35

صوبائی حکومت اور مہاجرین کے درمیان رابطے اور مسائل کے حل کے لئے کوآرڈنیٹر مقرر کیا گیا ہے۔وزیراعلیٰ پرویزخٹک

چترال (نامہ نگار)(وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے صوبے میں مہاجرین کے مسائل حل کرنے کے لئے محکمہ داخلہ ، پولیس، سپیشل برانچ ، محکمہ تعلیم، بھٹہ خشت، افغان مہاجرین کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی ہے کمیٹی مہاجرین کے نمائندوں کی طرف سے اُٹھائی گئی شکایات کا جائزہ لے گی اور ان کو دور کرنے کیلئے اقدامات اُٹھائے جائیں گے۔ رستم شاہ مہمند کو صوبائی حکومت اور مہاجرین کے درمیان رابطے اور مسائل کے حل کے لئے کوآرڈنیٹر مقرر کیا گیا ہے۔ بدھ کے روز وزیر اعلیٰ ہاؤس پشاور میں رستم شاہ مہمند کی سربراہی میں افغان مہاجرین کے عمائدین کے 15رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے ایک بار پھر واضح کیا کہ صوبائی حکومت کے لئے بنیادی مسئلہ غیر رجسٹرڈ غیر ملکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن وفاق کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کئی بار وفاقی حکومت سے رابطہ کر چکے ہیں ان کے لئے فنڈز فراہم کردیئے گئے ہیں جبکہ وفاق نے اکتوبر سے رجسٹریشن شروع کرنے کا کہا ہے۔ افغان حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ہمارے وفاق سے رابطہ کرے۔ ہمیں سمجھ لینا چاہیئے کہ دُنیاکے حالات تبدیل ہو چکے ہیں اب بغیر شناخت کے آدمی اپنے ملک میں بھی آزادانہ نہیں پھر سکتا ۔انہوں نے کہاکہ بغیر شناخت اور ریکارڈ سے کسی کو گھومنے پھرنے کی اجازت نہیں دے سکتے چاہے وہ پاکستانی ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ بغیر ویزہ کے وزیراعلیٰ بھی کابل نہیں اُتر سکتا۔ ہر ملک میں آنے جانے اور وہاں رہنے کے قواعد و ضوابط ہیں مہاجرین رجسٹریشن کروا کر اپنی ذمہ داری ادا کریں ہم ان کو قانون کے مطابق ان کا حق دیں گے اور تمام جائز مسائل حل کررہے ہیں وزیراعلیٰ نے یقین دلایا کہ صوبے کی پولیس بغیر وجہ کسی کو تنگ نہیں کریگی اگر مہاجرین کی جائز شکایات ہیں تو اندراج کرائیں، ازالہ کریں گے۔ہماری پولیس بہترین فورس بن چکی ہے لیکن پھر بھی ان میں غلط لوگ ہو سکتے ہیں اگر افغان مہاجرین رجسٹرڈ ہیں اور ان کے ساتھ واقعی زیادتی ہوئی ہے تواس کا تدارک کریں گے ۔ہمارے چیلنجز کی وجہ سے سر چ آپریشن اکیلے پولیس نہیں بلکہ مشترکہ ٹیمیں کر تی ہیں ۔ اس مسئلہ کی وجہ سے ہم سب الزامات کی زد میں ہیں۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ مہاجرین کی واپسی بین الاقوامی اور قومی مسئلہ ہے۔ یو این چارٹر کے تحت معاہدوں پر عمل درآمد وفاقی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ صوبے کا دائرہ اختیار محدود ہے اور افغان مہاجرین کی واپسی یااس کے برعکس فیصلے کا مجاز وفاق ہے۔دسمبر تک تو سیع دی گئی ہے اگر وفاق واپس بھیجنے کا فیصلہ کر تا ہے تو صوبہ روک نہیں سکتا۔ مہاجرین کو اس سلسلے میں وفاقی حکومت سے رابطہ کرنا چاہیئے ۔ میں افغان مہاجرین کا مسئلہ متعلقہ فورم پر متعد دبار اُٹھا چکا ہوں ۔ ہمارے ہاں امن و امان سمیت متعدد چیلنجزدرپیش ہیں ان چیلنجز سے بحسن خوبی عہدہ برآ ہونا ہم سب کے مفاد میں ہے۔ طورخم اور دیگر بارڈ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ وفاق کے دائرہ اختیار میں آتا ہے ۔14 فارن ایکٹ کے تحت گرفتار افغانوں کو رہا کرنے کا جو قاعدہ قانون ہے اس کے تحت ان کی رہائی ممکن ہے۔ انہوں نے چمکنی میں وی آر سی میں بیٹھنے، واش روم اور اضافی سہولیات کی ہدایت تاکہ افغان بھائیوں کو عزت ملے۔سپیشل برانچ کو ہدایت کی ہے کہ افغان مہاجرین کیلئے علیحدہ کاونٹر بنائیں ہم افغان مہاجرین کیمدد کرنا چاہتے ہیں لیکن قاعدہ اور قانون کے تحت کیونکہ افغان مہاجرین ہمارے بھائی ہیں ان کی تکالیف سے ہمیں تکلیف ہوتی ہے ہم نے 38 سال ان کو مہمان رکھا ہم اب بھی اسی طرح کا جذبہ رکھتے ہیں ۔ مشیر برائے اطلاعات و تعلقات عامہ مشتاق غنی ، انسپکٹر جنرل پولیس، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں