39

متحدہ کی کمان’’بھائی ‘‘کی ’’بیٹی‘‘کے پاس۔۔۔۔۔تحریر:غلام رضا

logo

کراچی میں ایک ہفتے سے جو کچھ ہو رہا ہے وہ کسی بھی آزاد اور خودمختار ملک میں نہیں ہوتا،کوئی پاگل بھی اپنے ملک کیخلاف نعرے نہیں لگواتا،کوئی جاہل بھی قومی پرچم نذر آتش نہیں کرواتا،کوئی گھٹیا ترین انسان بھی دشمن ملک سے مدد نہیں مانگتا مگر ہمارے پیارے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں یہ سب کچھ ہوا اور یہ سب کچھ غداری کے زمرے میں آتا ہے اور غدار وطن کی سزا صرف اور صرف موت ہے،فاروق ستار نے رینجرز کی قید سے آزادی کے بعد ’’بھائی ‘‘کی مشاورت سے خود کو متحدہ کا قائد بنایا،’’بھائی ‘‘کے کہنے پر ہی ’’بھائی ‘‘سے لاتعلقی کا اعلان کیا،اگر یہ سب کچھ نہ کیا جاتاتو کم از کم سزا ایم کیو ایم پر پابندی بنتی تھی مگر فاروق بھائی نے چال چلتے ہوئے معاملات کو وقتی طور پر ٹھنڈا کیا،’’بھائی ‘‘نے پاکستان مخالف نعرے اپنی نہیں ’’را ‘‘کی رضا مندی سے لگوائے،پاکستان مخالف تقریر میں ’’بھائی ‘‘کو ’’را‘‘کی مکمل حمایت حاصل تھی،باوثوق ذرائع کے مطابق’’بھائی‘‘نے بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’’را‘‘کے اعلی افسران سے مشاورت کے بعد پاکستان کے خلاف ہرزاسرائی کی اور وہاں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ اگر میری تقریر کے بعد اگر کسی قسم کی کوئی پابندی لگی تو ایم کیو ایم کی قیادت میری بیٹی کرے گی جسے ’’را‘‘نے قبول کر لیا،’’بھائی‘‘پر پابندی کو لندن رابطہ کمیٹی نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے’’بھائی‘‘کی بیٹی کی مکمل حمایت کا اعلان کیا،متعدد بار پہلے بھی جب متحدہ پر کوئی آفت آئی تب ’’بھائی‘‘کی ’’بیٹی‘‘کے قائد بننے کی خبریں آتی رہیں مگر اب ایم کیو ایم کے حالات کچھ زیادہ ہی خراب ہیں،اس لئے امکانات بھی یہی ہیں جلد ہی ’’بیٹی‘‘میدان میں آجائے گی،ہمارے صحافیوں کو چاہئے کہ غدار وطن کو زیادہ عزت نہ دیں،حکومت کو بھی چاہئے کہ کارروائیوں میں تیزی لائیں، شہر قائد سمیت سندھ بھر میں ایم کیو ایم کے دفاتر سیل کئے جانے کے بعد اب ’’بھائی ‘‘ کی تصاویر بھی نہ صرف نائن زیرو بلکہ شہر سمیت حیدرآباد سے بھی ہٹادی گئیں۔’’بھائی ‘‘کی جانب سے پاکستان سے متعلق نفرت انگیز تقریر اور میڈیا ہاؤسز کے دفاتر پر حملوں کے بعد کراچی سمیت سندھ بھر کے شہری علاقوں میں جماعت کے دفاتر سیل کردیئے گئے تھے مگر بعد میں حیدرآباد میں بھی ’’بھائی ‘‘ کی تصاویر ہٹادی گئیں۔دیکھا جائے تو ’’بھائی‘‘کا راج ابھی تک برقرار ہے کیونکہ ایم کیو ایم کے سینئر رہنما بابر غوری نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ لگانے پر ’’بھائی ‘‘سے معافی مانگ لی جس کی ریکارڈنگ بھی سامنے آچکی ہے جس میں معذرت کرتے ہوئے بابر غوری کو پاکستان مخالف نعرے لگاتے سنا جاسکتا ہے۔بابر غوری کے الفاظ کچھ یوں تھے میں نے پاکستان زندہ باد کا ٹویٹ کیا اگرآپ اس کو درست نہیں سمجھتے ہیں تو میں ایسی غلطی پر معافی مانگتا ہوں اور اس کے بعد بابر غوری نے پھر پاکستان مخالف نعرے لگانے شروع کردئیے۔ امریکہ میں ’’بھائی ‘‘کی تقریر کے دوران بابر غوری سمیت تقریب میں موجود سب لوگوں نے باری باری پاکستان مخالف نعرے لگائے،میڈیا سے بات چیت میں بابر غوری نے کہا میں نے پاکستان زندہ باد کا نعرہ دل سے لگایا، نعرہ لگانے پر معافی نہیں مانگی ہے، میں پاکستان زندہ باد کہنے پر ابھی بھی قائم ہوں۔ ٹویٹ کرنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا، میں نے بغیر بتائے ٹویٹ کرنے پر معافی مانگی تھی، ہم ٹویٹ کرنے سے پہلے پارٹی کو بتانے کے پابند ہیں۔جب سے نواز شریف بر سراقتدار آئے ہیں تب سے ایک بات تو کنفرم ہوتی جا رہی تھی کہ ایم کیو ایم میں ملک کے غدار موجود ہیں اور حقیقت سب کے سامنے کھل کرآگئی۔اب کچھ لوگ متحرک ہوچکے ہیں جن میں پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال سر فہرست ہیں وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے رہے اور ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں سے رابطے میں ہیں،اطلاعات یہ بھی ہیں کہ مصطفی کمال دبئی پہنچ چکے ہیں اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں حیدر عباس رضوری اور سلیم شہزاد سے ملاقات کر کے اپنی پارٹی میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں،ممکن ہے کالم کی اشاعت تک دونوں میں سے کوئی پاک سرزمین پارٹی میں شمولیت کا اعلان بھی کر دے، عامر لیاقت سمیت کئی رہنماؤں نے پہلے ہی پارٹی سے منہ موڑ لیا جبکہ کئی رہنما منحرف ہوکر پاک سرزمین پارٹی میں شامل ہوچکے ہیں،میرے مطابق ایم کیو ایم لندن سیکرٹریٹ کے ہوتے ہوئے فیصلے پاکستان میں کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے۔دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی ایم کیو ایم کے فعال دفاتر اور کارکن موجود ہیں جہاں سے کسی نے لاتعلقی کا اعلان نہیں کیا ،فاروق ستار مصلحت کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں ایم کیو ایم کے سخت گیر اور نرم گفتار طبقے کو ملاکر چلنا چاہتے ہیں لیکن موجودہ صورت حال میں یہ ناممکن دکھائی دے رہا ہے،ایم کیو ایم کی کراچی پر حکمرانی کی بات کی جائے تو متحدہ نے کراچی پر کئی سال راج کیا، نافرمانی کی جسارت کرنے والے کو عبرتناک انجام سے دوچار ہونا پڑا۔ میڈیا مالکان کو نائن زیرومیں طلب کر کے ان کی مشکیں کسیں جاتی رہیں،’’بھائی ‘‘کی مرضی کے بغیر اخبارات نہیں چھپ سکتے تھے۔ ’’بھائی ‘‘کیخلاف کوئی بھی گلی محلے میں کوئی بات نہیں کر سکتا تھا سب میں ڈر اور خوف پایا جاتا تھا مگر اب حالات ایسے بدلے کہہ سب ’’بھائی‘‘اور ’’متحدہ‘‘کی مٹی پلیت کر رہے ہیں غدار وطن کی صرف مٹی ہی پلیت نہیں ہونی چاہئے بلکہ سرعام لاکھوں لوگوں کا مجمہ اکھٹا کر کے پھانسی دی جانی چاہئے تاکہ پاکستان کیخلاف کوئی نعرہ لگانے کی جرات نہ کرے۔غدار وطن کی سزا صرف اور صرف موت ہے اور موت ہی ہونی چاہئے،فاروق ستار کیلئے مشورہ ہے کہ جلد از جلد ایم کیو ایم کے آئین میں ترمیم کر لیں تاکہ ’’بھائی‘‘کی ’’بیٹی‘‘جماعت پر قبضہ کر کے باپ کے نقشہ قدم پر نہ چل پڑے اسی میں فاروق ستار،متحدہ کارکنوں کی بھلائی ہے،کیونکہ پاکستان ہیں تو ہم ہیں،سب سے پہلے پاکستان
پاکستان زندہ باد

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں