109

بعض نا عاقبت اندیش لوگوں نے اختلافات کو ہوا دے کر پارٹی میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ سابق سنیٹر مولانا راحت حسین کاپریس کانفرنس

چترال ( نمایندہ ڈیلی چترال ) جمعیت العلماء اسلام کے مخالف دھڑوں نے سترہ مہینوں کی سیاسی چپقلش کے بعد بالاخر پارٹی کے صوبائی ڈپٹی سیکرٹری اور سابق سنیٹر مولانا راحت حسین کی کوششوں سے اختلافات ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ چترال پریس کلب میں پیر کے روز مولانا راحت حسین نے جے یو آئی کے ضلعی رہنماقاری عبدالرحمن قریشی ، جنرل سیکرٹری و نائب ضلع ناظم چترال مولانا عبدالشکور ، سابق ایم پی اے مولاناعبدالرحمن ، قاضی فتح اللہ اور سابق ایم پی اے غلام محمد اور پارٹی کے دیگر رہنماؤں اور کارکنوں کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ۔ کہ رائے کا اختلاف جمہوریت کا حسن ہے ۔ لیکن بعض نا عاقبت اندیش لوگوں نے ان معمولی اختلافات کو ہوا دے کر پارٹی میں دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کی تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہ ہو سکے ۔ اور جے یو آئی fgچترال کے رہنماؤں نے اس کا ادراک کرتے ہوئے صوبائی قیادت کو اس مسئلے کے حل کی دعوت دی ۔ اور خدا شکر ہے ۔ کہ آج جے یو آئی کے تمام رہنما اور کارکناں ایک جگہے پر جمع ہیں ۔ اور سابقہ تمام تلخیاں بھلا کر ایک جسم و جان کی طرح جمیعت کی ترقی اور کامیابی کیلئے متحد ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں جمیعت 2002سے ایک بڑی قوت کے طور پر اُبھری ہے ۔ دو مرتبہ جنرل الیکشن اور اب کے بلدیاتی الیکشن میں بھی بھاری کامیابی حاصل کی ہے ۔ اور تحصیل و ضلع کی سطح پر کولیش گورنمنٹ میں شامل ہے ۔ اور یہ بات سب کو معلوم کہ جے یو آئی کے بغیر کوئی بھی حکومت نہیں بن سکتی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ اختلاف رائے کوئی غیر اسلامی فعل نہیں ہے ۔ صحابہ کرام کی زندگی میں بھی رائے کا اختلاف موجود تھا ۔ اس لئے کسی رائے سے اختلاف کا مقصد موقف میں فرق سے تعبیر کیا جانا چاہیے ۔ نہ کہ اُس کو اختلاف برائے اختلاف قرار دیا جائے ۔ مولانا راحت حسین نے جے یو آئی کے تمام رہنماؤں اور کارکنوں کا شکریہ ادا کیا ۔ کہ انہوں نے مشاورت کا مثبت جواب دے کر اتفاق و اتحاد کے راستے پر گامزن ہونے کا اصولی فیصلہ کیا ۔ جو کہ چترال میں جے یو آئی کی ترقی و کامیابی کیلئے ایک سنگ میل ثابت ہو گی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ یہ اتحاد غیر مشروط وجود میں آیا ہے ۔ اس میں کسی کی جیت اور کسی کی ہار کی کوئی بات شامل نہیں ہے ۔ اور نہ یہ وقت ایک دوسرے کو نیچا دیکھانے کا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ 2018کے الیکشن میں انشاء اللہ جمیعت کو کامیابی ہوگی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ مذہبی اور جمہوریت پسند قوتوں کو احسا س ہوا ہے ۔ کہ 13932707_1772685402999462_8752682102054594565_nمذہبی جماعتوں کا اتحاد و اتفاق وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ اور 2018کے الیکشن میں مذہبی جماعتوں کی ہی کامیابی ہو گی ۔ مولانا راحت حسین نے کہا ۔ اپریل 2017میں خیبر پختونخوا میں جے یو آئی کی صد سال یو تاسیس منائی جائے گی ۔ جس میں ایک کروڑ لوگوں کی شرکت متوقع ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ۔ کہ علماء کا اختلاف رحمت ہے ۔ اور چترال میں جے یو آئی کے دونوں دھڑے حق پر تھے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا ۔ کہ عمران خان کی ذات سے ہمارا کوئی اختلاف نہیں ۔ لیکن برطانیہ میں مسلمان امیدوار کے مقابلے میں غیر مسلم امیدوار کی حمایت اُس کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں