22

خیبر پختوپختوا حکومت کا نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے جارحانہ حکمت عملی اپنانے کا فیصلہ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختوپختوا حکومت نے نویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کی تشکیل کے آئینی فرض کی تکمیل میں بلاجواز تاخیر اور صوبے کی مسلسل حق تلفیوں پر وفاق کے خلاف دفاعی پوزیشن برقرار رکھنے کی بجائے جارحانہ حکمت عملی اور باقی صوبوں سے رابطوں کیلئے نیا لائحہ عمل اپنانے کا فیصلہ کیا ہے مرکز کو 1908ء میں بنے ساتویں قومی مالیاتی کمیشن ایوارڈ کو اگلے سالوں کیلئے بھی جاری رکھنے سے روکنے، نویں این ایف سی ایوارڈ کا فیصلہ کن اجلاس جلد بلانے اور صوبائی حقوق کی واگزاری یقینی بنانے پر آمادہ کرنے کیلئے متعدد فیصلے کئے گئے ہیں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ پروفیسر محمد ابراہیم سمیت این ایف سی کمیٹی کے ممبران ، کنسلٹنٹس، وکلاء، وزیرخزانہ ، سیکرٹری خزانہ اور ایڈیشنل و ڈپٹی سیکرٹری خزانہ باقی صوبوں کے متعلقین سے ہفتہ وار بنیاد پر رابطے کرینگے اور وزیراعلیٰ کو پیشرفت سے مسلسل آگاہ رکھا جائے گا مرکز کی طرف سے صوبے کے ذمہ سروے رپورٹ بھی وقت سے پہلے تیار کر لی گئی ہے تاکہ کوئی حجت باقی نہ رہے اسی طرح صوبے کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ منصوبہ بندی، ماحولیات و ترقیات کو بھی محکمہ خزانہ کی معاونت کا ٹاسک حوالے کر دیا گیا ہے جبکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کیلئے قانونی جنگ لڑنے کی تیاری بھی شروع کر دی گئی ہے درایں اثناء صوبائی وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عبداللطیف یوسفزئی سے ملاقات کی ہے جس میں نئے ایوارڈ کے بارے میں پیشرفت، صوبے کے دیگر حقوق اور انکے حصول سے متعلق صوبائی حکومت کی گزشتہ، موجودہ اور آئندہ حکمت عملیوں اور انکے قانونی پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور بعض ضروری فیصلے کئے گئے قبل ازیں وزیر خزانہ کی زیرصدارت اجلاس میں سیکرٹری خزانہ علی رضا بھٹہ اور دیگر متعلقہ حکام کے علاوہ پروفیسر محمد ابراہیم خان سمیت کمیشن کے ممبران اور محکمہ خزانہ سے وابستہ سابق سینئر بیورو کریٹس نے صوبے کو درپیش مسائل و مشکلات سے اگاہی کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخوا کا کیس موثر انداز میں پیش کرنے کیلئے تجاویز و سفارشات پر تفصیلی غور و خوص کیا طے کیا گیا کہ وفاق کی طرف سے این ایف سی پر طلب کردہ ورکنگ پیپر مرکز کو دوبارہ بھیجے جائیں،دیگر صوبوں سے بھی رابطے کئے جائیں اورمرکز و صوبوں سے رابطے بڑھائے جائیں تاکہ مرکز کے پاس مزید تاخیر کا جواز ختم ہو مظفر سید ایڈوکیٹ نے ایوارڈ کے سلسلے میں مکمل حمایت اور اتفاق رائے پر اجلاس کا شکریہ ادا کیا تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکز مالیاتی کمیشن سمیت صوبوں اور عوام کے حقوق، وسائل اور ضروریات کی ادائیگی یقینی بنانے کی بجائے ہر معاملے کو سیاسی مصلحتوں کی بھینٹ چڑھا رہا ہے جو قومی یکجہتی اور ملکی مفاد کیلئے زہرقاتل ہے ایسے میں صوبے کی سیاسی قیادت اور مقتدر قوتوں کو اعتماد میں لینا بھی ناگزیر ہو گیا ہے جس کیلئے جلد ہی ہنگامی بنیادوں پر مزید اقدامات ہونگے وزیرخزانہ نے افسوس ظاہر کیا کہ مرکز ساتویں این ایف سی ایوارڈ کو اگلے سال جاری رکھنے پر تلا ہے حالانکہ یہ ایوارڈ اٹھارہویں آئینی ترمیم سے قبل کا بنا ہے کنکرنٹ لسٹ کے خاتمے اور محکموں کی منتقلی کے بعد صوبوں پر مالی بوجھ ہزار گنا بڑھ چکا ہے خدشہ ہے کہ چاروں صوبوں کے اتفاق رائے کے باوجود مرکز نئے ایوارڈ کیلئے اجلاس بلانے کی بجائے تاخیری حربے جاری رکھتے ہوئے پرانا این ایف سی لاگو رکھے گا حالانکہ مرکز کا حق اب 42.5فیصد نہیں بلکہ صرف 20فیصد وسائل پر بنتا ہے باقی 80فیصد وسائل صوبوں کو ملنے ہیں واضح رہے کہ ساتویں این ایف سی کے تحت مرکز 42.55، پنجاب51.74فیصد، سندھ 24.55فیصد، خیبر پختونخوا 14.62فیصد اور بلوچستان 9.09فیصد فنڈز لے رہا ہے پچھلے این ایف سی اجلاس میں فیصلہ ہوا تھا کہ صوبائی خودمختاری کے بعد18ویں آئینی ترمیم، نیشنل ایکشن پلان، غیرملکی امداد کے شفاف استعمال کیلئے پائیدار ترقی کے اہداف اور سی پیک کے ممکنہ اثرات کے مطابق نئے ایوارڈ کی جلد از جلد تشکیل ہوگی مگر تب سے کوئی پیشرفت نہ ہو سکی دوسری طرف وفاق کے قرضے 800ارب روپے سے تجاوز کر گئے جو 2008کے مقابلے میں ہزارگنا زیادہ ہیں اور افراط زر میں بھی اضافہ ہوا ہے صوبے کو پن بجلی بقایاجات کے علاوہ تیل و گیس سیس کی مد میں 29ارب روپے اور 1991 کے پانی تقسیم معاہدے کے تحت 119ارب روپے کی ادائیگی بھی باقی ہے صوبے میں افغان مہاجرین و آئی ڈی پیز،قدرتی آفات، دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل کی وجہ سے غربت، بیروزگاری اور پسماندگی انتہا ؤں کو چھونے لگی ہے جس کی تلافی آئین کے مطابق حقوق کی جلد از جلد ادائیگی سے ممکن ہے صوبے کے مالی نقصانات میں کئی گنا اضافہ ہوا مگر مرکز نے دہشت گردی کی مد میں صرف ایک فیصد فنڈ فراہم کئے جو اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ہیں اور یہ پانچ فیصد سے زائد ہونا چاہئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں