36

دین اور مذہب سے دور قیادت اس مملکت خداداد پر حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے ،مشتاق احمدخان

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف اور صرف اس وقت حل ہوں گے جب ملک میں جماعت اسلامی کی حکومت آئے گا اور گزشتہ 69سالہ تاریخ میں مختلف طبقوں نے اس ملک پر حکومت کی اور اس کے مسائل کم ہونے کی بجائے کم ہوتے گئے کیونکہ دین اور مذہب سے دور قیادت اس مملکت خداداد پر حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے جوکہ اسالم کے نام پر معرض وجو د میں آیاہو۔ اتوار کے روز چترال پولوگراونڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں امین اور صادق پیغمبر کے امت پر حکمرانی کرنے والے چور ، ڈاکو اور لٹیرے ہرگز نہیں ہوسکتے اور اس وقت امانت دار قیادت صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی فراہم کرسکتی ہے جوکہ ملک کو اس دلدل سے باہر نکال سکے اور یہ بات ترکی میں اردگان نے ثابت کردیکھادی جس نے صرف دس سال کے مختصر عرصے میں ملکی معیشت کو بام عروج پر پہنچادیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کو 300سے بڑہاکر صرف پونے دو لیرا کردیا اور پاکستان کے عوام اگر موقع پر دیں تو یہاں بھی خوشحالی اور امن وامان کا دور دورہ ہوگا۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہاکہ ماضی اور حال کے حکمرانوں نے ملک کو مقروض کردیا، ملکی آزادی کو گروی رکھ لیا ، احتساب کے نام پر ڈرامہ رچاتے ہوئے احتسابی اد دین اور مذہب سے دور قیادت اس مملکت خداداد پر حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے ،مشتاق احمدخان
چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان کے مسائل صرف اور صرف اس وقت حل ہوں گے جب ملک میں جماعت اسلامی کی حکومت آئے گا اور گزشتہ 69سالہ تاریخ میں مختلف طبقوں نے اس ملک پر حکومت کی اور اس کے مسائل کم ہونے کی بجائے کم ہوتے گئے کیونکہ دین اور مذہب سے دور قیادت اس مملکت خداداد پر حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے جوکہ اسالم کے نام پر معرض وجو د میں آیاہو۔ اتوار کے روز چترال پولوگراونڈ میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان میں امین اور صادق پیغمبر کے امت پر حکمرانی کرنے والے چور ، ڈاکو اور لٹیرے ہرگز نہیں ہوسکتے اور اس وقت امانت دار قیادت صرف اور صرف جماعت اسلامی ہی فراہم کرسکتی ہے جوکہ ملک کو اس دلدل سے باہر نکال سکے اور یہ بات ترکی میں اردگان نے ثابت کردیکھادی جس نے صرف دس سال کے مختصر عرصے میں ملکی معیشت کو بام عروج پر پہنچادیا اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ملکی کرنسی کو 300سے بڑہاکر صرف پونے دو لیرا کردیا اور پاکستان کے عوام اگر موقع پر دیں تو یہاں بھی خوشحالی اور امن وامان کا دور دورہ ہوگا۔ جماعت اسلامی کے رہنما نے کہاکہ ماضی اور حال کے حکمرانوں نے ملک کو مقروض کردیا، ملکی آزادی کو گروی رکھ لیا ، احتساب کے نام پر ڈرامہ رچاتے ہوئے احتسابی ادارے کو دھوبی گھاٹ بنالیا جہاں چوروں اور لٹیروں کو لٹکادینے کی بجائے ان سے چوری کے مال کا کچھ حصہ واپس لے کر انہیں چھوڑ دئیے جاتے ہیں اور یہ کرپٹ سیاست دان سیاست تو پاکستان میں کرتے ہیں لیکن ان کا علاج معالجہ ملک سے باہر، بچوں کی تعلیم اور پرورش ملک سے باہر، کاربار ملک سے باہر اور ملکی دولت کو لوٹ کر بھی باہر کے بنکوں میں چھپاتے ہیں۔ مشتاق احمد خان نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اسلام کوپاکستان میں ایک غالب قوت کے طور پر پیش Pic Mushtaq Ahmad Khan, 07-08-2016کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پہلے لوگ اسلامی شعائرکا کھلم کھلا مذاق اڑاتے تھے اور لوگ سیکولرزم کو باعث فخر سمجھتے تھے لیکن جماعت اسلامی نے یہ شعور ددے دی کہ شیطان کے نظام میں انسانیت کی تباہی ہے اور اب لوگوں میں یہ یقین راسخ ہورہی ہے کہ تمام مسائل کا حل اسلام میں ہے اور خوشحال پاکستان کے لئے اس کا اسلامی ہونا بنیادی شرط ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی قائد نے کہاکہ جماعت اسلامی کے کارکن کے سامنے زندگی کا ایک واضح نصب العین اور مقصد زندگی ہے اور ان کے تمام کاموں کا محور اپنے رب کی خوشنودی کا حصول ہے اور یہی بات اس سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹیوں سے ممتاز کرتی ہے اور یہی ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے جس کے پاس ایک دستور ہے جبکہ دوسری جماعت خاندانی کاروبار کے طرز پر چل رہے ہیں اور جہاں پارٹی قائد کی ہر بات کو دستور کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعے اسلامی انقلاب کے لئے راستہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور اس سال اکتوبر کو پشاور میں منعقد ہونے والی اجتماع عام کے لئے تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیں اور چترال کے گوشے گوشے میں ایک ایک گھر کو ایسا نہ چھوڑ دیں جہاں جماعت اسلامی کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس سے قبل جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جماعت کے تین اوصاف بیان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی میں یہ تینوں موجود ہیں اور جماعت کاہرکارکن ان اوصاف سے مزین ہے۔ انہوں نے صوبائی قیادت کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ چترال جماعت اسلامی کا گڑھ بننے والا ہے جہاں کسی بھی ازم کو پنپنے کی اب گنجائش نہیں رہی۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے اپنے خطاب صوبائی امیر جماعت اسلامی کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو وہ حیثیت نہیں دی گئی ہے جو کہ ان کو حاصل ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اس سب کے باوجود چترال میں ضلعی حکومت کی کارکردگی ماضی میں دوسروں کے مقابلے میں کسی بھی طور پر کم نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر چار روزہ دورے پر چترال پہنچ گئے ہیں جہاں وہ موڑکھو، تورکھو، بونی اور دروش میں بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔
ارے کو دھوبی گھاٹ بنالیا جہاں چوروں اور لٹیروں کو لٹکادینے کی بجائے ان سے چوری کے مال کا کچھ حصہ واپس لے کر انہیں چھوڑ دئیے جاتے ہیں اور یہ کرپٹ سیاست دان سیاست تو پاکستان میں کرتے ہیں لیکن ان کا علاج معالجہ ملک سے باہر، بچوں کی تعلیم اور پرورش ملک سے باہر، کاربار ملک سے باہر اور ملکی دولت کو لوٹ کر بھی باہر کے بنکوں میں چھپاتے ہیں۔ مشتاق احمد خان نے کہاکہ جماعت اسلامی نے اسلام کوپاکستان میں ایک غالب قوت کے طور پر پیش کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پہلے لوگ اسلامی شعائرکا کھلم کھلا مذاق اڑاتے تھے اور لوگ سیکولرزم کو باعث فخر سمجھتے تھے لیکن جماعت اسلامی نے یہ شعور ددے دی کہ شیطان کے نظام میں انسانیت کی تباہی ہے اور اب لوگوں میں یہ یقین راسخ ہورہی ہے کہ تمام مسائل کا حل اسلام میں ہے اور خوشحال پاکستان کے لئے اس کا اسلامی ہونا بنیادی شرط ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی قائد نے کہاکہ جماعت اسلامی کے کارکن کے سامنے زندگی کا ایک واضح نصب العین اور مقصد زندگی ہے اور ان کے تمام کاموں کا محور اپنے رب کی خوشنودی کا حصول ہے اور یہی بات اس سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹیوں سے ممتاز کرتی ہے اور یہی ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے جس کے پاس ایک دستور ہے جبکہ دوسری جماعت خاندانی کاروبار کے طرز پر چل رہے ہیں اور جہاں پارٹی قائد کی ہر بات کو دستور کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعے اسلامی انقلاب کے لئے راستہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور اس سال اکتوبر کو پشاور میں منعقد ہونے والی اجتماع عام کے لئے تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیں اور چترال کے گوشے گوشے میں ایک ایک گھر کو ایسا نہ چھوڑ دیں جہاں جماعت اسلامی کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس سے قبل جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جماعت کے تین اوصاف بیان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی میں یہ تینوں موجود ہیں اور جماعت کاہرکارکن ان اوصاف سے مزین ہے۔ انہوں نے صوبائی قیادت کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ چترال جماعت اسلامی کا گڑھ بننے والا ہے جہاں کسی بھی ازم کو پنپنے کی اب گنجائش نہیں رہی۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے اپنے خطاب صوبائی امیر جماعت اسلامی کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو وہ حیثیت نہیں دی گئی ہے جو کہ ان کو حاصل ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اس سب کے باوجود چترال میں ضلعی حکومت کی کارکردگی ماضی میں دوسروں کے مقابلے میں کسی بھی طور پر کم نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر چار روزہ دورے پر چترال پہنچ گئے ہیں جہاں وہ موڑکھو، تورکھو، بونی اور دروش میں بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں