48

جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہو تا تب تک حکومت پاکستان 22اشیاء پہ سبسڈی دینے کا پابند ہے او ر ہی ہمارا حق ہے ،چیئر مین مولا نا سلطان رئیس

گلگت ( نمائندہ خصوصی ) عوامی ایکشن کمیٹی کے مطا لبات 99فیصد درست اور قانونی ہیں اس میں کو ئی دہر ی رائے نہیں ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا چارٹر آف ڈیمانڈ غیر قانونی ہو بنیا دی انسا نی حقوق پہ مشتمل چارٹر آف ڈیمانڈ ہے جس سے جی بی کے مستقبل سنور جا ئے گا اور عام آدمی کی حالت بہتر ہو گی ۔ اب پاکستان کی حکومت کو سو چنا ہو گا کہ اس حوالے سے کیا اقدامات ٹھا نے چا ہیئے اور اس پہ دیر ہو گیا تو مستقبل میں یہ محرو میاں بہت ہی خطر ناک ہو سکتی ہیں سی پیک ، سبسڈی ، جنگلات ، ہائیڈرو، منرلز پہ جی بی کے عوام کا حق ہے جی بی کے اراضیوں کے بھی مالک یہاں کے پشتنی با شندے ہیں ٹیکس غیر قانونی ہے حکومت پاکستان کو اس حوالے سے بہت جلد اقدا مات اٹھا کر جی بی کے عوام کے وسا ئل ان کو فراہم کر نے کی ضرورت ہے ان خیالا ت کا اظہار انسانی حقوق کی علمبر دار و سابق بارصدر سپریم کو رٹ آف پاکستان نے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مولا نا سلطان رئیس کی سر برا ہی میں ممبران کے وفد سے ملاقا ت میں کی ۔ انہوں نے کہا کہ جی بی میں قیام امن کے حوالے سے بھی ایکشن کمیٹی کا بہترین کر دار رہا ہے جس کی وجہ سے آج نو گو ایریاز کا خاتمہ ہوا پہلی مر تبہ تمام مکا تب فکر اور تمام سیا سی ، سما جی ، قومی تنظیموں پہ مشتمل یہ پلیٹ فارم دیکھنے کو ملا ہے جو صر ف محروم و محکوم عوام کے حقوق کے لئے لڑ رہا ہے ۔ اس دوران بر یفنگ دیتے عوامی ایکشن کمیٹی کے چیئر مین مولانا سلطان رئیس نے کہا کہ 68سالوں سے گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے جا ئز حقوق سے دو ر رکھا جا رہا ہے اور 47سے اب تک جی بی کے عوام کو کسی بھی ایگر یمنٹ میں سٹیک ہو لڈر نہیں لیا گیا ہے خواہ وہ معا ہدہ کرا چی ہو یا سی پیک ایگریمنٹ 1948میں ہمارے آبا AAC With asima jhangerء واجداد نے اسلام کے نام پہ جی بی کو پاکستان کے گود میں ڈال دیا تھا لیکن اس وقت سے آج تک حکومت پاکستان جی بی کے عوام کے ساتھ تیسرے درجے کے شہری کے طرح سلوک کر رہا ہے اور اب ایسا نہیں ہو گا اور اس بار عوام نے بتایا ہے کہ وہ با شعور ہیں اور اپنے جا ئز حقوق لینا جا نتے ہیں جب تک مسئلہ کشمیر کا حل نہیں ہو تا تب تک حکومت پاکستان 22اشیاء پہ سبسڈی دینے کا پابند ہے او ر ہی ہمارا حق ہے ہم کو ئی غیر قانونی ڈیما نڈ نہیں کر رہے ہیں ، ہمارے بونڈریز کی حفا ظت کی جائے ہمارے تاریخی تجارتی راستوں کو کھو لا جا ئے سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی پہ نوٹس لیا جا ئے قبضہ شدہ علاقوں اور تحفوں میں دیئے گئے جی بی کے علاقوں کو واپس لا یا جا ئے مزید اب ہم کو ئی بھی جر م بر داشت نہیں کر سکتے ہیں ۔ عوامی ایکشن کمیٹی ایگزیکٹیو کمیٹی کے ممبران ثاقب عمر گلگتی ، فدا حسین ، سید یعصب الدین ، غلام عباس ، محمد فاروق ، کر یم خان کے کے سمیت دیگر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں حقوق کی بات کر نے والوں پہ غداری کے دفعات لگا ئے جا تے ہیں اب بھی عوامی حقوق کی بات کر نے والے جیلوں میں ہیں اور اس سلف گورننس آرڈر2009کے پیکچ کے تحت جی بی کو لو ٹا جا رہا ہے اور جی بی کے عوام پہ وہ قوانین نا فظ ہو تے ہیں جو دیگر صوبوں کے کسی بھی فرد پہ عائد نہیں ہوتے ہیں ۔ چو نکہ جی بی متنا زعہ علاقہ ہے اس کو اس حیثیت میں ٹریٹ کر نے کے بجائے ایک فل فلیج صو بے کی اختیارات دیناچاہیے کہ تمام وسائل وفاق کے پاس ہیں اور مسا ئل جی بی کے نام نہاد عوامی نما ئندوں کو دیا گیا ہے جی بی قانون ساز اسمبلی کی کو ئی بھی آئینی یا قانونی حیثیت نہیں ہے اس پہ تمام کا م بیرو کریٹس کر تے ہیں اورجی بی کے عوامی نمائندے صرف تنخواہ تک محدود ہیں ۔ جی بی کو نہ ہی آئینی صو بہ تسلیم کیا جا رہا ہے اور نہ ہی ریاست صرف وسا ئل کے لوٹ مار کے لیئے تمام ہائی لیول کے عہدوں پہ افراد کو وفاق سے لا یا جا تا ہے اور جی بی میں اس وقت بے روز گاری کی شرح 70فیصد سے زائد ہے اس ظا لمانہ اقدام کے خلاف عوامی ایکشن کمیٹی کام کر رہی ہے اور یہ امید رکھتی ہے کہ جی بی کے عوام کے ان مسائل کو آپ عالمی سطح پہ اجا گر کر ینگی ۔ عاصمہ جہا نگیر نے اس مو قع پر کہا کہ ہم سے جہاں تک ہو سکتا ہے جی بی کے عوام کے ان محرو میوں کے ازالے کے لیئے کام کر ینگے جس حد تک جا نا پڑے ہم جا ئینگے اور انصاف کے لیئے ہر پیلٹ فارم سے آواز اٹھا ئینگے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں