48

نااہلی ہماری یا ذمہ داری حکومت کی۔۔۔۔۔سیّد ظفر علی شاہ ساغرؔ

جولوگ دوسروں کے لئے براسو چتے ہیں وہ ہمیشہ خود ہی ذلیل وخواررہتے ہیں جیسے کہتے ہیں کہ دوسروں کے لئے گڑھاکھودنے والاخودہی گڑھے میں گرجاتاہے۔یہ ہمارامعاشرتی المیہ ہے کہ ہم ہمیشہ دوسروں میں برائیاں تلاش کرتے ہیں لیکن اپنے گریباں میں ایک باربھی جھانکنے کی کوشش نہیں کرتے کہ ہم جوکچھ کرتے ہیں اس میں اچھے برے کی کیاتمیز ہے ۔ہم دوسروں کونیچے دکھانے کی دوڑمیں اس قدرآگے نکل جاتے ہیں کہ اپنی واپسی کاراستہ تک بھول جاتے ہیں اورہمیں یہ تک پتہ نہیں چلتاکہ ہم کہاں اور کس حال میں کھڑے ہیں۔ہمیں دوسرے تو بے وقوف دکھائی دیتے ہیں لیکن اس بات کا کوئی احساس وادراک نہیں کرتے کہ لوگوں کی نظرمیں ہماری اپنی حیثیت کیاہے ۔ہم دوسروں کوبے غیرت کہنے اوران کامذاق اڑانے میں لمحہ ضائع نہیں کرتے لیکن اگر اپنی غیرت کاجنازہ نکلے تواسے قسمت قراردیتے ہیں۔ہم دوسروں کوتکلیف دے کرخوشی محسوس کرتے ہیں لیکن انہی لوگوں سے پھراچھے برتاؤکی توقع بھی رکھتے ہیں۔ ہم تعلیم حاصل کرتے نہیں اور دوش حکومت کودیتے ہیں۔ناپ تول میں کمی خودکرکے خودساختہ مہنگائی پیداکرتے ہیں اورقصوروارحکومت کوٹہراتے ہیں۔گھروں کے سامنے نکاسی آب کے کے نالوں میں زمانے بھرکاگند خودڈال کربند کردیتے ہیں اور ذمہ داری حکومت اور متعلقہ اداروں کے کندھوں پرڈال دیتے ہیں۔بجلی کی چوری ہم کرتے ہیں اور برابھلامحکمہ واپڈاکوکہتے ہیں۔ ہماراکوئی اپنابچھڑجائے توہم دھاڑیں مارکرروتے ہیں لیکن یہ عمل اگر دوسرے لوگ اپنے پیاروں کے بچھڑنے پر کریں تواس کا مذاق اڑانے میں کوئی بھی کسرنہیں چھوڑتے۔ہم دوسروں پر نمازنہ پڑھنے کاالزام تولگاتے ہیں لیکن خودصرف جمعہ پڑھنے پراکتفاکرکے خودکومومن کامل کادرجہ دیے دیتے ہیں۔سوال یہ اٹھتاہے کہ ایساکیوں ہے کیاہم اپنے مذہبی عقائد،اخلاقی اقداراورتہذیبی روایات سے دور چلے گئے ہیں کہ ہمیں اپنی ذات کے سواء کوئی چیزنظرہی نہیں آتی۔ کیاہم نے بزرگوں کاکہنامانناچھوڑدیاہے اور ہماری اجتماعی تربیت میں کمی آگئی ہے یاپھرشائد اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم میں برداشت اور حقیقت پسندی کامادہ ختم ہوچکاہے ہماری دنیامحدود ہوگئی ہے اورمعاشرتی اتارچڑھاؤکی وجہ سے اس قدرنفسیاتی مسائل سے دوچارہوچکے ہیں کہ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتاکہ الجھنوں کی اس مڈبھیڑمیں ہماری لڑائی خود اپنی ذات سے ہے یامدمقابل کوئی اور ہے اور اس ذہنی کشمکش کی تیرگی میں یہ سمجھنے سے بھی قاصرہوتے ہیں کہ ہم پراحساس برتری کاغلبہ ہے یااحساس کمتری کے شکارہیں جس کے سبب ہم نہ حل ہونے والے الجھنوں کی زدمیں ہیں۔یقین کریں جس دن ہم ان سالوں کے جواب ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے معاشرے میں انقلابی تبدیلی آئے گی اورہم بحیثیت قوم مجموعی خوشحالی کی راہ پرگامزن ہوں گے۔ ایک واقعہ مشہورہے کہ ایک دفعہ کسی ملک کے بادشاہ نے ایک شاہراہ بنوائی اور اس کے افتتاح کے لئے ایک ریس کااعلان کیااورکہا کہ اس ریس میں تمام شہری حصہ لیں گے اورریس کے اختتام پر اپنے تاثرات کااظہاربھی کریں گے اوربادشاہ کو جس کی بات پسند آئے گی اسے انعام سے نوازا جائے گا۔یہ سن کر شہریوں نے جوش وخروش سے دوڑمیں حصہ لیاجبکہ شاہراہ کے دوسرے سرے پر بادشاہ ریس کے شرکاء کے تاثرات سن رہاتھا۔کسی نے کم توکسی نے زیادہ تعریف کی البتہ یہ سب نے بتایاکہ شاہراہ پر ایک جگہ بجری پڑی ہے اگراسے اٹھوادیاجائے توراستہ صاف ہوجائے گاشام تک سب لوگ چلے گئے تو بادشاہ اٹھ کرجانے لگااتنے میں ایک سپاہی نے آکر بتایاکہ ریس میں حصہ لینے والوں میں شامل ایک آدمی ابھی تک واپس نہیں آیا۔کچھ دیر بعد ایک بوڑھاآدمی دھول میں لت پت تھکاہواآیااورمعافی مانگتے ہوئے کہاکہ ان کی وجہ سے بادشاہ کوانتظارکی زحمت اٹھانی پڑی لیکن دراصل راستے میں کچھ بجری پڑی تھی میں نے سوچا اس کی وجہ سے شاہراہ پرچلتے لوگوں کوتکلیف ہوگی لہٰذا میں نے اسے ہٹاناشروع کیا جس میں دیر لگ گئی اور ساتھ ہی بادشا ہ کے ہاتھ میں ایک تھیلی تھماتے ہوئے کہاکہ اس میں کچھ پیسے ہیں اور یہ شائد شاہراہ بنانے والے کسی مزدورکی ہوگی یہ کہہ کر روانہ ہواتوبادشاہ نے آوازدے کر روکااور تھیلی اسے دیتے ہوئے کہایہ تمہاری ایمانداری کاانعام ہے ۔پھر بادشاہ دیگر حاضرین کی طرف مخاطب ہوتے ہوئے بولاکہ بہترین انسان وہ ہوتاہے جو گلے شکوے کرنے کی بجائے اپنی عقل سے کچھ کرکے دکھائیں۔اگردیکھاجائے تو ہم سب راستے میں پڑی ہوئی اس بجری پر تو نالاں رہتے ہیں جوہمارے لئے رکاؤٹ کاباعث بنتی ہے مگر اسے ہٹانے کی کوشش نہیں کرتے کیونکہ ہم سب گفتارکے غازی توبنے پھرتے ہیں مگرکردارکاغازی کوئی بھی بننے کوتیارنہیں ہوتا۔ہسپتالوں میں تعینات طبی عملہ یاتو غیرحاضر رہتاہے یاپھرموجودہونے کے باوجود اپنے فرائض پورے کرتادکھائی نہیں دیتااورتاثریہ ملتاہے کہ طبی عملہ موجودہی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ وطن عزیز کے بیشتر علاقوں میں حکومتی دعوں اور فندزکی فراہمی کے باوجود صحت کے شعبے کی حالت انتہائی ابتر اور طبی مراکز انسانوں کے علاج معالجہ اور صفائی وستھرائی کے انتظام کے برعکس کھنڈردکھائی دیتے ہیں جہاں جانور گھومتے پھرتے نظرآتے ہیں ہسپتالوں میں ایمرجنسی حالت میں بجلی کی سہولت کے لئے جنریٹرزموجودہوتے ہیں جن کی مرمت کے لئے فنڈزبھی نکالے جاتے ہیں مگروہ پھر خراب پڑے رہتے ہیں۔لیبرروم اور گائنی وارڈمیں لیڈی ڈاکٹر تعینات توہوتی ہے مگر مریض محض ایل ایچ وی اور نرسوں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں جبکہ رات کے وقت لیبارٹری اور ایکسرے یونٹ کوتالے لگے ہوئے ہوتے ہیں۔تعلیمی اداروں کی حالت بھی کچھ مختلف نہیں ہوتی وہاں بھی اساتذہ ہر وقت چھٹی کرانے کی تاک میں بیٹھے رہتے ہیں جبکہ ڈیوٹی پر حاضر ہوتے ہوئے بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی سعی کرنے کی بجائے وقت گزاری کوترجیح دیتے ہیں جس سے زیرتعلیم طلباء وطالبات کابہت ساراقیمتی وقت یوں ہی ضائع ہوجاتا ہے۔ہمارے ہاں میونسپل اداروں کی کارکردگی بھی برائے نام ہوتی ہے اورمتعلقہ اہلکارمحض کاغذی کارروائی پر اکتفاکرکے سب اچھاہے کی رپورٹ آگے بڑھاتے ہیں اکثرعلاقوں میں میونسپل دفاتر کے سامنے گندگی کے ڈھیرلگے ہوتے ہیں جبکہ نکاسی آب کے نالے بھی بند پڑے رہتے ہیں ۔فائر بریگیڈ کی گاڑی کے ٹائر پنکچراور پانی کی ٹینکی خالی ہوتی ہے یہی وجہ ہے کہ آگ لگنے کی صورت میں فائربریگیڈکی گاڑی تب پہنچتی ہے جب آگ کے شعلے سب کچھ جلاکر اوراپناکام تمام کرکے بجھ چکے ہوتے ہیں۔یہ تومختصرذکرتھا سرکاری اداروں کے حال احوال کا ۔اگرپرائیویٹ سیکٹرجائزہ لیاجائے توگاڑی کامکینک ہویامکان بنانے والامستری،ترکھان ہویاموچھی،نائی ہویانانبائی،پلمبرہویالوہار،لینڈپراپرٹی کرنے والے ہوں یاگاڑیوں کالین دین کرنے والے ،قصائی ہویاکاشت کارسب اپنے اپنے فائدے کاسوچتے ہیں دوسروں کے فائدے کاخیال کوئی بھی نہیں کرتااور شائد اس لئے کہ ہم میں اجتماعی نفع نقصان کی سوچ ختم ہوچکی ہے اور ہم مادہ پرستی کے گرداب میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ صرف پیسہ کماناہی ہمارامقصد رہ گیاہے۔ اجتماعی ترقی وخوشحالی اوراداروں کے استحکام کی اہمیت کیاہوتی ہے ہم اس سے کوئی غرض نہیں ہوتاشائد یہی وہ غفلت ولاپرواہی ہے جو ہمیں آگے بڑھنے کی بجائے پستی کی طرف لے جارہی ہے شائد یہی وہ عوامل ہیں کہ جن کے ہوتے ہوئے ترقی وخوشحالی کے ہمارے تمام دعوے اور وعدے غلط ثابت ہورہے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اداروں کااستحکام حکو،ت کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن انکاراس بات سے بھی نہیں کیاجاسکتاکہ ہماراانفرادی کرداربھی اجتماعی ترقی وکوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے میں حائل بڑی رکاؤٹ ہے۔ہمارے آپس کی رنجشیں اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر ایک دوسرے سے لڑناجھگڑنابھی نقصان دہ عمل ہے ہمارے اجتماعی مفاد کے لئے اور جب تک ہم اپنے رویوں کی بنیادپرمعاملات سیدھاکرنے کی کوشش نہیں کریں گے تب تک محض حکومت اور حکمرانوں کوموردالزام ٹھرانے سے حالات کاسدھرنااور معاملات صحیح خطوط پر ڈالٹے دیکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہے اسی لئے ہمیں تسلیم کرناہوگاکہ نااہلی کے ذمہ دارصرف حکومت اور حکمراں نہیں بلکہ انگلی ہم پر بھی اٹھتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں