے کہا کہ وہ دیر پائیں کے لوگوں کو تمام شعبوں میں سہولیات اور حقوق دلانے میں کسر اُٹھا نہیں رکھیں گے ہم انصا ف، میرٹ اور قانون کی بالادستی ہر سطح پر یقینی بنائیں گے اور عوام بھی اس کا اعتراف ضرور کریں گے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں