47

مولاناگل نصیب خان اور سیاسی داؤپیچَ۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

logo

اگرچہ یہ درست ہے کہ کوئی بھی نظریاتی تحریک چاہے مذہبی ہویاسیاسی کبھی بھی کسی ایک فرد پر انحصارنہیں کیا کرتی بلکہ نظریاتی مشن کی تکمیل کے سفرمیں ہم خیال اور ہمنواہجوم کوجنم لیتی ہے اور یہ بھی بجاہے کہ محوِسفرکوئی بھی تحریک کسی ایک فردکی محتاج نہیں ہواکرتی بلکہ اس میں شامل ہرفرداسے آگے لے جانے میں اپنے حصے کاکرداراداکرتاہے جیساکہ اقبال نے کہاتھاکہ’’ افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر۔ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کاستارہ‘‘ لیکن اتنی تمہید باندھنے کے باوجودیہ کہناشائد غلط نہیں ہوگا کہ خیبرپختونخوامیں جمعیت علماء اسلام اورمولاناگل نصیب خان لازم وملزوم ہیں ۔ ترقیاتی لحاظ سے خیبر پختو نخوا کے پسماندہ ضلع دیر لوئر کی خوبصورت سیاحتی وادی لڑم تحصیل آدینزئی میں روغا نی قبیلے سے تعلق رکھتے حاجی نادرخان کے ہاںآنکھ کھولنے والے مولاناگل نصیب خان نرم گو،حق گو،فرض شناس ،انتہائی دلچسپ اور شیریں طبیعیت کے حامل انسان دوست شخصیت کے مالک ہیں ۔وہ عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ دنیاوی علوم سے بھی فیض یاب ہیں۔وہ دوسروں کی بات تسلی سے سنتے ہیں اور اپنا مؤقف رکھ کردوسروں کو سمجھانے ،دلائل کے ساتھ قائل کرنے اوراپنی بات منوانے کاگُربھی بخوبی جانتے ہیں اورخودکوکسی بھی ماحول میں ڈھلنے کے ڈھنگ اورسلیقہ سے بھی آشناہیں۔ مولانا گل نصیب خان کی پوری زندگی انتھک محنت جہدمسلسل سے عبارت ہے۔ وہ دوسری دفعہ جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی امیر بنے ہیں جبکہ سینیٹرکی حیثیت سے ایوان بالا کے ممبراوراپنی جماعت کے پارلیمانی لیڈربھی رہ چکے ہیں۔2002میں مذہبی سیاسی جماعتوں کے اتحادی پلیٹ فارم متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کی تشکیل اورالیکشن میں ایم ایم اے کی غیرمعمولی انتخابی کامیابی کے بعدوزارت اعلیٰ کے منصب کے لئے اکرم خان درانی کی نامزدگی سمیت اتحادی جماعتوں کے ساتھ تشکیل اقتدارکافارمولہ طے کرنے میں ان کاکلیدی کرداررہاتھا۔ سینیٹرمولاناگل نصیب خان قومی و علاقائی سیاست اورعوامی مسائل ومشکلات سے بخوبی واقفیت رکھنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی معاملات اورخطے کے بدلتے حالات میں امت مسلمہ کودرپیش مصائب اوراس کے اسباب پر بھی باریک بینی سے نظررکھتے ہیںیہی وجہ ہے کہ سیاسی ،عوامی،سماجی اور مذہبی حلقوں میں انہیں نہایت قدراوراحترام کی نگاہ سے دیکھاجاتاہے ۔وہ اپنی جماعت کے بھی مقبول ترین اور ہردلعزیز شخصیت ہیں۔عام کارکن سے لے کر پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک سب ان کی کاوشوں ،کوششوں اورقائدانہ صلاحیتوں کے معترف ہیں اور پارٹی معاملات میں فیصلہ سازی سمیت تمام امورمیں ان کی رائے کوغیرمعمولی سمجھتے ہیں۔منتخب ایوان سے لے کرٹی وی کے مذاکراتی پروگراموں، سیاسی وغیرسیاسی فورمزاورمذہبی محافل میں موقع کی مناسبت سے بات کرنے کے لئے شہرت رکھتے مولاناگل نصیب خان نے اپنے پہلے صوبائی دور امارت میں بین الاقوامی سطح پر علمائے دیوبند کانفرنس بلائی تھی جو اس وقت کے عالمی حالات ،مسلم دنیاکو درپیش چیلنجز اور زمینی حقائق پر مبنی جدیددورکی ضروریات اور تقاضوں کے تناظرمیں امت مسلمہ کی بیداری اور اتحادکے لئے نہایت اہمیت کی حامل کاوش تھی اوریہ ناقابل فراموش کارنامہ ان کی دوراندیش سوچ وفکراور ذہنی فہم وفراست ،ان کی قائدانہ صلاحیتوں اورسیاسی بصیرت ،دین سے لگاؤ،اپنی جماعت سے وفاداری، شبانہ روز محنت اور انتھک کوششوں کا نچوڑ تھاجس نے نہ صرف انہیں مذہبی اور سیاسی افق پرشہرت کی بلندیوں پرپہنچایابلکہ اس سے ان کی جماعت کاوزن بھی کافی بھاری ہوا۔گزشتہ دنوں ان سے ان کی رہائش گاہ واقع لڑم دیرلوئرمیں ایک خصوصی نشست کاموقع ملااوراس اہم ملاقات میں ان سے مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔اگرچہ مالاکنڈڈویژن میں نافذکردہ کسٹم ایکٹ واپس لے لیاگیاہے تاہم اس ایشوپر بات کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ مالاکنڈ ڈویژن نے صوبے پر کبھی حکومت نہیں کی یہی وجہ ہے کہ یہ علاقہ محروم اور پسماندہ رہا ۔جنگلات یہاں کاقیمتی سرمایہ ہے مگرغیر محفوظ ہے جبکہ یہاں کے لوگوں کواس کی رائلٹی بھی نہیں مل رہی ،یہاں کے معدنی وسائل کوبروئے کارلایاجارہاہے نہ دریائے سوات اور دریائے پنجکوڑہ کے فوائد سے عوام مستفید ہورہے ہیں۔کرنل شیرانٹرچینج سے وسط ایشیاء تک روڈکامنصوبہ تاحال کاغذی ہے اورحکومتوں نے ہمیشہ یہاں کے عوام کومحض وعدوں پر ٹرخایاہے ایسے میں کسٹم ایکٹ کانفاذ یہاں کے عوام کے ساتھ سراسرزیادتی ہے اور جب تک یہاں کے عوام کوسہولیات نہیں دیئے جاتے اور انہیں اعتماد میں نہیں لیاجاتا تب تک کسٹم ایکٹ سمیت کوئی بھی حکومتی اقدام کامیابی سے ہمکنارنہیں ہوسکتا کیونکہ عوام مزاحمت کرے گی۔عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے مولاگل نصیب خان کاکہناتھاکہ 18ویں صدی تک جوملک جس ملک کوفتح کرتااس کے جغرافیائی حدوداس کی ملکیت ہوتی مگربعدمیں نو آباد یاتی پالیسی سامنے لائی گئی جبکہ نیوورلڈآرڈراورون سٹی فارمولے کے ایجنڈے پر کاربندامریکہ سمیت تمام طاغوتی قوتیں مدرپدر آزاد ریاست کی تشکیل پرعمل پیرار ہیں ۔وطن عزیزکے سیاسی اورجمہوری حالات پر لب کشائی کرتے ہوئے ان کاکہناتھاکہ قوم نے ملک کوفلاحی ریاست بنانے کی خاطر کئی بار پیپلز پارٹی،مسلم لیگ نون اوردیگرسیاسی وغیرسیاسی قوتوں کو موقع دیامگروہ ایساکرنے میں ناکام رہے۔ ان کامزید کہنایہ تھاکہ جمعیت کے صدسالہ تاسیس کی مناسبت سے اگلے سال کی پہلی سہ ماہی میں عالمی کانفرنس بلائی جارہی ہے جس میں ایک کروڑلوگ جمع کرناہدف ہے ۔اوراس کامقصد اقتدارکی باگ ڈوراہل لوگوں کے حوالے کرناہے۔مولاناگل نصیب خان نے کہاکہ وطن عزیزمیں مذہبی سیاسی جدوجہدکی وجہ سے علماء حکومت کے تابع نہیں ہیں اورعلماء کے کردارہی کانتیجہ ہے کہ ملک خانہ جنگی سے محفوظ رہاہے۔انہوں نے کہاکہ علماء کا حکومت سے کیاکام ہے 2002میں ایم ایم اے کی تشکیل اورحصول اقتدارکے نتیجے میں ہم نے اس سوچ کوہمیشہ کے لئے دفن کردیاہے جبکہ جے یوآئی واحد مذہبی سیاسی جماعت ہے جوملک کے نظریاتی اثاثوں کی جنگ لڑرہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں