48

گلگت بلتستان میں سیاحوں کو درپیش مسایل ۔۔۔۔۔۔۔ تحریر۔اسلم چلاسی۔

logo
جب سے بابو سر ٹاپ عام ٹریفک کیلے کھلا ہے روزانہ کے حساب ہزاروں ملکی و غیر ملکی سیاح گلگت بلتستان کا رخ کر رہے ہیں ۔دن کے وقت بابوسر ٹاپ مصروف ترین مقام ہوتا ہے۔دونوں جانب سے آے ہوے ہزاروں گاڑیاں قتار در قتار کی شکل میں رونقوں کا باعث بنتی ہیں۔ چلاس شہر سے محض ۴۴ کلومیٹر کے دوری پر دنیاں کے حسین ترین مقام بابوسر ٹاپ جہاں پر قدم رکھتے ہی جنت کا گما ں ہوتا ہے۔درہ بابوسر کا یہ سرہ سطح سمندر سے ۱۳۷۰۰ فٹ بلندی پر واقع ہے یہاں کا صبح اور شامیں حسین ترین ہوتی ہیں۔ملک کے طول و عرض سے سیاحوں کا رخ قافلوں اور ٹولوں کے شکل میں اس طرف رواں د وا رہتا ہے۔اور یہاں سے ہی روزانہ سیکڑو ں گاڑیاں ہزاروں سیاح لیکر گلگت بلتستان میں انٹری مارتی ہیں۔چلاس زیرو پوینٹ سے گلگت تک کا سفر اور سہولیات کا تزکرہ ہی باعث شرمندگی ہے۔ایک تتہ پانی جو معمولی سلایڈنگ کے شکار ہو تو گھنٹوں تک ازیت ناک انتظار کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اور اس دوران دس دس گھنٹوں تک بھوک اور پیاس کی ریاضت معمولی عمل ہے۔سیکیورٹی کا بندوبست تو لاجواب ہے زمانے کے رحم و کرم پر سیاحتی شوق ہے جو پورا کیا جارہا ہے۔ادھر شہروں میں بھی دو کا چار لگ چکا ہے۔سٹینڈر صفر ہے اصولی فایو سٹار کا ہے کھانے پینے کے اشی�آ تو ماشا الللہ جس صفای اور معیارکے ساتھ دوگناقیمت پر شہروں میں دستیاب ہیں لا جواب ہے۔ تو دوسری طرف گلگت شہر میں محدود ہوٹلز ہونے کی وجہ سے سیا حوں کی معمولی تعداد بھی شہر میں داخل ہو تو ہوس فل ہوجاتاہے۔تھکے ماندے قافلے سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر خیمہ زن ہوتے ہیں۔جہاں مچھروں کی راج میں خوب مہمان نوازی ہوتی ہے۔اور صبح بوجھل طبیعت کے ساتھ کیا سیر سپاٹے کرے۔دوچار سیاحوں سے تاثرات لیے تومعلوم ہوتا ہے ہکہ بابوسر تک تو سفر ٹھیک تھا مگر اس سے آگے سہولیات کے فقدان کی وجہ سے سب پھیکا پڑجاتا ہے۔اس لیے آنے والے تمام سیاح بہت جلد واپس جانے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔اور یہ بھی ایک حقیقت ہکہ گلگت بلتستان میں داخل ہونے والے تمام سیاح کاغان ویلی سے ہوتے ہوے درہ بابوسر کے راستے ادھر کا رخ کرتے ہیں۔مانسہرہ سے لیکر بابوسر تک جو سہولیات سیاحوں کیلے ک پی کے حکومت کی طرف سے ہیں قابل تعریف ہیں۔موثر سیکورٹی کا نظام پولیس پٹرولنگ کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مانسہرہ سے نعران تک ہر بیس سے پچیس منٹ کی وقفے سے چاک و چوبن پولیس کے دستے روڈ پر گشتے کرتے ہوے نظر آینگے۔گاڑی خراب ہونے کی صورت میں یا کوی اور مشکل پیش آے تو خندہ پیشانی اور با اخلاق انداز میں ہر ممکن مدد کیلے تیار رہتے ہیں۔ہر چار سے پانچ کلو میٹر کے فایصلے پر ہٹس آنے جانے والوں کے منتظر رہتے ہیں۔جگہ جگہ حکومت کی سر پرستی میں فیش فام لگے ہوے ہیں ۔اور ہوٹلوں کے معیار بہت ہی اعلی قسم کا ہے۔انتظامیہ مکمل متحرک ہے مجال ہکہ مختص کر دہ ریٹ سے ایک پیسہ بھی زیادہ اصول کر سکے۔ رہایشی ہوٹلز بڑی تعداد میں ہونے کی وجہ سے زیادہ مسلہ تو پیش نہیں آتااگرچہ تھوڑا بہت مسلہ ہو تو خیمہ کیمپ لگے ہوے ہیں جہاں پر فل پروف سیکیورٹی ہوتی ہے اور اپنا خیمہ لگانے کی بھی اجازت ہے۔جس سے با اسانی مسلہ حل ہوجاتا ہے۔اس کے بر عکس ہمارے ادھر دیکھا جاے تو ہم بہت پیچھے ہیں ان تک پونچنے کیلے ہمیں بیس سال درکار ہیں۔کاغان ویلی تو انتہای محدود علاقہ ہے جبکہ ہمارے پاس ہزاروں کلومیٹر پر محیط سیاحتی مقامات ہیں۔گلگت بلتستان میں ایسے مقامات بھی ہیں جو ابھی تک حکومتی سکرین میں نہیں آے۔صوبای حکومت وفاق کے تعاون سے گلگت بلتستان کے ان حسین مقامات تک سڑکوں کا جال بچھاے تو اگلے پانچ دس سالوں میں گلگت بلتستان دنیاں کے نقشے میں ایک نیا تعرف کے ساتھ موجود ہوگا۔ہوٹل انڈسٹری کو پرموٹ کرنے کیلے صوبای حکومت کی نیت قابل تعریف ہے مگر اس نیت کو مصمم ارادے میں تبدیل کر کے عملی جامع پہنانے کی ضرورت ہے۔گزشتہ تین چار سالوں سے گلگت بلتستان سیاحتی حب کی شکل اختیار کر رہا ہے اس سلسلے کو آگے بڑانے کیلے حکومت کو اس شعبے میں دلچسپی لینے کی ضرورت ہے۔اگر اسطرح سیاحوں کو فٹ پاتھ پر دھکیلتے رہے تو یہ شعبہ بھی زوال پزیر ہوگا۔حکومت کو چاہیے کہ ہوٹل انڈسٹری میں حایل رکاوٹوں کو دور کرے اور اس شعبے میں دلچسپی رکھنے والوں کو لیز پر زمین کے ساتھ معقول قرضہ بھی فراہم کریے ۔ساتھ ہی محکمہ سیاحت کو فعال بنا کرسیاحوں کو درپیش مسایل کا جایزہ لیکر فورٓٓاس پرقابو پانے کیلے اقدامات کرنے چاہیے۔خاص طور پر سیاحتی سیزن میں پیدا ہونے والی خد ساختہ مہنگای کا سد باب بہت لازمی ہے۔ایک دم تمام مسایل پر قابو پانا ممکن نہیں ہے البتہ اس سیزن کی بنسبت اگلے سیزن میں بہتری آنی چاہیے۔مگر تشویش اس بات پر ہے کہ پیچھلے سال کے بہ نسبت اس سال کوی بہتری رکارڈ کا حصہ نہیں بنی اس سے ظاہر ہوتا ہکہ حکومت اس شعبے میں وہ رفتار نہیں دیکھا رہی جو دیکھانا چاہیے۔لیکن ہمیں امید ہکہ آنے والا سیاحتی سیزن میں بہت بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں