30

شہید بنظیر بھٹو بونی کیمپس کو چترال شفٹ کر ناسب ڈویثرن مستوج کے طلباء وطلبات کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہے۔حمید جلال

بونی (نامہ نگار)پاکستان پیپلز پارٹی سب ڈویثرن مستوج کے رہنماء حمید جلال نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ کئی دن دنوں سے یہ بات باز گشت کر رہا ہے کہSBBUبونی کیمپس کو چترال شفٹ کیا جارہا ہے جبکہ موجودہ صوبائی حکومت تعلیم اور صحت کے سلسلے میں اہم اقدامات کر رہا ہے سب ڈویثرن مستوج4800 کلو میٹر کے وسیع رقبے پرپھیلا ہوا ایک علاقہ ہے اور دور دراز کے طلباء طلبات اکمپس کے بدولت زیور تعلیم سے اراستہ ہو رہے ہیں اور کیمپس کی کار کر دگی بھی شاندار رہی ہے جبکہ طلباء اپنے دہلیز پر اپنے تعلیم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اگر ناخواستہ ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) اس سلسلے میں اگر کوئی علط فیصلہ اختیا ر کرے تو یہاں کی عوام اور سیاسی رہنما اس کو برداشت نہیں کریں گے اس سلسلے میں تما م سیاسی اور عوام اپنے سیاسی اختلافات کو بالا ئے طاق رکھکر قدم اٹھائیں گے کیمپس کو چترال شفٹ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ سب ڈویثرن مستوج کے طالبعلموں کو جو علم کے دلدادہ ہیں کو ایجوکیشن کے دروازہ سے پچھے دھکیل دیا جارہا ہے اگر ہائیرایجوکیشن کمیشن اس سلسلے میں کوئی علط فیصلہ کر رہا ہے تو اپنے فیصلے کو فورا واپس لے لیں۔ سیا سی جماعت ملکر اس بارے میں لائحہ عمل طے کریں گے۔جب کے سب ڈویثرن مستوج کے عوام مطالبہ کر رہے ہیں کہ وزیر اعظم میان محمد نواز شریف کے دورہ چترال کے موقع پر جدید ہسپتال اور یونیورسٹی کا اعلان کیا تھا ،یونیورسٹی کو خاندان قاقلشٹ میں تعمیر کیا جائے جو کہ کھلی فضاء اور یو نیورسٹی کے لیے موزون اراضی موجود ہے۔لہذا پر زور اپیل ہے ایم ین اے چترال اور صوبائی حکومت، ڈسٹرکٹ ناظم اور ڈسی چترال SBBU بونی کمپس کو چترال شفٹ نہ کر نے کے لیے فوری اقدام اٹھا کر عوام میں پھیلی ہوئی بے چینی کو دور کیا جا ئے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں