32

کم عمری کی شادیوں نے عالمی توجہ حاصل کر لی

اسلام آباد(نامہ نگار)انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق نیپال میں کم عمری کی شادیاں روکنے کے سلسلے میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔ نیپال میں سرکاری طور پر شادی کی عمر بیس برس مقرر ہے لیکن اِس قانون پر عمل درآمد کم ہی ہوتا ہے۔امریکی شہر نیویارک میں قائم انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے واضح کیا ہے کہ نیپال میں کم عمری میں شادیوں کا سلسلہ زور شور سے جاری ہے اور حکومت کے تادیبی اقدامات بظاہر بے اثر ہیں یا حکومت چائلڈ میرج روکنے کے لیے بنائے گئے قانون کو نافذ کرنے میں دلچسپی نہیں رکھتی۔ تنظیم کے مطابق نیپالی لڑکیاں شادی کی مقررہ عمر سے قبل ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔دوسری جانب یہ امر اہم ہے کہ نیپال میں چائلڈ میرج کو غیرقانونی قرار دیا جا چکا ہے لیکن قصبوں اور دیہات میں اِس پابندی کو عوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا۔ حکومتی اختیار اِس معاملے میں پوری طرح بے اثر دکھائی دیتا ہے اور اہلکار بھی چشم پوشی کرتے ہیں۔ نیپالی حکومت نے پہلے اعلان کیا تھا کہ کم عمری کی شادیوں کے معاشرتی عمل کو سن 2020 میں پوری طرح ختم کر دیا جائے گا اور اب اِس مہلت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے اِسے 2030ء کر دیا گیا ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ نیپالی حکومت نے کم عمری کی شادیوں کے سلسلے کو ختم کرنے کے لیے قانونی اصلاحات کا وعدہ کیا تھا لیکن اب وہ اِس عمل میں سنجیدہ دکھائی نہیں دیتی۔ انسانی حقوق کی تنظیم کے بیان میں کہا گیا ہے کہ نیپال میں چائلڈ میرج کے سلسلے میں کمی نہیں ہوئی اور بعض کم عمر لڑکے اور لڑکیاں اِسی عمل میں اپنے مستقبل کی بہتری خیال کرتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کی سینیئر خاتون محقق ہیدر بار کے مطابق سینتیس فیصد لڑکیاں اور گیارہ فیصد لڑکے شادی کی مقررہ عمر سے پہلے ہی ازدواجی بندھن میں باندھ دیے جاتے ہیں۔ہیدر بار کے مطابق ایسی شادیوں میں زور زبردستی بھی شامل ہے۔ اِس مناسبت سے جاری کی گئی رپورٹ میں ایک سو کے قریب کم عمر شادی شدہ لڑکیوں اور لڑکوں کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق زور زبردستی کی شادیوں کے کئی واقعات میں لڑکیاں اپنے آشناؤں کے ساتھ گھروں سے فرار بھی ہوئی ہیں۔ ایسا بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ کم عمر لڑکیوں کی شادیوں کی ایک بڑی وجہ غربت اور خاندان کی کفالت کا بوجھ کم کرنا بھی خیال کیا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں