75

زیتون کی افزائش نسل زیادہ تر بذریعہ قلم کی جاتی ہے، جبکہ بعض اقسام کو پیوند کاری کے ذریعے بھی کامیابی سے کاشت بھی کیا جاسکتا ہے،محمداسرار

چترال (ڈیلی چترال نیوز)سرحدرول سپورٹ پروگرام کے پی پی اے ایف پراجیکٹ کے زیراہتمام دروش کے یوسی ون اوریوسی ٹوکے بیس نوجوانوں کوزیتون کی کاشت اورقلم کاری وغیرہ کے حوالے پانچ روزہ ورکشاپ ہوئی ۔جس میں اولیو گروور ایسوسی ایشن دیرلوئیرکے صدرمحمداسراراورنائب صدرنورمحمدٹریننگ دے رہے تھے۔انہوں نے شرکائے ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم تالاش لوئیردیرمیں اس کی کامیاب تجربے کے بعدملک کے مختلف علاقوں میں کاشت کاری اورگرافٹنگ کے طریقہ کارمختلف فورم کی مددسے ٹریننگ دیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چترال میں خاص کردروش کی زمین زیتون کے لئے بہت ہی موزون 2ہے جس کے لئے ہم ایس آرایس پی کے پی پی اے ایف پراجیکٹ کے مشکورہیں کہ انہوں نے یہاں کے نوجوانوں کوتربیت دینے کی مواقع فراہم کیا۔انہوں نے کہاکہ زیتون کے درخت کی نشوونماء کیلئے ایسی آب وہوا درکار ہوتی ہے جہاں گرمیوں میں موسم خشک، سردیوں میں درجہ حرارت کچھ عرصہ کیلئے ۷ ڈگری سینٹی گریڈ سے کم اور زیادہ بارشیں ہوتی ہوں، بہت مناسب ہے۔ مذکورہ موسمی حالات میں زیتون کا پودا اچھی طرح پھلتا پھولتا ہے۔زیتون کی افزائش نسل زیادہ تر بذریعہ قلم کی جاتی ہے، جبکہ بعض اقسام کو پیوند کاری کے ذریعے بھی کامیابی سے کاشت بھی کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ زیتون کا درخت عموماً ۳ سے ۴ سال کے عرصہ میں پھل دینا شروع کردیتا ہے اور اس کی اچھی اقسام سے ہر سال ۰۲ سے ۵۲ کلوگرام فی پودا پیداوار حاصل کی جاسکتی ہے۔ زیتون کی کاشت موسم بہار (فروری، مارچ) اور مون سون (اگست، ستمبر) میں کی جاتی ہے۔ زیتون کے پودوں کو ہموار جگہوں پر قطاروں میں لگایا جاتا ہے اور قطاروں کا رخ شمالاً جنوباً رکھا جاتا ہے۔انہوں نے شرکائے ورکشاپ کو یادہانی کراتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیاکہ قطاروں کا درمیانی فاصلہ ۰۲ فٹ اور پودے سے پودے کا فاصلہ بھی ۰۲ فٹ ہونا چاہئے اور کاشت سے قبل زمین پر پودوں کیلئے نشانات لگا کر ۲ فٹ گہرے اور ۲ فٹ چوڑے چوکور گڑھے کھودیں اور انہیں تقریباً ۲ ہفتے تک کھلا رکھیں۔ ان گڑھوں سے نکالی گئی بالائی مٹی ۲ حصے اور گوبر کی گلی سڑی کھاد ایک حصہ لے کر 21اچھی طرح ملانے کے بعد گڑھے کو مٹی سے بھر دیں اور خوب پانی ڈالیں تاکہ مٹی اچھی طرح بیٹھ جائے۔ گڑھوں کو کھلا پانی دینے کے ۲ سے ۳ ہفتے بعد پودوں کی جڑوں یا گاچی کی ضرورت کے مطابق گڑھے کھود کر پودے لگائیں، جبکہ بذریعہ پیوند کاری تیار کئے گئے پودے کے پیوند کا جوڑ بوقت کاشت مٹی سے باہر ہونا ضروری ہے۔اس موقع پر سینئر لائیولی ہڈ افیسر عبادالرحمن ،پروگرام کے دوسرے اہلکار رشید الدین اور تشفیف الدین نے جبکہ شرکاء کی طرف سے طاہر الدین نے بھی خطاب کیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں