33

وزیر اعظم کا دورہ چترال اور افتخار الدین کی شخصیت و سیاست (دوسری قسط)……… حافظ نصیر اللہ منصور

logo
وزیر اعظم کے دورہ چترال کے بعد سوشل میڈیا پر میاں صاحب کی بے ڈھنگا تقریر پر زور شور سے بحث و مباحثے جاری ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ میاں صاحب نے اپنی تقریر میں چترالی قوم کو تضحیک کا نشانہ بنایا،قوم کو بے وقوف بنانے کی کوشش کی، اور تعلیم سے کوسوں دور ان پڑھ قوم قرار دیا۔یہ لوگ بھی مخالفت میں زیادہ اگے بڑھ رہے ہیں ۔بعض افراد کا کہنا ہے کہ یہ چھوٹی موٹی باتیں ہیں ،ان کو بھول جائیے، ترقی کی طرف اگے بڑےئے ، میاں صاحب نے اچھے اچھے اعلانات کئے ہیں،ان میں بعض افراد کم ظرفی کا شکار ہیں اور ناراضگی سے پریس کانفرنس بھی کر رہے ہیں ۔لیکن میاں صاحب کی پارٹی کے کارکنان کی کوئی کومنٹس نہیں آرہی شاید وہ بھی اس تقریر سے مطمئن نہ ہوں۔،قائد کی تقریر سے نالاں ہوکر سوشل میڈیا کا بائیکاٹ کئے ہوئے ہوں ۔بہر حال اصل حقیقت کی طرف کوئی بھی پیش رفت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔میرے خیال میں اردو جاننا یا نہ جاننا کوئی بڑا ایشو نہیں ہے اس میں پڑنے کی ضرورت بھی نہیں ہے ۔یہاں کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ان کی حقیقت کو جاننا ضروری ہے ۔ میاں صاحب کے چترال آنے کا مقصد کیا تھا ؟ میاں صاحب کو ہماری اردو ،پشتو اور انگریزی بولنے اور سمجھنے پرخوشی کیوں ہوئی ؟ اردو بولنے والوں سے کونسے لوگ مراد ہیں ؟کیا آج سے بیس سال پہلے چترالی قوم ان پڑھ تھی ؟ کیا واقعی میاں صاحب کو چترال سے محبت ہے؟ ان سب سوالوں کاجواب میاں صاحب کی تقریر میں موجود ہے۔اگر چہ میاں صاحب نے ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھا نہ ہی گفتگو کا سلیقہ اپنا نے کی کوشش کی ہے۔ رانا ثناء اللہ سمیت پارٹی کی تمام لیڈر شپ ایسے ہی بے ڈھنگا تقریر کرتی ہے یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ ان کو اپنے اوپر کوئی گران نہیں سمجھنا چاہئے ۔میڈیا کے بعض حلقوں نے میاں صاحب کے چترال آمد کو اپنے ایک ذاتی ملازم کی دعوت ولیمہ میں شرکت کرنا قرار دیا ہے۔ جس کے لئے میاں صاحب مکمل پروٹوکول کے ساتھ آئے ایک تیر دو شکار کر گئے یہ بھی ہمارے لئے تو خوش آئند بات ہے ۔البتہ میاں صاحب کو تو یہ معلوم ہو نا چاہئے تھا کہ کے پی کے میں چترال واحد ضلع ہے جس میں خواندگی کی شرح دیگر اضلاع کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ میاں صاحب کے ساتھ اردو بولنے والے اور میاں صاحب کو اردو سے متاثر کرنے والے اگر کوئی ہے تو وہ صرف وہی دو ہو سکتے ہیں جن کی خاطر آج چترال تشریف لائیں جن کی اردو سن کر میاں صاحب چکرا جاتے ہیں اور بیس سال پرانی باتیں دوہراتے ہیں ۔ بقول ان کے یہی لوگ پہلے بھی مسلم لیگی تھے اور اب بھی مسلم لیگی ہیں مجبورا اپنی کوتاہیوں اور کرپشن کو چھپانے کے لئے تو بہت سارے لوگ مشرف کی چھتری تلے پناہ لے چکے تھے اور اب سارے اپنے اپنے گھونسلوں میں واپس جاچکے ہیں۔ شہزادے کی بھی قسمت اس وقت جاگ اٹھی تھی ایک زیرک انسان ہونے کے ناطے ان کے سامنے جہاں اور بھی تھے(بڑی دیر کی مہربان آتے آتے) ۔ایم این اے ہونے کی حیثیت سے میاں صاحب شہزادہ کی اردو کو پوری قوم کی اردو سمجھتا ہے حلانکہ ایسا بالکل نہیں ہے ،ہاں شہزادے کی تقریر اور گفتگو میں میاں صاحب کا بیان کردہ تینوں زبانوں کا اختلاط واضح نظر آئے گا اور میاں صاحب کے ساتھ گہرے مراسم بھی شہزادہ صاحب ہی رکھتے ہیں۔ہمارے لئے خوشی کی بات ہے کہ بیس سال بعد شہزادہ صاحب کے اردو بولنے میں تبدیلی آگئی ہے۔ تعلیم یافتہ ہوگئے ۔اگر یونیورسٹی بیس سال پہلے قائم کی جاتی تو شاید زیادہ تعلیم یافتہ ہوجاتے، تعلیم کے لئے کوئی عمر کی قید تو ہے نہیں ۔مہد سے لحد تک علم حاصل کرنا چاہئے۔ دوسری طرف شہزادہ صاحب کا ووٹ بنک مشرف کی مرہون منت ہے اوریہ بات عیاں ہے کہ مشرف چترال سے دلی محبت رکھتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو(نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ….. نہ اِدھر کے رہے نہ اُدھرکے رہے)۔میاں صاحب کو جاننا ہوگا،کہ شہزادہ صاحب آپ سے گفتگو میں اگر چترالی ،پشتو ،او رانگریزی کا اختلاط کرتے ہیں تو اس میں چترالی قوم کا کوئی قصور نہیں ہے یہ ان کی ذاتی تقصیر ہے۔ میاں صاحب کی اسمبلی میں کونسے پی ایچ ڈی اسکالربیٹھے ہوئے ہیں ۔جعلی ڈگریوں کی تصدیق تو وہاں ہو رہی ہے ۔یاد رہے چترال میں بڑے بڑے بابائے اردو رہتے ہیں جو آپ کی یونیورسٹی سے پڑھ کر نہیں آئے اورنہ ہی آپ کے ہم نشین سارے میر تقی میر ہیں۔ آپ کا تعلق جاہلوں کے ساتھ ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پوری قوم جاہل ہے۔ دوسری طرف خواندگی کا معیار بھی اردوجاننا نہیں ہے ورنہ یورپ میں سارے جاہل ہیں۔ میاں صاحب : کسی زمانے میں آپ کی کابینہ میں نواب اکبر خان بگٹی بھی ہوتے تھے جو سرے سے اردو زبان کے مخالف تھے اور اسمبلی میں پشتو زبان میں تقریر کرتے تھے۔ آپ نے ان کی طرف منسوب کرتے ہوئے ان کے قبیلے کوکبھی ان پڑھ نہیں کہا ۔اردو سیکھانے کے لئے بلوچستان میں ایک سکول تک نہیں کھولا ،چترال ایک اسٹیٹ ہونے کے ناطے پاکستان کولبیک کہا ،ایک علیحدہ تشخص رکھتا ہے ،دنیا میں ایک منفرد شائستہ اور مہذب تہذیب رکھتاہے چترال سے آپ کی دلی محبت کو ہم خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔اتفاقا عزت مآب شہزادہ افتخار الدین سے میری پہلی ملاقات اس سال چترال ٹاؤن حال میں ایک ادبی تنظیم کے منعقد کردہ کانفرنس میں ہوئی ۔روداد اگلی قسط میں ( جاری ہے )

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں