26

فوڈ پوائزننگ؛ جنجریت کوہ میں سینکڑوں لوگوں کی حالت غیر/دروش ہسپتال مریضوں سے بھر گیا

دروش(نامہ نگار) تحصیل دروش کے دورافتادہ سرحدی گاؤں جنجریت کوہ میں فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو کر سینکڑوں افراد کی حالت غیر ہو گئی جنہیں فوری طور پر دروش ہسپتال پہنچایا گیا ۔ تفصیلات کے مطابق دروش کے دورافتادہ گاؤں جنجریت کوہ میں ظہیرالدین ولد عبدالجبار کے ہاں ولیمہ کا کھانا کھانے کے بعد بڑی تعداد میں مقامی لوگوں کو قے آنا شروع ہوگیا اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی حالت غیر ہوگئی۔ پولیس تھانہ دروش کے ایس ایچ او محمد نذیر شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں جنجریت کوہ پولیس چوکی سے شام کے ساڑھے چھ بجے اس واقعے کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے فوراً علاقے میں گاڑیاں روانہ کرنے کا بندوبست کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اسٹاف کے ہمراہ دروش ہسپتال میں انتظامات کئے۔اس حوالے سے ممبرتحصیل کونسل قسور اللہ قریشی نے میڈیا کو بتایا کہ اس دور افتادہ علاقے میں ٹرانسپورٹ کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے اور پولیس کی طرف سے انہیں مطلع کرنے کے بعد انہوں نے فوری طور پر چار گاڑیاں علاقے کی طرف روانہ کردی تاکہ مریضوں کو جلد از جلد ہسپتال منتقل کیا جا سکے۔چند مریضوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ولیمے کا کھانے کے ڈیڑھ گھنٹے بعد لوگوں کی حالت بگڑ گئی۔ ادھر بڑی تعداد میں مریضوں کوپہنچانے کے بعد تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال دروش میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی تاہم ابتدا ء سے ہی دروش ہسپتال میں انتظامیہ کا ذمہ دار افسر موجود نہیں تھاجوکہ امدادی سرگرمیوں کو مربوط کر لیتے ۔ٹی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر افتخار اور ڈاکٹر ضیاء الملک نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ دوسو سے زائد افراد کو ہسپتال پہنچایا گیا جن میں سے چند ایک کی حالت تشویشناک تھی تاہم بروقت طبی امداد ملنے کی وجہ سے انکی حالت بہتر ہوگئی۔ انہوں نے بتایا کہ پچاس سے زائد مریضوں کی حالت بہتر ہونے کے بعد انہیں ہسپتال سے فارغ کیا گیا ۔انہوں نے بتایا کہ جنجریت کوہ میں لوگوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی غرض سے محکمہ صحت کی ایک ٹیم بھیجی گئی ہے جسمیں دو ڈاکٹر اور پیرامیڈیکل اسٹاف شامل ہیں جبکہ ضروری ادویات بھی بھیج دئیے گئے ہیں۔ درایں اثناء بھاری تعدا دمیں مریضوں کو ہسپتال پہنچانے پر دروش ہسپتال میں بحرانی کیفیت پیدا ہو گئی کیونکہ اتنے زیادہ تعداد میں مریضوں کے لئے بسترے دستیاب نہیں تھے جبکہ ہسپتال کے اسٹاک میں موجود ادویات بھی کم پڑنے پر بازار سے منگوائے گئے ۔ اس سلسلے میں ہسپتال میں قائم ایچ ایس پی کے وسائل کو بھی استعمال gingerate-koh-pateints-2-oct-16میں لایا گیاجبکہ ایچ ایس پی کے چیئر میں حیدر عباس بھی موجود تھے۔ ہسپتال میں مریضوں کو فرش پر لٹاکر انہیں ڈرپ لگائے گئے۔چترال سکاؤٹس کی طرف سے فوری طور ٹینٹ اور چٹائیوں کا بندوبست کرکے ہسپتال کے صحن میں عارضی کیمپ لگایا گیا جہاں پر چترال سکاؤٹس کے میڈیکل آفیسر اور انکا عملہ اور کیپٹن شبیر مریضوں کی خدمت میں موجود رہے جبکہ کسی بھی قسم کے ہنگامی ضرورت کے لئے چترال سکاؤٹس کی ایمبولنس گاڑیاں ہسپتال میں موجود رہیں۔ ایمرجنسی صورتحال کے دوران دروش بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جسکی وجہ سے مقامی لوگوں نے اپنے جنریٹر فراہم کردئیے۔ اس واقعے کی اطلاع ملتے ہی مقامی افراد بڑی تعداد میں ہسپتال میں جمع ہوگئے اور امدادی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مخیر حضرات نے مریضوں کو لانے کے لئے گاڑیاں بھی فراہم کیں جبکہ ادویات اور دیگر ضروری اشیاء بھی فراہم کئے۔ ڈی ایچ او ڈاکٹر اسرار احمد بھی چترال سے دروش پہنچ گئے ہیں۔ دوسری طرف عوامی حلقوں نے اس ہنگامی موقع پر اسسٹنٹ کمشنر دروش کی بر وقت عدم دستیابی پر نا پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چترال سے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے موقع پر ذمہ دار افسر کا موجود نہ ہونا کئی قسم کے مسائل کو جنم دیتی ہے۔ اس قبل بھی ارسون کے تباہ کن سیلاب کے موقع پر بھی دروش میں اسسٹنٹ کمشنر موجود نہیں تھے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں