50

وزیر اعظم کا دورہ چترال اور شہزادہ افتخار الدین کی شخصیت و سیاست( پہلی قسط )…. حافظ نصیراللہ منصور

logo
ویسے تو شہزادہ محی الدین کی سیاست کی بساط کے ناقدین بھی قائل ہیں ۔موصوف ایک منجھے ہوئے موقع شناس اور عوام دوست سیاست دان تھے ۔ اپنی مردم شناسی کے بل بوتے پہ تخت چترال پر تیس سال سے زائد عرصہ رونق افروز ہوئے۔ چترال کی سیاست اور سیاستدانوں کو قریب سے پرکھا اور ان کو اپنے گن گانے پر مجبور کیا ۔ آج بھی شہزادہ موصوف کے متوالوں اور معتقدین کی چترال میں کمی نہیں ہے ۔ شہزادہ صاحب ضعیف العمری کے باؤجود حیات ہیں ۔اللہ تعالی ان کی زندگی میں برکتیں عطا فرمائیں ۔بہر حال شہزادہ کے فرزند ارجمند شہزادہ افتخار الدین بھی مردم شناسی ،پاکستانی سیاست فہمی میں کسی سے پیچھے نہ رہا بلکہ اپنے محترم والد سے ایک قدم اگے بڑھے ہوئے ہیں ۔ان کی سیاست کو سمجھنا ایک ایسی قوم کے لئے جو اپنی مادری زبان بولنے پر قادر نہ ہومشکل نہیں ناممکن ہے ہم اس بات پر فخر کر سکتے ہیں کہ ہم نے بھی اپنی سرزمین سے ایسا ممبر الیکیٹ کیا جو زمانے کی بولی خوب سمجھتا ہے ۔ ہمیں تو آج پتہ چلا کہ پرویز مشرف جیسے شاطر آدمی بھی ان کے سیاست کی چالو ں سے نااشنا ہیں ۔وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف ایک سیدھا سادہ آدمی ہے انھوں نے اپنے دورہ چترال کے موقع پر ہمارے محبوب ایم این اے کی مدح میں تین لفظ بول کر وہ پنڈورہ باکس کھول دیا جو افتخار الدین گذشتہ کئی برسوں سے عوام سے مخفی رکھا تھا ۔ یہ بالعموم چترال کی عوام کے لئے اور بالخصوص چترال میں پرویز مشرف کے متوالوں کے لئے لمحہ فکریہ ہے جس کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کرا نا چاہتا ہوں شاید آپ نے غور نہ کیا ہو یا آپ کو اردو سمجھنے یا نہ سمجھنے میں الجھایا گیا ہو ۔بات اردو سمجھنا یا نہ سمجھنا نہیں ہے ۔میاں صاحب اس سے پہلے ہمیں ریاضی پڑھا کر گئے تھے آج اردو کی کلاس لی تو کونسا آسمان گر گیا تمہیں یاد ہوگا ’’ ایک کروڑ روپے کتنے ہوتے ہیں ….. سو لاکھ ….. ایک لاکھ میں سو ہزار ہوتے ہیں‘‘ بہر حال ان کی مہربانی ہے کہ آج کے با برکت دن انجناب نے ہمیں انسان، صاحب عقل ضرور سمجھا اور اس بات کا اقرار کیا کہ ہم اپنی مادری زبان چترالی بولنے پر قادر ہیں ہم پشتو بھی بول سکتے ہیں ۔میں اس بحث میں پڑنا نہیں چاہتا ۔کیونکہ نواز شریف صاحب کی فہم وفراست اتنی ہی ہوسکتی تھی۔ اس قوم کے بہت سارے افراد کسی شاطر مداری کے خوابوں پر ان کے جان نثار اور کسی جعلی پیر کے لئے کٹ مر سکتے ہیں،ایسے میں ان کے لئے سڑک بنا کر ان کا دل جیتنا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔ میرے لئے تعجب کی بات صرف او رصرف یہ ہے کہ چترال کے ایم این اے شہزادہ افتخار الدین چترال آ کر پرویز مشرف او ر APML کا گن گا رہے ہیں اور اسی پارٹی کے ووٹ لے چکے ہیں ۔ایک طرف پرویز مشرف کا ویڈیو لنگ سنوارہے ہیں جبکہ دوسری طرف نواز شریف کو تسلی دے رہے ہیں کہ’’ میں مسلم لیگی ہوں اور رہوں گا مجھے قبول کر لے اگر آپ فرمائیں تو میں اپنی سیٹ سے مستعفی ہو جاؤں ‘‘ اس بات کوعوام سے مخفی رکھا گیا یہ کونسی سیاست ہے کیا پرویز مشرف کے متوالوں کے ساتھ دھوکہ نہیں ہوا ؟۔ مشرف صاحب سیاست میں نیک شگون نہیں رکھتے ان کو دس بار باوردی سیلیکٹ کرنے والے بھی ان کے ساتھ ایسے ہی کر گئے تھے ۔سوال یہ ہے کہ شہزادہ صاحب آئندہ الیکشن میں کس پارٹی کی ٹکٹ پہ الیکشن لڑیں گے ؟۔ میرا خیال ہے کہ دونوں بھائی پارٹنر شپ کریں گے ایک مشرف کا ہوگا تو دوسرا نواز شریف کا ۔ اپنی تقریر میں نواز شریف نے مزید یہ کہا ’’ میں آ پ کو امتحان میں ڈالنا نہیں چاہتا آپ اپنی قوم کی خدمت کریں میں آپ کے ساتھ ہوں اور میں نے ان کاساتھ دیا ‘‘ اس کا مطلب یہی ہے کہ میں آپ کو اپنی پارٹی میں قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں اور اگلے الیکشن میں آپ کی شہرت دیکھ کر فیصلہ کروں گا اور اگلے الیکشن تک آپ کو موقع دے رہا ہوں اپنی غلطیوں سے توبہ تائب ہو جائے اور پھر دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سچی توبہ کرکے میری طرف رجوع کر لیناپھر آپ کے بارے میں غور کیا جائے گااتنی دیر تک میں آپ کے ساتھ تعاون ضرور کروں گا ۔ماضی کی بات ہے سننے میں آیا ہے کہ جلاوطنی کے بعد میاں صاحب نے شیخ رشید اورشہزادہ صاحب کو ہی پارٹی میں قبول کرنے سے انکار کیا تھا ۔ امیر مقام کو قبول کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں حضرات سے کوئی بہت بڑی خطا ہوئی تھی ۔شیخ صاحب تو دن رات تڑپ رہے ہیں جبکہ شہزادہ صاحب کو موقع کی امید نے راحت پہنچائی ہے ہم تاویل یوں کر سکتے ہیں کہ چترال کی بہتر مفاد میں میاں صاحب سے بہتر تعلق استوار کئے ہوئے ہے اگر چہ APML کے لئے آستین کے سانپ کا کردار ادا کر رہا ہے اور یہی سیاست پاکستان میں کامیاب سمجھی جاتی ہے ۔میرے خیال میں شہزادہ صاحب ایک بہتریں ملاح ہیں جو ہوا کی رخ جان کر کشتی چلا رہے ہیں ۔بہترین حکیم ہیں نبض دیکھ کر دوائی دیتا ہے ۔اچھے استاد ہیں جو طالب علموں کی استعداد کے مطابق پڑھا تا ہے ، یہی آل راؤنڈر لوگ بذات خود کامیاب تصور ہوتے ہیں ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں آتی ، نہ ہی عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچنے کا موقع دیتے ہیں(جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں