30

وزیراعظم کے استعفیٰ تک دھرنے کا آپشن کھلا ہے،پختونخوا اسمبلی تحلیل ہوسکتی ہے،عمران خان

اسلام آباد (ملت+ آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے استعفیٰ تک دھرنے کا آپشن کھلا ہے ، ٹی ٹوئنٹی ، ون ڈے اور نہی ٹیسٹ بلکہ ٹائم لیس میچ کھیلیں گے ، اسلام آباد بند کر دیں گے جو حکومت برداشت نہیں کر پائے گی، خیبر پختونخوا اسمبلی کی تحلیل سمیت دیگر آپشن بھی زیر غور ہیں ، جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان تلخ کلامی اچھی نہیں ،بیان بازی سے کرکٹ کو نقصان ہو گا ، مشکل گھڑی میں میانداد کام آیا ، ایک دوسرے کے خلاف ایسی بیان بازی عوام میں نہیں کرنی چاہیے ۔ وہ پیر کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں کرپشن کا مافیا بیٹھا ہوا ہے ۔ وزیر اعظم نے الیکشن کمیشن میں آج پھر جھوٹ بولا۔ اسلام آباد میں رائیونڈ سے تین گنا زیادہ لوگ لے کے جا سکتے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف 2011 تک بولتے رہے کہ مریم ان کے زیر کفالت ہیں اور اب یہ مریم نواز کی کفالت سے دستبردار ہو گئے ہیں ۔ رائیونڈ میں ہماری امید سے زیادہ لوگ آئے تھے ۔ اس بار اسلام آباد میں ٹی ٹوئنٹی ، ون ڈے ، ٹیسٹ نہیں بلکہ ٹائم لیس میچ کھیلیں گے ۔ اسلام آباد کو بند کرنا حکومت برداشت نہیں کرپائے گی ۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ پاکستانی عوام اب غربت ، کرپشن اور بے روزگاری سے تنگ آگئے ہیں اور تبدیلی کے لئے وہ اسلام آباد آئیں گے ۔ جمہوری پارٹی عوام کے پاس ہی جاتی ہے ۔ جمہوریت میں وزیر اعظم جوابدہ ہے لیکن نواز شریف پانامہ لیکس پرکوئی جواب نہیں دے رہا ۔ انہوں نے کہا کہ 30 اکتوبر کی احتجاج کی تیاری 15 تاریخ سے شروع کریں گے ۔ آصف علی زرداری نے اعتزاز احسن کو ہماری دعوت کے باوجود 30 ستمبر کو احتجاج میں نہیں جانے دیا ۔ پانامہ لیکس میں نواز شریف کا نام آنے پر (ن) لیگ کو خود ان کو فارغ کرنا چاہیے تھا۔ آئس لینڈ اور برطانیہ کے وزیر اعظم نے عوام کو جواب دیا لیکن ہماری چھ مہینوں کے کوششوں کے باوجود وہ جواب نہیں دے رہے اب سڑکوں کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ ایک کرپٹ مافیا کو ڈیفنڈ کر رہی ہے ۔ زرداری اور نواز شریف دونوں کے مفادات ایک ہیں ۔ کرپشن کے خلاف اگر پاکستانی عوام آج کھڑے نہیں ہوئے تو پاکستان میں تبدیلی مشکل ہے ۔ نواز شریف نے اس لئے چوری کی ہے کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ ادارے کوئی کارروائی نہیں کریں گے ۔ عمران خان نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی نے اپنی سیاست کو بچانا ہے تو مائنس زرداری کردیں۔ پاکستان میں جو بھی کرپشن کے خلاف ہیں وہ ہمارے ساتھ ہیں اور جو کرپشن کے ساتھ ہیں وہ نواز شریف کے ساتھ ہیں ۔ اگر شریف فیملی نے کوئی ادارہ تباہ نہیں کیا تووہ پاکستان کی فوج ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان پر ساری سیاسی جماعتوں نے متفق تھے لیکن وقت گزرنے پر سب سے پہلے الطاف حسین نے مخالفت کی ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جب سے کرکٹ کھیلنا چھوڑا تو ارادہ کیا کہ کرکٹ کی طرف توجہ نہیں دوں گا ۔ جاوید میانداد اور شاہد آفریدی کے درمیان تلخ کلامی نہیں ہونی چاہیے تھی ۔ اس سے کرکٹ کو نقصان پہنچے گا ۔ عوام میں کسی کو بھی ایسی باتیں نہیں کرنی چاہیے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں