41

صوبائی حکومت نے پولیس کو جو اختیارات دیے ہیں ۔ وہ اُن کی کارکردگی کا امتحان ہے ۔ اگر پولیس اس کو ہضم کرکے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے،ڈسٹرکٹ ناظم

چترال ( نما یندہ ڈیلی چترال ) ضلع ناظم چترال حاجی مغفرت شاہ نے کہا ہے ۔ کہ موجودہ صوبائی حکومت نے پولیس کو جو اختیارات دیے ہیں ۔ وہ اُن کی کارکردگی کا امتحان ہے ۔ اگر پولیس اس کو ہضم کرکے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے ۔ تو یقیناًیہ عوام کے زیادہ قریب ،غیر جانبدار بلکہ جمہوری پسند پولیس کے نام سے موسوم ہو گا ۔ اور اگر خدا نخواستہ ان اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھایا گیا ۔ تو پولیس کے بارے میں لوگوں کا رویہ پہلے سے بھی بد تر ہو سکتا ہے ۔ اس لئے یہ ضروری ہے ۔ کہ پولیس کے آفیسرز ان اختیارات کا صحیح استعمال کریں ۔ ان خیا لات کا اظہار انہوں نے پیر کے روز ضلع کونسل حال چترال میں پولیس ایکٹ کے حوالے سے ڈی پی او چترال آصف اقبال مہمند کی طرف سے بریفنگ کے بعد خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس ایکٹ میں جو ترامیم کی گئی ہیں ۔ اُس میں پولیس کا خود مختار بنایا گیا ہے ۔ ضلع کے اندر ڈی پی او کو ایک خود مختاری دی گئی ہے ۔ تاکہ بغیر کسی رکاوٹ کے وہ میرٹ کی بنیاد پر کام کر سکے ۔ لیکن سابقہ تجربات سے اس بات کا خدشہ 11موجود ہے ۔ کہ ان اختیارات کا غلط استعمال پولیس کو بادشاہ اور ڈکٹیٹر بھی بنا سکتا ہے ۔ جس سے عوام پہلے ہی نالاں ہے ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ۔ کہ صوبائی حکومت اختیارات کو نچلی سطح پر لا کر عوام کو باختیار بنانے کا دعوی کر رہی تھی ۔ جس کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے اُس کے اُلٹ راستے پر گامزن ہے ۔ ضلع ناظم نے کہا ۔ کہ ہمارے اداروں کی یہ روایت رہی ہے ۔ کہ ہر کوئی اپنے بندوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے ۔ چاہے وہ غلط کیوں نہ ہو ں ۔ اگر اسی طرح سلسلہ محکمہ پولیس میں بھی جاری رہا ۔ تو پولیس ایکٹ کے فوائد نہیں نکل سکتے ۔ ہمیں اپنے پسند اور نا پسند کی بجائے میرٹ اور صحیح اصولوں پر فیصلہ کرنا ہو گا ۔ کسی کو بچانے کیلئے نہیں ۔ انہوں نے ڈی پی او کو مشورہ دیا ۔ کہ وہ چترال کے حوالے سے ایک پلان بنائیں اُس پر عملدر آمد کرنے میں ہم سب آپ کی پُشت پر ہو ں گے ۔ کلیدی پوسٹ اُن آفیسران کے حوالے کریں ۔ 12جو اچھی شہرت کے حامل ہیں ۔ اور آپ کی طرف سے اس تعیناتی سے ہی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ کہ پولیس کتنی بہتری کی طرف جا رہی ہے ۔ قبل ازین ڈی پی او چترال اصف اقبال مہند نے ضلع کونسل میں صوبائی حکومت کی طرف سے پولیس ایکٹ میں لائے گئے اصلاحات کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا ۔ کہ صو بائی حکو مت نے بہت تحقیق اور کو شش کے بعد پولیس کو عوام دوست بنانے کیلئے ایکٹ میں کئی ترامیم کی ہیں ۔ جس میں پولیس کے غیر جاندار رہنے ، پروفیشنل ہونے ، جوابدہی اور شفافیت پر عملدر آمد ، اپریشنل طور پر آزاد و خود مختار ، کمیونٹی کے ساتھ قریبی روابط اور سروس ڈلیور کرنے کی خوبیوں سے مزین ہو ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پولیس کا کام ہی کچھ اس طرح ہے ۔ کہ باوجود کوششوں کے اس سے کوئی بھی فرد خوش نہیں ہو تا ۔ تاہم صوبائی حکومت نے اسے عوام دوست بنانے کیلئے جو قوانین بنائے ہیں ۔ اُس سے بہتری کی اُمید رکھی جانی چاہیے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ پہلے پولیس پر یہ انگشت نمائی کی جاتی تھی ۔ کہ بھرتی میں سفارش ، رشوت اور تعلق چلتا ہے ، لیکن اب ایٹا اور این ٹی ایس سے ان غیر قانونی تقریوں پر قابو پا لیا گیا ہے ۔ پولیس کے تعمیرات میں فنڈ پروکیورمنٹ پر اعتراضات تھے ۔ اب اُسے بھی سسٹم کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ غیر قانونی تبادلوں کا راستہ بھی بند کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ۔ کسی بھی حوالے سے درخواستی بلا کسی جھجک کے ڈی پی او چترال یا ضلع سے باہر آفیسران کے نوٹس میں اپنا مسئلہ لا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال میں خدا کے فضل سے جرائم کی بہت کمی ہے اس کے باوجود ہم جرائم پیشہ افراد سے غافل نہیں ہیں ۔ منشیات فروشوں کے خلاف مہم مسلسل جاری ہیں ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ چترال اپریشنل ایریا ہے ۔ اس میں ممکنہ دہشت گردی کو روکنے کیلئے چترال پولیس دیگر فورسز کے شانہ بشانہ خدمات میں مصروف ہے ۔ اور نئے ایکٹ کے مطابق پولیس کے جوانوں کو مختلف شعبوں میں تربیت فراہم کی جائے گی ۔ جس سے ان کی صلاحیتیں مزید بڑھ جائیں گی ۔ ڈی پی او نے کہا ۔ کہ یہ بات انتہائی خوش آیند ہے ۔ کہ چترال میں شندور میلہ ، جشن کاغلشٹ ، چلم جوشٹ ، اوچال وغیرہ تہوار اور میلے خیریت سے گزرے ۔ اور یہ مقامی لوگوں فورسز اور چترال پولیس کی کو ششوں کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے ۔ اور اللہ سے امید ہے ۔ آیندہ بھی قریبی روابط جاری رہیں گے ۔ اس موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے رحمت غازی ، جے یو آئی کے مولانا عبدالرحمن ، مولانا انعام الحق ،شیر محمد ، غلام مصطفی ایڈوکیٹ ، اقلیتی رکن عمران کبیر وغیرہ نے اپنے چترال کے اند ر پولیس سے متعلق مختلف مسائل سے ڈی پی او کو آگاہ کیا ۔ جس پر انہوں نے اقدامات اُٹھانے کی یقین دھانی کی ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں