33

ہرقسم کے حالات سے نمٹنے کو تیار ہیں، عاصم سلیم باجوہ

پشاور ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باوجود مشرقی سرحد پر ہماری مکمل نظر ہے اور ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔ضرب عضب کے تمام اہم آپریشن مکمل ہوچکے ہیں ، اب افغانستان سے پاکستان کی طرف آنے کا بھی راستہ باقی نہیں، راجگال کی پہاڑیوں پر پاک فوج کے جوان مورچہ زن ہیں، تمام علاقے کو کلیئر بھی کروایا جاچکا ہے جبکہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے تحت بیس فیصد پوسٹیں بھی مکمل ہوچکی ہیں۔

پشاور میں میڈیا بریفنگ کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ آرمی چیف نےدورہ جرمنی پر افغانستان سے دہشت گردوں کے نیٹ ورکس پر سوال اٹھایا، ان کی جرمنی سے واپسی کے بعد اسپیشل آپریشنل میٹنگ ہوئی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ آپریشن ضرب عضب کے اہم آپریشن بند ہوچکے ہیں، پاک افغان بارڈر پر راجگال کی پہاڑیاں کلیئر ہوچکی ہیں۔ افغانستان کے ساتھ سرحد کا مکمل کنٹرول فوج کے ہاتھ میں ہے، راجگال میں چوکیاں تعمیر ہورہی ہیں جہاں پر فوج تعینات ہوگی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ اڑی حملے میں بھارتی الزامات پر ہمیں افسوس ہے،دہشت گردی کے خلاف جنگ کے باوجود مشرقی سرحد پر ہماری مکمل نظر ہے اور ہم پوری طرح سے تیار ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پشاور کے علاقے وارسک کی کرسچن کالونی میں 4 دہشت گرد داخل ہوئے تھے جن کے 4 سہولت کار تھے۔ اس کی منصوبہ بندی افغانستان میں ہوئی تھی،خود کش حملہ آوروں کو مقامی لوگوں نے روکا، مردان کچہری خود کش حملہ آور کو بھی افغانستان سے طورخم پہنچایا گیا۔حملے کے چار سہولت کاروں کو پکڑ لیا گیا ہے، سہولت کاروں سے تین خود کش جیکٹیں بھی برآمد کرلی گئی ہیں۔

مردان خودکش حملے کے 3 سہولت کاروں کو پکڑ لیا ہے۔جنہوں نے نیشنل بینک مردان اور پولیس لائنز مردان کو بھی نشانہ بنانا تھا۔ دہشت گردوں کے سہولت کاروں میں خواتین بھی شامل ہیں جنہیں باعزت طریقے سے رکھا گیا ہے اور تفتیش کا عمل جاری ہے۔

 لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا کہنا تھا کہ امن کے لئے گھر بار چھوڑنے والوں کی بحالی کے اقدامات جاری ہیں، تمام متاثرین کی اپنے گھروں کو باعزت واپسی تک سلسلہ جاری رہے گا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ بارڈر مینجمنٹ سسٹم کے تحت پوسٹوں کے قیام سے سرحد پار سے دہشتگردوں کی آمد روکنے میں مدد ملے گی تاہم یہ سسٹم مکمل طور پر اسی وقت موثر ثابت ہوسکتا ہے جب بارڈر پار سے بھی مناسب اقدامات کئے جائیں اس حوالے سے افغان حکومت سے مکمل رابطے میں ہیں۔

ترجمان پاک فوج نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور فاٹا میں یکم جولائی سے اب تک ایک ہزار 470 کومبنگ آپریشن ہوئے ہیں،جس کے بعد صورتحال خاصی بہتر ہوئی ہے۔ دہشت گردی کے 14 منصوبے ناکام بنائے جاچکے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان پرعمل درآمد کیلیےکافی محنت درکارہے، سہولت کاروں کا نیٹ ورک کنٹرول میں آرہا ہے لیکن سب کو چوکس رہنا ہے۔ آپریشنز سے سیکیورٹی کی صورت حال بہترہوگی۔

جنرل عاصم سلیم باجوہ نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن ہو، پاکستان نے ہمیشہ ذمہ داری سے بات کی ہے لیکن پاکستان پر بغیر ثبوت کے الزام لگا دیے جاتے ہیں،  بارڈر مینجمنٹ افغانستان کی طرف سےبھی ہوتوموثرثابت ہوسکتی ہے۔اس حوالے سے افغان حکومت سے مکمل رابطے میں ہیں۔

پاک بھارت کشیدگی کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کاکہنا تھا کہ اُڑی حملے کے حوالے سے بھارتی الزامات بے بنیاد اور قابل افسوس ہیں، پاکستان اپنے مشرقی بارڈر پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے، افواج پاکستان ہر قسم کے حالات سے نمٹنے کے لئے بھی مکمل طور پر تیار ہیں۔لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کی میڈیا بریفنگ کے دوران وارسک حملے کے سہولت کاروں کو بھی میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں