95

شندور کی ملکیت کے حوالے سے کوئی بھی بات لاسپور والوں کو قابل قبول نہیں ہوگی،منتخب نمائندوں کاپریس کانفرنس

چترال ( محکم الدین محکم )ڈی آئی جی فرنٹیر کور خیبر پختونخوا قیصر علی ، ڈسٹرکٹ ناظم چترال مغفرت شاہ ، ڈپٹی کمشنر چترال آسامہ احمد وڑائچ نے شندور فیسٹول کے حوالے سے ملاقات کی ہے ۔ جس میں سیکٹر کمانڈر نارتھ بریگیڈیر محمد ضیاء الاسلام اور کمانڈنٹ ہیڈ کوارٹر چترال سکاؤٹس کرنل نظام الدین شاہ بھی موجود تھے ۔ اس ملاقات میں تمام شرکاء نے متفقہ طور پر شندور فیسٹول کو کامیاب بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے ۔ درین اثنا چترال کے عوام کو خبردار کیا گیا ہے ۔ کہ کچھ ملک دُشمن عناصر چترال کے مقبو ل ترین شندور پولو میلے کو منعقد ہونے سے روکنے کیلئے مختلف افواہیں پھیلا رہے ہیں ۔ اس لئے چترال کے لوگ ان افواہوں پر کان نہ دھریں ۔ اور سابقہ کی طرح شندور پولو میلے کو کامیاب بنائیں ۔ جو کہ پروگرام کے مطابق دنیا کے بلند ترین سیاحتی مقام شندور میں 29جولائی تا 31جولائی تین دن منعقد ہو گا ۔ اس اجلاس کے بعد ہی تحصیل کونسلر لاسپور جمال الدین ، ویلج ناظم لاسپور شیر اعظم خان ، شندورفالکن ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر دولت خان نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے ۔ کہ شندور کی ملکیت کے حوالے سے کوئی بھی بات لاسپور والوں کو قابل قبول نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم شندور فیسٹول کو امن کے ماحول میں منعقد کرنا چاہتے ہیں ۔ اور غذر سمیت گلگت کے تمام لوگوں کی میزبانی کو حسب سابق اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں ۔ اور اُن کی راہوں میں انکھیں بچھائیں گے ۔ لیکن شندور کی زمین کی ملکیت میں کوئی سودا بازی قبول نہیں کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ گلگت کے وزیر اعلی کو خوش آمدید کہیں گے ۔ لیکن سپاسنامہ لاسپور کا نمایندہ پیش کرے گا ۔ اگر لاسپور کے نمایندے کو سپاسنامے کی اجازت نہیں ملی ، تو وزیر اعلی گلگت بلتستان بھی تقریر نہیں کر سکے گا ۔ انہوں نے اس بات پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ کہ گلگت سے تعلق رکھنے والے فوجی آفیسروں نے چترال کے لوگوں کے مکانات اور ضلعی انتظامیہ کے شیلٹر گراکر حالات کو خراب کیا ہے ، اور عوام کو مشتعل کیا ہے،اگر یہی swصورت حال رہی تو لاسپور کے بیس ہزار عوام بھر پور مزاحمت کریں گے ۔ اور اپنی زمین کے چپے چپے کا دفاع کریں گے ۔ لاسپور کے عمائدین نے یاد دلایا ۔ کہ جون 1980میں کور کمانڈر پشاور مرزا اسلم بیگ نے چترال انتظامیہ کے ذریعے شندور فیسٹول منعقد کرواکر جنرل ضیاء الحق کو شندور آنے کی دعوت دی ۔ تو بھارتی میڈیا نے شندور کو متنازعہ علاقہ قرار دیا تھا ، گلگت انتظامیہ اور چیف منسٹر کی طرف سے شندور کی ملکیت کا دعوی بھارتی میڈیا کے پرو پگنڈے کا تسلسل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شندور میں لاسپور ویلی کے مختلف دیہات کے ساڑھے چھ سو گھر چار جماعت خانے اور پانچ مساجد موجود ہیں ۔ اور یہ بیس ہزار کی آبادی کا صدیوں سے گرمائی چراگاہ ہے ۔ اس پر ریاستی دور میں اور قیام پاکستان کے بعد بھی کبھی تنازعہ نہیں ہوا ۔ غذرکے لوگ ہمارے بھائی اور رشتے دار ہیں ۔ لیکن ایک سازش کے تحت بھارتی لابی ہمارے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرر ہا ہے ۔ درین اثنا آج ڈی آئی جی ، ضلع ناظم اور دیگر آفیسران کی ملاقات اور فیصلے کے بعد ضلعی انتظامیہ چترال کی طرف سے شندور کے انتظامات میں تیزی آگئی ہے ۔ چترال کی طرف سے پولو کے گھوڑے شندور پہنچ گئے ہیں ۔ اور سیکیورٹی سمیت دیگر ذمہ د ار افراد شندور کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے ہیں ۔ ضلع ناظم چترال مغفرت شاہ نے نمائندے سے خصوصی بات چیت کرتے ہوئے کہا ۔ کہ چترال کے لوگ شندور فیسٹول میں سابقہ کی طرح شرکت کریں گے ۔ اور حسب روایت میزبانی کے فرائض انجام دیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے شرکاء کے جذبات و احساسات کا
خیال رکھنا ضروری ہے ۔ چترال میں شندور فیسٹول کے انعقاد کے حوالے سے بینرز مختلف مقامات میں آویزان کئے گئے ہیں ۔ اور لوگوں کو بھر پور شرکت کی دعوت دی گئی ہے ۔ شندور فیسٹول کا چترال کی تعمیرو ترقی میں اہم کردار رہا ہے ۔ قیام پاکستان کے بعد جنرل ضیاء الحق پاکستان کے پہلے صدر ہیں ۔ جنہوں نے 1979میں شندور پولو فیسٹول میں شرکت کی ۔ اُس کے بعد پاکستان تمام اعلی فوجی اور سول حکمرانوں نے اس فیسٹول میں شرکت کی ۔ جن میں سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو ، ، جنرل پرویز مشرف ، سابق صدر آصف علی زرداری ، جنرل مرزا اسلم بیگ ، جنرل عبدالحمید کاکڑ ، موجودہ وزیر اعظم محمد نواز شریف شامل ہیں ۔شندور فیسٹول چترال کیلئے اپنے مسائل اعلی حکومتی شخصیات تک پہنچانے کا ذریعہ رہا ہے ۔ اور لواری ٹنل سمیت کئی ترقیاتی منصوبے شندور فیسٹول کے موقع پر اعلانات کی بنیاد پر تعمیر کئے گئے ۔ اس لئے چترال کے لوگوں کیلئے شندور صرف پولو دیکھنے کیلئے ہی اہمیت کی حامل نہیں ۔ بلکہ یہ سٹیج ایک پارلیمنٹ کی حیثیت رکھتی ہے ۔ جہاں چترال کے مسائل اجاگر کئے جاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ہزاروں ملکی اور بیرونی سیاح یہاں منعقدہ فیسٹول میں شرکت کیلئے یہاں آتے ہیں ۔ جس سیاحت سے وابستہ لوگوں کی آمدنی ہوتی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں