28

فیس بک کو کیا کچھ معلوم ہے؟

اگر فیس بک کوئی ملک ہوتا تو اس کے 900 ملین ارکان بانی مارک زکر برگ کودنیا کےتیسرے بڑے ملک کا سربراہ بنا دیتے۔ دیکھا جائےتو یہ کسی بھی ملک کیلئے خاصا مشکل کام ہو گا کہ وہ اپنے شہریوں کی زندگی کا ریکارڈ رکھےلیکن فیس بک نے ایسا کردکھایا ہے۔ فیس بک پر نجی گفتگو، خاندان کی تصاویر، سڑکوں پر سفر کا ریکارڈ، پیدائش، شادیاں،اموات وغیرہ کا ریکارڈ موجود ہوتا ہے۔ فیس بک نے انسانی رویوں کا بہت بڑا ڈیٹا سیٹ جمع کررکھا ہے۔ ممکن ہے اس میں آپ کی کچھ ذاتی معلومات بھی ہوں۔ اگرچہ فیس بک پر جدید زندگی کے بارے میں بہت کچھ ہے لیکن اس کے باوجود ہم نہیں جانتے فیس بک ہمارے بارے میں کتنا کچھ جانتا ہے؟ اگرچہ کمپنی عوامی سطح پر جانی پہچانی جاتا ہے لیکن منافع کے نئے ذرائع تشکیل دینے کیلئے فیس بک کی معلومات کو استعمال کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ ہر کسی کو احساس ہے کہ فیس بک کا غیر معمولی ذریعہ معلومات کوئی بہت بڑا کام سرانجام دے گا لیکن کیا ؟ یہ کسی کو معلوم نہیں۔

فیس بک سے کیا کچھ سیکھا جاسکتا ہے یہ کیمرون مارلو (Cameron Marlow)سے بہتر کوئی نہیں بتا سکتا جو مارک زکر برگ سے چند قدم دور بیٹھتے ہیں۔ مارلو کا اپنا ایک گروپ ہے جسے ڈیٹا سائنس ٹیم کے طور پر جانا جاتا ہے اس گروپ میں 12محققین ہیں جن کی تعداد اس سال دگنا ہو جائے گی۔ یہ سوشل نیٹ ورک کی ٹیم بیل لیبز کی طرح ہے۔ یہ گروپ فیس بک کا ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کیلئے ریاضی، سماجی سائنس اور پروگرامنگ کی مہارت استعمال کرتے ہیںتاکہ فیس بک کے بزنس کو آگے بڑھایا جاسکے۔ جبکہ دیگر تجزیہ کاروں کی ٹیم مخصوص آن لائن سرگرمیوں سے متعلق معلومات پر توجہ مرتکز کئے ہوئے ہیں۔ مارلو کی ٹیم میں فیس بک پر موجود صارفین کے ذاتی ڈیٹا کے سمندر میں غوطہ لگانے کی اہلیت ہے۔ ان تمام محققین اور ان تمام لوگوں کیلئے جو فیس بک کیلئے کام کرتے ہیں یہ جاننے کا بہترین موقع ہے کہ جب ایک ہی جگہ پر اتنی زیادہ معلومات میسر ہوں تو اس ڈیٹا سے کیا کچھ سیکھا جاسکتا ہے۔ فیس بک کے پاس وہ تمام معلومات موجود ہیں جو لوگ جدید طرز زندگی کے بارے میں فراہم کرتے ہیں۔ صارفین اپنی عمر، جنس، ای میل ایڈریس کے علاوہ اضافی معلومات بھی اپنے پروفائل میں شامل کرتے ہیں جن میں ان کے تعلقات کی موجودہ صورتحال، موبائل فون نمبر شامل ہیں۔

گزشتہ موسم خزاں میں فیس بک پر نیا پروفائل صفحہ متعارف کروایا گیا جس میں لوگوں کو تاریخی معلومات فراہم کرنے کی دعوت دی گئی کہ وہ کہاں رہ رہے ہیں ۔ فیس بک پر مشترکہ پیغامات اور تصاویر ان کے محل وقوع کے ساتھ موجود ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ فیس بک نے انٹرنیٹ پر سرگرمیوں کا پتہ چلانے کیلئے لائیک بٹن متعارف کروایا۔ یہ بٹن فیس بک سے باہر کی سائیٹس پر ظاہر ہوتا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ لوگوں کی کون سے مخصوص برانڈ، مصنوعات یا ڈیجیٹل مواد میں دلچسپی لیتے ہیں۔ فیس بک اپنی حدود سے باہر نکل کر صارفین کی زندگیوں سے متعلق ڈیٹا حاصل کرسکتا ہے خواہ صارف لائیک کا بٹن دبائے یا نہ دبائے مثلاً صارف اگر کوئی گانا سن رہا ہے یہ کوئی مضمون پڑھ رہا ہے تو فیس بک پر اس بارے میں پتہ چل سکتا ہے۔ اس فیچر کے تحت فیس بک نے پانچ ماہ میں آن لائن گانے سننے والے لوگوں کی پانچ ارب کے قریب سرگرمیاں نوٹ کیں۔ فیس بک کے صارفین جو معلومات شیئر کرتے ہیں وہ ایک اگر نقشے پر اکٹھی کی جائیں تو ناقابل یقین حد تک ریکارڈ جمع ہو سکتا ہے۔ مارلو کہتے ہیں کہ دنیا نے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں معیاری ڈیٹا دیکھا ہے۔ مارلو کو یقین ہے کہ اس ڈیٹا پر تحقیق کرنے سے لوگوں کے مختلف مواقع پر مختلف رویوں کے بارے میں معلوم ہو گا ۔ان کی ٹیم مشتہرین کو بھی متوجہ کرنے کیلئے کام کرسکتی ہے۔ اس طریقے سے فیس بک روپیہ بنانے کے نئے طریقے تلاش کرسکتا ہے۔

تیزی سے پھیلنے والی معلومات

مارلو نے 2007ء میں فیس بک کو جوائن کیا۔ مارلو کہتے ہیں کہ پہلی بار فیس بک کی شکل میں ہمارے پاس ایک مائیکروسکوپ آئی ہے جس کے ذریعے ہم نہ صرف لوگوں کے سماجی رویوں کا بہترین انداز میں جائزہ لے سکتے ہیں بلکہ کروڑوں صارفین کی فراہم کردہ معلومات پر تجربات بھی کرسکتے ہیں۔ اس سے قبل ہمارے پاس ایسی اہلیت نہیں تھی۔ مارلو کی ٹیم منیجرز کے ساتھ مل کر فیس بک پر معلومات کے پیٹرن پر تحقیق کرتی ہے تاکہ وہ اسے بہتر مقاصد کیلئے استعمال کرسکیں۔ مثال کے طور پر وہ جائزہ لیتے ہیں کہ سوشل نیٹ ورک کے صارفین فیس بک پر متعارف کروائے گئے نئے فیچر کو کیسے استعمال کرتے ہیں۔ اس کیلئے مارلو کی ٹیم کے پاس سوشل سائنسز کا علم ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے مارلو کی ٹیم فیس بک کے آفسز میں سافٹ وئیر انجینئرز سے مختلف لگتی ہے۔ گروپ کا عام رکن پی ایچ ڈی کرکے یا اس سے جونیئر گروپ میں شمولیت اختیار کرتا ہے وہ فیس بک پر سوشل سائنس کو آگے بڑھانے کو ترجیح دیتا ہے۔ ٹیم کے کئی ارکان معاشرتی علوم یا معاشرتی نفسیات کی تربیت رکھتے ہیں۔ جبکہ بہت سے دیگر افراد کمپیوٹر سائنس میں مہارت رکھتے ہیں تاکہ اس کے ذریعے انسانی رویوں کا مطالعہ کیا جاسکے۔ وہ اپنے وقت کا کچھ حصہ فیس بک ڈیٹا اور اس کے بنیادی پیٹرن کو سمجھنے میں لگاتے ہیں اور وہ اپنے نتائج شائع کرنے میں بھی آزاد ہیں۔

مارلو کہتے ہیں فیس بک کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہے ان میں سے ایک سوشل سائنس کو سمجھنے کا چیلنج بھی ہے۔ ان چیلنجز میں سے ایک یہ ہے کہ کیسے کچھ آئیڈیاز اور فیشن ایک فرد یا چند افراد سے پوری دنیا میں پھیل جاتے ہیں اور کسی فرد کے مستقبل کے کام کا کتنا انحصار ماضی میں اپنے دوست سے کی گئی بات پرہوتا ہے۔ اپنی تحقیق کے نتائج شائع کرنے اور یونیورسٹی کے تحقیق کاروں سے تعاون حاصل کرنے سے آپ کو فیس بک کو بہتر بنانے کا موقع ملتا ہے۔ یونیورسٹی آف میلان کے تحقیق کاروں نے 2011ء میں فیس بک ورژن کے بارے میں رائے حاصل کرنے کیلئے فیس بک کے پورے نیٹ ورک کے صارفین کو شامل کرلیاجو دنیا کی آبادی کا دس فیصد بنتے ہیں۔ فیس بک پر 721ملین لوگوں نے رائے دی کہ دنیا اس سے کہیں زیادہ مختصر ہے جتنا ہم سوچتے ہیں۔ فیس بک پر دوستی کے رحجانات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہو گا کہ بنیادی لحاظ سے ہم کئی حوالوں سے ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا دوست سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ بات ہر ایک پر درست نہیں بیٹھتی لیکن ڈیٹا سائنس کی ٹیم کیلئے اس پر یقین رکھنے کی معقول وجہ ہے۔

گزشتہ برس پیو ریسرچ سینٹر (Pew Research Centre)اور امریکن لائف پراجیکٹ کی تحقیق شائع ہوئی کہ فیس بک پر بننے والے 93فیصد دوست پہلے مل چکے ہوتے ہیں۔ مارلو کے ایک ساتھی نے فیس بک کا تجزیہ کرکے ملک میں قومی سطح پر ملنے والی مجموعی قومی خوشحالی کا تجزیہ کیا ۔ انہوں نے مجموعی قومی خوشحالی کو جانچنے کیلئے مثبت اور منفی جذبات کے اظہار پر مبنی الفاظ کا تجزیہ کیا۔ چلی میں فروری 2010ء کے زلزلے کے بعد زندگی کو معمول پر آنے میں مہینوں لگے تھے۔ جاپان کو مارچ 2011ء میں زلزلے اور سونامی کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد لوگوں کی ہمدردیوں میں اضافہ ہوا، لوگوں نے آفات پر اپنے جذبات کے اظہار کیلئے سوشل میڈیا کو استعمال کیا۔ ایڈم کریمر نے اس ڈیٹا کا انڈیکس بنایا وہ کہتے ہیں کہ یہ معلومات فیس بک ڈیٹا، ماہرین اقتصادیات اور دیگر محققین کیلئے مفید ہو سکتی ہیں۔ فیس بک سماجی رجحانات سے باخبر رہنے کے سستے ترین اور درست طریقے فراہم کرتا ہے۔

گروپ کے دوسرے کاموں سے فیس بک کی حکمت عملی واضح ہوتی ہے۔ اس سے ہمیں فیس بک کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور پتہ چلتا ہے کہ فیس بک پر اشتہارات دینے سے کیا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ ایک ابتدائی جائزہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک پر دوستوں کی طرف سے کس قسم کی اطلاعات یا اپ ڈیٹس سے ایک اجنبی شخص دوست بنتا ہے۔ ڈیٹا سائنس کی ٹیم نے گزشتہ سال بلاگ پوسٹ پر ویلنٹائن ڈے پر مختلف نغمات کا تجزیہ کیا۔ جس سے اندازہ ہوتا تھا کہ فیس بک کتنا مقبول ہے اور یہ صارفین کے رویئے کو پہچان کر مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرسکتا ہے۔ فیس بک سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ کوئی تعلق ٹوٹ جانے پر کیوں اداس نغمات میں دلچسپی لیتے ہیں یا کسی دوست کی موت پر کیسے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ ویب سرچ کے دوران سائڈ پر آنے والے اشتہارات اہم ترین ہیں کیونکہ تلاش کرنے والے بتاتے ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اسی لئے گوگل کی آمدن فیس بک سے دس گنا زیادہ ہے۔ لیکن فیس بک بتدریج یہ اندازہ لگانے کے قابل ہو جائے گی کہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔

حال ہی میں ڈیٹا سائنس ٹیم نے فیس بک کے کام کرنے کے طریقے پر چند تجربات کئے تاکہ صارفین کا ردعمل دیکھا جائے۔ مشی گن یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے طالب علم اور مارلو کے معاون ایٹن بخشی (Eytan Bakshy) جاننا چاہتے ہیں کہ فیس بک پر کئے گئے افعال ایک سا مزاج رکھنے والے ہمارے قریبی دوستوں کو کیسے متاثر کرتے ہیں ۔ اس نظریے کے تحت فیس بک ہم مزاج دوستوں کا ایک چیمبر بنا دیتا ہے۔ اب ایٹن اس الجھن میں پڑ گئے ہیں کہ فیس بک کس طرح ایک ارب صارفین کو ابلاغ میں مدد دینے کیلئے کام کرتا ہے۔ مثلاً سات ہفتے کی مدت کے دوران76 ملین صارفین نے ایک دوسرے کے ساتھ اشتراک کیا ۔ ان کا کہنا ہے کہ جو معلومات ہم فیس بک پر شیئر کرتے ہیں ہمارے دوست تیزی کے ساتھ اسے آگے بڑھا دیتے ہیں۔ لیکن ماہرین سماجیات اسے مجموعی طور پر کمزور تعلق شمار کرتے ہیں۔ ان تجربات اور تجزیوں سے یہ نظریہ غلط ثابت ہو گیا کہ سوشل نیٹ ورکنگ نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ مارلو کہتے ہیں کہ تحقیق سے فیس بک کی طاقت کا بھی پتہ چلتا ہے۔ فیس بک میں نیوز فیڈ ہر کوئی دیکھتا ہے ، فیس بک دیکھتا ہے کہ معاشرے میں معلومات کس طرح پھیلتی ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کی ٹیم فیس بک کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ یہ معاشرے کیلئے کیا کررہا ہے۔ مارلو کمپنی کے ایک ملازم کے طور پر کام کررہے ہیں جو صارفین کے درمیان ہونے والی بات چیت اور معلومات کی روانی کو کنٹرول کرتے ہیں۔

سوشل انجینئرنگ

مارلو کی ٹیم چاہتی ہے کہ فیس بک پر جو کچھ ہو رہا ہے اس کیلئے کچھ قواعد و ضوابط بنا لئے جائیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا مقصد معاشرے میں ابلاغ کے پیٹرن کو تبدیل کرنا نہیں ہے۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ لوگوں کو ابلاغ کیلئے پلیٹ فارم فراہم کیا جائے۔ اپریل میں زکربرگ نے فیصلہ کیا کہ انہیں فیس بک کو اعضا کے عطیات کی رجسٹریشن کرنے کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔ صارفین کو فیس بک پر رجسٹرڈ ڈونر بننے کیلئے اپنی ٹائم لائن پر ایک بٹن دبانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کیلئے فیس بک پر متعارف کروائے گئے نیا فیچر سے اعضا کا عطیہ دینے والے 23ریاستوں سے 44ریاستوں تک پھیل گئے۔ مارلو کی ٹیم گزشتہ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج شائع کر رہی ہے تا کہ پتہ چل سکے کہ فیس بک کے صارفین نے کس طرح ایک دوسرے کو متاثر کیا تھا۔ فیس بک نے اپنے صارفین کو 2008ء میں یہ بتانے کا راستہ دکھایا کہ وہ ووٹ ڈال چکے ہیں۔ فیس بک پر ایک نوٹ جاری کیا جاتا صارفین اپنے دوستوں کو بتاتے کہ انہیں ووٹ ڈالنا چاہئے۔ مارلو نے 2010ء کے الیکشن میں یہ ڈیٹا اکٹھا کیا کہ جن صارفین کو ووٹ کی ترغیب دی گئی تھی کیا انہوں نے ووٹ ڈالے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تحقیق کاروں نے ڈیٹا پر کسی شناخت کے بغیر کام کیا اور صارفین کے ووٹنگ ریکارڈ کو نہیں جانچ سکے ۔ تاہم کہا جاسکتا ہے کہ یہ تو ابھی آغاز ہے۔ مارلو نے بتایا کہ فیس بک چھوٹی تبدیلیوں سے سائیٹ سے باہر کے صارفین کے رویوں میں تبدیلی پیدا کرسکتی ہے اور کمپنی بتدریج دوسری سائیٹس کو فیس بک کے استعمال کیلئے ایسا ہی کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔مثال کے طور پر امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن صحت مند کھانے کی حوصلہ افزائی کرنا چاہتی ہے تو یہ فیس بک سوشل انجینئرنگ سے رجوع کرسکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا چاہتے ہیں جسے دوسرے بھی تبدیلی لانے کیلئے استعمال کریں۔

مشتہرین بھی زیادہ تفصیل سے جاننا چاہیں گے کہ فیس بک پر چلائی گئی مہم سائیٹ سے ہٹ کر لوگوں کے افعال کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔ انہیں یہ بھی معلوم ہو گا کہ وہ انسانوں کو کس قدر تیزی سے قائل کرسکتے ہیں۔ مائیکروسافٹ کی نیویارک ریسرچ لیب میں سوشل سائنس پر کام کرنے والے اور ماضی میں یاہو پر مارلو کے ساتھی ڈنکن واٹس کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ بات واضح نہیں ہے کہ کیا سوشل سائنس انسانوں کے درمیان رابطے کیلئے انجینئرنگ سائنس کی طرح پُل تعمیر کرسکتی ہے۔اس کے باوجود ایک اگر آپ کے پاس خاصی مقدار میں ڈیٹا ہے تو آپ عام اندازوں سے بہتر انداز میں پیش گوئی کیلئے استعمال کرسکتے ہیں۔

ڈیٹا کو دگنا کرنا

ٹویٹر سمیت دیگر سوشل ویب کمپنیوں کی طرح فیس بک نے کبھی بھی اختراعی جدت طرازی کو نہیں اپنایا جیسے کہ گوگل کی کمپنی کرتی ہے۔ ٹیکنالوجی کی ایک قسم کے طور پر فیس بک نے اوپن سورس سافٹ ویئر کی طاقت استعمال کرتے ہوئے ہدووپ (Hadoop)سے ڈیٹا سٹوریج کے نظام کو بہت بڑھا لیا ہے۔یہ کام گوگل اور یاہو سے متاثر ہو کر کیا گیا ہے۔ ہدووپ (Hadoop)سافٹ ویئر ناممکن کمپیوٹیشن کے کاموں کو اچھے طریقے سے سرانجام دے سکتا ہے۔ لیکن ہدووپ ڈیٹا سائنس کیلئے نہیں بنایا گیا تھا اور مخصوص کاموں کیلئے استعمال ہوتا تھا۔ اسے خصوصی پروگراموں کیلئے استعمال کیا جاتا تھا۔ فیس بک کے انجینئرز نے ہدوپ کا یہ مسئلہ ہائیو (Hive)سافٹ وئیر تیار کرکے حل کیا جو ایک اوپن سورس سافٹ وئیر ہے اور جسے کئی دیگر کمپنیاں بھی استعمال کررہی ہیں۔یہ نسبتا آسان کوڈ استعمال کرتے ہوئے ہدووپ کے وسیع اعداد و شمار کو سٹور کرتا اور ترجمہ کی خدمت سرانجام دیتا ہے۔ یہ مکمل ڈیٹا سیٹ کی بجائے کمپنیوں سے نمونے کے طور پر چھوٹے چھوٹے بے ترتیب ڈیٹا سیٹ مانگتا ہے۔ فیس بک میں ڈائریکٹر انجیئرنگ سمیت اگروال (Sameet Agerwal)کہتے ہیں کہ فیس بک کا بہت بڑا ڈیٹا ایک ہدووپ سٹور 100 سے زائد petabytes (ایک لاکھ گیگا بائٹس) میں رہتا ہےاور مقدار میں تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ہمارا ڈیٹا ہر سال سائز میں دوگنا سے زیادہ ہو جاتاہےیہی وجہ ہے کہ ان کی ٹیم مسلسل زیادہ موثر نظام کی تعمیر کیلئے کام کررہی ہے۔

فیس بک میں مارلو کے پیش رو اور کمپنی میں ڈیٹا سٹوریج اور تجزیہ کی ٹیکنالوجی متعارف کروانے والے جیف ہیمر بیچر (Jeff Hammerbacher)کہتے ہیں کہ ان سب نے مل کر فیس بک کو مہارت کی ایک منفرد سطح دی ہے۔ وہ 2008ء میں فیس بک کو چھوڑ گئے اور انہوں نے ڈیٹا کے بڑے مجموعہ کو منظم کرنے کی ہدووپ پر مبنی نظام کلاڈیئرا (Cloudera)تیار کیا۔ بہت بڑی بڑی کمپنیاں معروف سافٹ وئیر کمپنیوں مثلاً اوریکل کو اپنے ڈیٹا کے تجزیہ اور ذخیرہ کیلئے باقاعدہ ادائیگی کرتی ہیں۔ تاہم ہیمر بیچر کہتے ہیں کہ اب بڑی کمپنیاں یہ سمجھنے کی کوشش کررہی ہیں کہ فیس بک کس طرح اپنے بہت بڑے معلومات کے خزانہ کو ہینڈل کررہی ہے۔

سونے کی کانکنی

بگ ڈیٹا کے تجزیہ کا سونے کی کانکنی سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ فیس بک کو سرمایہ کاروں کی توقعات پورا کرنے کیلئے آمدنی کے نئے ذرائع کی ضرورت ہے۔ آئی پی او سے مایوس ہونے کے بعد فیس بک نے اپنی آمدن کو برقرار رکھنے کیلئے سائیٹ پر سستے اشتہارات دکھانا شروع کردیئے جو اس کے اعلیٰ معیار کو دیکھتے ہوئے مناسب نہیں لگتے۔ مینلو پارک کیلیفورنیا میں فیس بک کے نئے کیمپس میں بگ ڈیٹا کے دبائو کو واضح طور پر محسوس کیا ہے جہاں پر 3500ملازمین کام کررہے ہیں جبکہ جگہ 6600ملازمین کی ہے۔ فیس بک اپنی مالی ضروریات پورا کرنے اور منافع حاصل کرنے کیلئے فیس بک سے حاصل ہونے والی معلومات کا تجزیہ کرکے اسے فروخت کرسکتا ہے۔ گرے لاک پارٹنر (Greylock Partner)کمپنی کے شراکت دار، ڈیٹا سائنسدان اور لنکڈ ان کے ماضی کے لیڈر ڈی جے پاٹل (DJ Patil) کہتے ہیں کہ فیس بک گوگل کے ایڈ سینس کاروبار کے موجد گل ایلباز کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ایڈ سینس گوگل کی آمدنی کا چوتھائی حصہ فراہم کررہا ہے۔ وہ اب گوگل چھوڑ کر اپنی نئی کمپنی فیکچوئل (Factual)چلا رہے ہیں جو ریسٹورانٹ کے مقامات ، مشہور شخصیات کے انڈیکسز سے ملنے والی معلومات کو بڑی احتیاط سے جمع اور ان کا تجزیہ کرکے بڑی کمپنیوں کو فراہم کرتی ہے۔ فیکچوئل کمپنی ڈیٹا کو ترتیب دے کر آن لائن ڈیمانڈ سٹور کے طور پر انٹر نیٹ پر فراہم کرتی ہے۔ صارفین یہ ڈیٹا اپنے اعدادوشمار کے خلا کو پر کرنے کیلئے استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً فیس بک خودبھی فیکچوئل کو کاروباری مقامات کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کیلئے استعمال کرتا ہے۔ پاٹل نشاندہی کرتے ہیں کہ فیس بک اپنے صارفین کے اقدامات سے حاصل کردہ معلومات کو حقوق حاصل کرکے فروخت کرسکتا ہے۔ ایسی معلومات ہر قسم کے کاروبار کیلئے کارآمد ثابت ہو سکتی ہیں مثلاً معروف موسیقی کے چارٹس اور آن لائن ڈیٹنگ کا کاروبار ہے۔

فیس بک اپنے صارفین اور ریگولیٹرز کو پریشان کئے بغیر یہ قدم اٹھا سکتا ہے اور فیس بک کیلئے یہ کام منافع بخش ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک آن لائن سٹور جو اپنی پروموشن کی خواہش رکھتا ہے ، وہ فیس بک کو اپنے برانڈز کی مقبولیت کیلئے استعمال کرسکتا ہے۔ ہیمر بیچر اتفاق کرتے ہیں کہ فیس بک ڈیٹا سائنس اور مفت تجزیہ کی خدمات کو مشتہرین اور ویب سائیٹ فروخت کرسکتا ہے۔ اگر فیس بک اپنے لائیک بٹن کی سرگرمیوں، آبادیاتی ڈیٹا اور ویب سائیٹ پر پڑھے جانے والے ڈیٹا جیسی معلومات کو فروخت کرسکتا ہے۔ گوگل نے 2011ء اپنے پریمیم ورژن کے فروخت سے سالانہ ایک لاکھ 50ہزار ڈالر کمانا شروع کردیئے۔ فیس بک کی بات کریں تو صرف مارلو ہی کمپنی کی آمدن کے بارے میں فیصلے کرتے بلکہ اور بھی لوگ اہم فیصلوں میں شامل ہوتا ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کا بنیادی مقصدلوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے خدمات فراہم کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زکر برگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ فیس بک کا کام دنیا کے ابلاغ کو بہتر بنانا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں