30

کسٹم ایکٹ کی واپسی مگرخدشات اب بھی۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

اگرچہ صدرمملکت یاگورنرخیبرپختونخواکی جانب سے مالاکنڈڈویژن میں نافذ کردہ کسٹم ایکٹ کی واپسی کا کوئی نوٹیفیکیشن تاحال سامنے نہیں آیا حالانکہ اس کے نفاذکے لئے گورنرخیبرپختونخوانے باقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کیاتھااس لئے ضروری تھاکہ اس کوواپس لینے کابھی نوٹیفیکیشن جاری کیاجاتاکیونکہ نوٹیفیکیشن کے بغیرکسٹم ایکٹ کی واپسی کے اعلان پر جہاں مالاکنڈ ڈویژن بھرمیں جشن کاسماں ہے اور عوام ایک دوسرے کومٹھائیاں کھلارہے ہیں وہیں یہ خدشات بھی پائے جاتے ہیں کہ کہیں یہ انٹی کسٹم تحریک کوناکام بنانے کاحکومتی حربہ تو نہیں ہے جیساکہ رمضان سے قبل سیاسی جماعتوں،تاجرتنظیموں اور سراپااحتجاج عوام پر مشتمل متحدہ تحریک مذکورہ ایکٹ کے خلاف بھرپور مزاحمت کرتی دکھائی دے رہی تھی توحکومت اور لیگی قیادت کی جانب سے قوم کو امید دلائی گئی کہ وزیراعظم اپنے دورہ سوات کے موقع پر کسٹم ایکٹ کی واپسی کااعلان کریں گے جس پر انٹی کسٹم تحریک نے وزیراعظم کے دورے تک احتجاج ملتوی کردیاتھا مگروزیراعظم نے دورہ سوات کے موقع پر اس ایکٹ کاذکر تک نہیں کیاباجوداس کے کہ ان کوپیش کئے گئے سپاسنامے میں بھی یہ مطالبہ درج تھااس حکومتی روش کی وجہ سے کسٹم ایکٹ کے خلاف جاری احتجاجی تحریک بڑی حد تک کمزورپڑگئی تھی۔واضح حکومتی اعلان کے باوجود مالاکنڈکے عوام خدشات اس لئے ظاہر کررہے ہیں کہ وزیراعظم ،پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور وزیراعلیٰ پرویزخٹک سے مایوس ہونے پر جب اس تحریک نے دوبارہ سراٹھالیاتوایک متفقہ انٹی کسٹم ایکشن کمیٹی وجودمیں آگئی جس نے 18 جولائی کو سوات میں ہونے والے اہم اجلاس میں احتجاج کاجوشیڈول جاری کیاتھااس کے مطابق24جولائی کوچکدرہ میں ڈویژن کے تمام منتخب ممبران اسمبلی کااجلاس،27جولائی کوڈویژن بھرمیں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال،5اگست کوپہیہ جام ہڑتال اور 10اگست کواسالام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنادیناشامل تھااور پھرارکان اسمبلی کے اجلاس سمیت 27جولائی کو مالاکنڈڈویژن بھرمیں کامیاب ترین تاریخی شٹرڈاؤن ہڑتال کی گئی جسے دیکھتے ہوئے 5 اگست کوپہیہ جام ہڑتال اور 10اگست کواعلان کردہ دھرنے کی کامیابی کااندازہ لگانامشکل نہیں تھاجبکہ قابل ذکربات یہ بھی ہے کہ سات اگست کوپی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان نے بھی دھرنے کااعلان کیاہے ایسے میں کسٹم ایکٹ کی واپسی کاحکومتی اعلان خوش آئند مگرخدشا ت بھی موجودہیں ۔بہرحال اگروفاقی وزیرخزانہ اسحاق ڈار، گورنرخیبرپختونخوا اقبال ظفرجھگڑا،وزیراعظم کے مشیرانجینئرامیرمقام اور دیگرحکومتی عہدیدار نافذ کردہ کسٹم ایکٹ کی واپسی کادعویٰ کرتے سنائی دے رہے ہیں تومالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے لئے اس سے بڑھ کرخوشی اور اطمینان کی کوئی بات ہونہیں سکتی اوریہ مسلم لیگ نون کی قیادت اوروزیراعظم نوازشریف کاواقعی قوم پر احسان ہے اوراس حقیقت کونظراندازنہیں کیاجاسکتاکہ اگر نافذکردہ کسٹم ایکٹ ا واپس نہ لیاجاتاتواس میں وزیراعظم اور ان کی حکومت کاکوئی قصور بھی نہیں تھاکیونکہ مذکورہ ایکٹ گورنرکے ذریعے خیبرپختونخواحکومت کی جانب سے بھیجی گئی سمری کے نتیجے میں نافذکیاگیاتھا اورسر اٹھاتے سوالات یہ ہیں کہ خیبرپختونخواحکومت نے ایساکیوں کیاتھا اور کسٹم ایکٹ کی سمری بھجواکروہ مالاکنڈڈویژن کے عوام سے کس زیادتی کابدلہ لیناچاہتی تھی اس کاحساب کتاب توقوم رکھے گیااورقوم کویہ اختیارووٹ کے ذریعے حاصل ہے تاہم اب جبکہ کہاجارہاہے کہ مذکورہ ایکٹ واپس لے لیاگیاہے تویہ کہنابھی غلط نہیں ہوگاکہ مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے اصل ہیرو وزیراعظم کے مشیر انجینئرامیرمقام ہیں جنہوں نے صحیح معنوں میں قوم کایک مشکل مقدمہ لڑااوراسے جیت کرسرخروہوگئے کیونکہ مانناپڑے گاکہ کوئی بھی بنابنایاقانون واپس کردیناآساں کام نہیں بلکہ جوئے شیرلانے کے مترادف ہوتاہے۔جائزہ لیاجائے توسوئی گیس اور پینے کے پانی کی فراہمی،تعلیمی اداروں ،طبی مراکز ،سڑکوں اورپلوں کی تعمیرمخصوص علاقوں کی مخصوص ضرورت ہوتی ہے مگرکسٹم ایکٹ کی واپسی ڈویژن بھر کے عوام کامتفقہ،مشترکہ اور یک زباں علاقائی معاملہ اور مطقی انجام تک پہنچنے کامشکل ترین مرحلہ تھا۔اب جبکہ وزیراعظم نے اپنے مشیرانجنیئرامیرمقام کی تگ ودواور سرتوڑکوششوں کے نتیجے میں کسٹم ایکٹ واپس لے کرقوم پر احسان کیاہے توسیاسی اختلاف رائے اپنی جگہ تاہم قومیں اپنے محسنوں کوبھلایانہیں کرتیں اور احسان کابدلہ چکاناتوپختون قوم کی روایات کاحصہ ہے جبکہ پشتوکامقولہ ہے کہ ’’چی چادرسرہ لگ بد اوکڑل پوہ شہ چی ڈیربہ ئی وس نہ وی اؤکہ چادرسہ لگ خہ اوکڑل نوڈیردرسہ کولی شی خووس بہ ئی نہ وی‘‘ یعنی جوآپ ساتھ کم براکرے گاموقع ملنے پر اس سے زیادہ براکرے گا اور جوکم اچھاکرے گا اختیارملنے پر وہ اس سے زیادہ اچھاکرسکتاہے مالاکنڈڈویژن کے عوام کواس پر سنجیدگی سے غورکرناہوگا۔البتہ ضروری ہے کہ کسٹم ایکٹ کی واپسی کاباقاعدہ نوٹیفیکیشن جاری کرکے قوم کودکھایاجائے جس سے اس معاملے سے جڑے خدشات بھی ختم ہوں گے اورقوم بھی مطمئن ہوجائے گی۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں