90

شہید جمہوریت چودھری غلام حیدر وائیں ۔۔۔۔۔۔تحریر:عباس سرور(ایم اے صحافت)

ہر سال29 ستمبر کا دن ہمیں ایک درویش منش سابق وزیر اعلیٰ کی یاد دلاتا ہے جس کی ساری زندگی سیاسی جدوجہد میں گزری۔ جس نے خود اعلیٰ تعلیم یافتہ نہ ہوتے ہوئے بھی اپنے آبائی شہر میں تعلیمی اداروں کا جال بچھادیا ۔29 ستمبر کا سورج اپنی روشنی اور حرارت میں کرب و درد کا پیغام لیے طلوع ہوا جب مسلم لیگ پنجاب کے صدر چودھری غلام حیدر وائیں کو الیکشن مہم کے دوران تلمبہ کے نواح میں بے دردی سے قتل کردیا گیا۔ وائیں کا قتل سیاسی تھا یا نہیں اب یہ سوال پرانا ہوچکا ہے لیکن اس حقیقت سے کون واقف نہیں کہ وائیں نے کم وسیلہ ہوتے ہوئے بھی اپنی ان تھک محنت اور جدوجہد سے نہ صرف مقامی بلکہ ملکی سطح پر ایک ایسا قابل فخر مقام بنالیا تھا جس کی کوئی جاگیر دار یا وڈیر ا بس حسرت ہی کرسکتا ہے ۔
غلام حیدر وائیں کا سیاسی میدان میں مقابلہ نہ کرسکنے والوں نے بزدلوں کی طرح چھپ کر اس پر وار کیا۔ گووہ لوگ وائیں کو اپنے سیاسی راستے سے تو ہٹانے میں کام یاب ہوگئے لیکن و ہ لوگوں کے دلوں میں آج بھی زندہ ہیں ۔وہ بلاشبہ میدان سیاست کے بے تاج بادشاہ تھے۔ ان کی موجودگی میں بڑے بڑے ناموں، خاندانوں او ر کلغیوں والے دم نہیں مارتے تھے۔ راقم الحروف نے خود اپنی آنکھوں سے اکثر ایسے مناظر بھی دیکھے جب وڈیرے اور جاگیر داران کی گاڑی کا ڈرائیور بننے میں فخر اور خوشی محسوس کرتے تھے۔ وطن اور مسلم لیگ سے محبت ہی وائیں کی متاع حیات تھی ۔
چودھری غلام حیدر وائیں امرتسر (بھارت ) میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے موقع پر اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کرکے میاں چنوں میں رہائش پذیر ہوئے۔ انہیں لڑکپن سے ہی اخبار بینی کا شوق تھا۔ ان کے سامان میں دیگر اخبارات کے علاوہ نوائے وقت کے بہت سے پرچے موجود تھیجس سے ان کی علمی رغبت آشکار ہوتی ہے۔ وہ مخصوص حالات کی وجہ سے خود اعلی تعلیم تو حاصل نہ کرسکے تاہم سیلف ایجوکیشن کے تحت خود کو اس قابل بنالیا کہ بڑے سے بڑے افسر کے سامنے بات کرسکتے تھے ۔ نظریہ پاکستان کے تحفظ اور مسلم لیگ کے اتحاد و استحکام کے لئے وہ سیاسی رہنماؤں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا ہنر بھی جانتے تھے۔ وہ کچھ عرصہ اپنے سسر کی آٹے کی چکی پر بھی کام کرتے رہے اور ایک پرائیوٹ اد ارے میں بطور ٹائپسٹ بھی کام کیا ۔
چودھری غلام حیدر وائیں کا سیاسی کیریئر نہایت شاندار رہا ۔ایوبی دور میں بی ڈی ممبر منتخب ہوئے، یونین کمیٹی کے وائس چیئرمین اور نائب صدر مارکیٹ کمیٹی میا ں چنو ں بھی منتخب ہوئے۔ اپنے دور اقتدار میں علاقہ بھر میں تعمیر و ترقی کے بے شمار کام کروائے ۔عوام نے انہیں اگلے پانچ برس کے لئے بھی میونسپل کمیٹی کا وائس چیئرمین منتخب کرلیا ۔یحییٰ خان کے مارشل لاء کے دور میں بلدیاتی اداروں کو ختم کردیاگیا۔ بعد ازا ں ان کی کوششوں سے میا ں چنوں میں پاکستان مسلم لیگ قیوم گروپ، پاکستان کو نسل مسلم لیگ اور پاکستان کنونشن مسلم لیگ کے نام سے متحدہ مسلم لیگ کا قیام عمل میںآیا۔ اسی سلسلہ میں متحدہ مسلم لیگ کامیاں چنوں میں جلسہ عام بھی منعقد ہوا۔بعدازا ں تینوں گروپوں کا ایک اہم اجلاس لاہورمیں ہوا جس میں خواجہ صفدر کو پنجاب مسلم لیگ کا صدر اور چودھری غلام حیدر وائیں کو جنرل سیکرٹری نامزدکیا گیا۔آذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار میں سیاسی جدوجہد کے نتیجے میں وائیں پر لا تعداد مقدمات از قسم پمفلٹ کیس اور ٹیلی فون تار چوری وغیرہ درج ہوئے ۔انہیں اذیت ناک سزائیں بھی دی گئیں ۔سولہ ایم پی او کے تحت کئی بار نظر بند بھی ہوئے لیکن ان کے پایہ استقلال میں لغزش تک نہیں آئی۔ 1977 ء کے عام انتخابات میں قومی اسمبلی کے الیکشن میں 55000 ووٹ حاصل کیئے چونکہ ان انتخابات کی بنیاد دھاندلی پر تھی اس لئے اپوزیشن کے احتجاج کے نتیجے میں انہیں پابند سلاسل کردیا گیا ۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میںآپ مجلس شوریٰ کے رکن نامزد ہوئے۔1985 ء میں ممبر صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے ۔پنجاب کابینہ میں آپ وزیر صنعت ، معدنیات و منصوبہ بندی سوشل ویلفیئر اور وزیر تعلیم کے منصب پر فائز ہوئے۔ وائیں کو جمہوریت سے اس قدر لگاؤ تھا کہ جب 1988 ء میں جو نیجو حکومت کی بر طرفی کے بعد میاں نواز شریف کی زیر قیادت نگران حکومت قائم کی گئی تو انہوں نے نگران وزیر بننے سے انکار کردیا۔انہوں نے1988 ء میں پیپلز پارٹی کے امید وار کو شکست دیکر قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کا قابل فخر و قابل تحسین اعزاز بھی حاصل کیا ۔1990 ء میں بینظیربھٹو کی حکومت کی بر طرفی کے بعد پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ بنے۔بعد ازاں انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلی کی دونوں نشستیں جیت لیں۔ پارٹی فیصلہ کے مطابق قومی اسمبلی کی نشست چھوڑ دی اور 216 کے ووٹوں کی بھاری اکثریت سے وزیر اعلیٰ پنجاپ کے منصب جلیلہ پر فائز ہوئے۔ پیپلز پارٹی کے اکرم ربانی کو صرف13 ووٹ ملے۔1993 ء میں اپنے ہی ساتھیوں کی بغاوت و سازش کے نتیجے میں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد منظور ہوئی۔
بی ڈی ممبر سے لیکر وزیر اعلیٰ بننے کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنے آبائی حلقے میاں چنوں بلکہ صوبہ بھر میں سڑکوں کے جا ل بچھائے ،ٹیلیفون ،بجلی اور صحت عامہ کی سہولتوں کو عام کیا۔ فروغ تعلیم کیلئے تعلیمی اداروں کیلئے متعدد مراعات کا اعلان کیا ۔میاں چنوں میں اس قدر تعلیمی ادارے بالخصوص خواتین کے قائم کیے کہ انہیں سر سید ثانی اور سر سید میاں چنوں کے خطابات سے نوازاجانے لگا۔ وائیں کا ایک اور کارنامہ پنجاب بھر کی نہروں کی صفائی بھی ہے۔ بھل صفائی مہم میں خود شریک ہوتے، صوبہ بھر میں اس مہم کا یہ اثر ہوا کہ پانی ٹیل تک پہنچنے لگا، خشک زمینیں سراب ہونے اورکھیت لہلانے لگے۔ معیشت پر خوش گوار اثرات مرتب ہوئے ۔آج بھی وائیں کی تقلید میں نہ صرف پنجاب بلکہ دیگر صوبوں میں بھی بھل صفائی ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
مسلم لیگ وائیں کا اوڑھنا اوربچھونا تھا۔ ملکی استحکام، نظریہ پاکستان پر غیرمتزلزل ایمان اور مسلم لیگ کے اتحاد کے سب سے بڑے داعی تھے۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے قابل اعتماد ساتھی مشیر اعلیٰ اور پرخلوص بزرگ تھے۔ پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے اعلیٰ ترین منصب تک پہنچنے کے باوجود وہ دنیا وی آلائشوں سے پاک تھے ۔اپنے اسی مکان میں رہائش پذیررہے جس میں ابتدائے سیاست کے دنوں میں مقیم تھے۔ کوئی بینک بیلنس نہیں بنایا، زمینیں اور پلاٹ الاٹ نہیں کروائے، پرمٹ نہیں لیے بلکہ اپنی زنذگی کاایک ایک لمحہ سیاسی اور سماجی خدمات کیلئے وقف کیے رکھا۔ بے لوث سیاست دان اور مخلص رہنما کا آج یوم وفات ہے۔ بعد از مرگ عوام نے انہیں شہید جمہوریت کے خطاب سے نوازا
وہ اکثر یہ شعر گن گنا یا کرتے تھے
ہم ہیں تو آپ کوچہ بازار میں ہیں
ہم اٹھ گئے تو کوچہ و بازار دیکھنا

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں