41

آزادی کے متوالے۔۔۔۔پروفیسرمظہر

کشمیریوں کی وہ نسل پَل بڑھ کر بلوغت کو پہنچ چکی جس نے وادی میں بھارتیوں کی وحشت و بربریت اور جبرِ مسلسل کے تلے آنکھ کھولی ۔ جنہوں نے اپنی آنکھوں کے سامنے شمأِ آزادی کے گرد منڈلاتے لاکھوں پروانوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے فدا ہوتے دیکھا ۔ جن کے سامنے عفت مآب بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں اور شاید ہی کوئی گھر ایسا ہو جس سے کسی شہید کا جنازہ نہ اُٹھا ہو ۔ اب اِس نسل کے لیے موت ثانوی حیثیت اختیار کرچکی ۔ اِن کے سامنے تو شب وروز یہی تماشا ہوتاہے ۔ کہا جاسکتا ہے کہ اِس نسل کا تعلق تو اُس ناحیے سے ہے جس کی سرشت میں فناہے ، بقا نہیں اور نعرہ یہ کہ گھُٹ گھُٹ کے جینے سے مرنا ہزار درجے بہتر ۔ وادی کے اِن نوجوانوں کی پیشانیوں پہ گویا یہ لکھ دیاگیا کہ
کھولی ہے ہم نے آنکھ بلاؤں کی گود میں
پَل کر جواں ہوئے ہیں خطاؤں کی گود میں
یہ نسلِ نوخیز اب مسلح جدوجہد سے تُل چکی ، اُفتاد گانِ خاک اُٹھ چکے ، احساس کے سبو میں نمو کی آگ بھڑک چکی اوراذہان وقلوب میں پھٹنے والا لاوہ یہ پیغام دیتے ہوئے بہہ نکلاکہ
اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں ، اب زندانوں کی خیر نہیں
جو دریا جھوم کے اُٹھے ہیں تنکوں سے نہ ٹالے جائیں گے
دُنیا دیکھ رہی ہے کہ پہلے جب بھارتی فوج مجمعے کو منتشر کرنے کے لیے لاٹھی گوی کا سہارا لیتی تھی تو مجمع چھَٹ جاتا تھا ، اب ڈَٹ کے کھڑا ہو جاتا ہے ، گھروں کے دروازے کھُل جاتے ہیں ، مرد بھارتی فوج کی طرف لپکتے اور خواتین گھروں کی بالکونیوں سے سنگ باری کرتی ہیں ۔ وادی کے ہر شخص کی زبان پر ایک ہی نعرہ کہ
کب دہلا ہے آفاتِ زمانہ سے میرا دِل
طوفاں کو جو آنا ہے تو دروازہ کھلا ہے
یہ تبدیلی ، یہ جذبہ ، یہ جنوں اب پوری وادی میں جاری و ساری ہے ۔ اقوامِ عالم کا تو یہ اصول کہ آزادی کی تگ ودَو کرنے والوں کے ساتھ اقوامِ متحدہ ڈَٹ کر کھڑی ہو جاتی ہے اور جہاں کہیں بھی غلبے کی وحشت ناک جبلت نظر آتی ہے وہیں اقوامِ عالم متحرک ہو جاتی ہیں لیکن جنت نظیر ، واد�ئ کشمیر میں یہ اصول پتہ نہیں کہاں کھو گیا ، کہاں سوگیا ۔ عالمی غنڈے تو بغیر تصدیق کے عراق پر چڑھ دوڑے اور لاکھوں جانیں لینے کے بعد اب اپنی غلطی کی معافیاں مانگتے پھرتے ہیں لیکن عالمی ڈان امریکہ کو پھر بھی شرم نہیں آئی ۔ اُس کی زبان سے معذرت کا کوئی حرف تک نہیں نکلا ، نکلے بھی تو کیسے کہ اُس کا تو ٹارگٹ ہی عالمِ اسلام ہے اور جہاں کہیں بھی مسلمان بستے ہیں ، وہیں وہ صلیبی جنگوں کی ہزیمت کا بدلہ چکانے کے لیے نکل کھڑا ہوتا ہے ۔ مصر ہو یا شام ، لیبیا ، مراکش یا ترکی ، ہر جگہ بغاوت میں امریکی ہاتھ ہی نظر آتا ہے ۔ فلسطین میں وہ کھلم کھلا اسرائیل کی پشت پناہی کرکے مظلام فلسطینیوں کے خون سے ہاتھ رنگ رہا ہے اور یہی حربہ وہ بھارت کی پیٹھ تھپتھپا کر استعمال کر رہا ہے ۔ اُس نے کبھی اپنے اِس نئے ’’اسٹرٹیجک پارٹنر‘‘ سے یہ سوال نہیں کیا کہ وہ لاکھوں کشمیریوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کے بعد بھی اقوامِ متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے استصواب رائے کیوں نہیں کروا رہا ۔ عالمی ڈان تو جب چاہے اور جہاں چاہے عالمِ انسانیت کو بچانے کا بہانہ بنا کر چڑھ دوڑتا ہے لیکن کشمیر کے معاملے میں اُس کی انسانیت صرف اِس لیے سو جاتی ہے کہ وہاں ستر فیصد مسلمان بستے ہیں اور مسلمانوں کا لہو اُسے بہت مرغوب ہے ۔
اقوامِ عالم کو تو رکھیے ایک طرف ، ہم نے بھی حق ادا نہیں کیا ۔ بانئ پاکستان حضرت قائدِاعظمؒ نے دوٹوک کہا تھا کہ کشمیر معاشی ، معاشرتی ، مذہبی ، ثقافتی اور جغرافیائی لحاظ سے پاکستان کا فطری حصّہ ہے ۔ اُنہوں نے تو کشمیر کو پاکستان کی شہ رَگ قرار دیا اور اُس وقت افواجِ پاکستان کو کشمیر میں دراندازی کرنے والی بھارتی فوج کے خلاف فوری کارروائی کا حکم دیا ۔ جب ہماری فوج بے سرو ساماں تھی اور جو حصّہ تقسیم کے وقت افواجِ پاکستان کے لیے طے ہوا تھا وہ بھی بھارت ڈکار چکا تھا ۔ اُس وقت افواجِ پاکستان کی قیادت انگریز جنرل گریسی کے ہاتھ میں تھی ۔ اُس نے فوج کو کارروائی سے روک دیا حالانکہ اُس وقت کشمیری حریت پسند اور قبائلی مجاہدین سری نگر کے ہوائی اڈے کو گھیر چکے تھے اور بھارتی جارحیت کا خاتمہ محض چند قدم کے فاصلے پر تھا جو جنرل گریسی کی خباثتوں کی نظر ہوا ، بھارت واویلا کرتا ہوا اقوامِ متحدہ جا پہنچا اور اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے مطابق وادئ کشمیر میں استصواب رائے کے پروانے پر دستخ کر آیا جس پر آج تک عمل درآمد نہیں ہوا ۔
آزادی کی اِس نئی لہر میں برہان وانی کی شہادت پر احتجاج کرتے پچاس سے زائد کشمیری شہید ہو چکے ، ایک ہزار سے زائد زخموں سے چور ، پھر بھی کشمیری کرفیو کی پابندیوں کو پاش پاش کرتے آزادئ کشمیر کے حق میں نعرے لگاتے اور پاکستانی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں ۔ اُن کا طلسمِ آرزو تو اپنی رفعتوں کو چھو رہا ہے ، سوال مگر یہ ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں ۔ اگر کوئی دِلے کلال قکعے پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کے جنوں میں مبتلاء ہے تو وہ احمقوں کی جنت میں بستا ہے ۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ بھارت کے ساتھ ایٹمی جنگ چھیڑ دی جائے کہ اِس میں سوائے تباہی کے کسی کے ہاتھ بھی کچھ نہیں آئے گا لیکن ہم عالمی سطح پر اِس مسلے کو اجاگر تو کر سکتے ہیں لیکن ہمارے مہربان تو اقتدار کی جنگ میں ایسے الجھے کہ اُنہیں کچھ دکھائی دیتا ہے نہ سجھائی ۔ مولانا طاہر القادری 6 اگست کو سڑکوں پر ہوں گے اور عمران خاں 7 اگست کو ۔ پھر وہی دمادم مست قلندر ہوگا جو ہم اگست 2014ء کو بھگت چکے ، جس سے ہماری معیشت سالوں پیچھے چلی گئی ۔ تانگے سے بھی کم سواریاں رکھنے والے شیخ رشید آجکل بہت متحرک ہیں لیکن عقیل وفہیم اصحاب کہتے ہیں کہ اِس احتجاجی تحریک کا حال 2014ء کے دھرنوں سے بھی بدتر ہوگا ۔ کاش کوئی محترم عمران خاں اور مولانا قادری کو یہ سمجھاتا کہ وہ اپنی تمام تر صلاحتیں کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑنے والوں کی جنگ لڑنے والوں کی اخلاقی اور سفارتی حمایت پر صرف کر دیں اور ا پنی احتجاجی تحریک کا رُ خ تحریکِ آزادئ کشمیر کی طرف موڑ دیں ۔ وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ ایسا کرکے وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر سکتے ہیں ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں