30

زندگی اور موت ساتھ ساتھــــــــــ محمد صابر ــــــــــ گولدور چترال

انسان دنیا میں خالی ہاتھ آیا ہے اور یہاں سے جانا بھی خالی ہاتھ  ہی ہے ـ زندگی اور موت کا چولی دامن کا ساتھ ہے زندگی دکھ سکھ ، راحت و تنگی اور خوشی و غم کا مجموعہ ہے ـ انسان کی زندگی میں ان سبھی چیزوں کا عمل دخل ہے ،اور کیوں نہ ہو  انسان کی فطرت ہی ایسی ہے ـ انسان باقی مخلوقات سے اشرف و ارفع ہونے کی وجہ سے اپنے سوچنے ، چیزوں کو مختلف انداز سے دیکھنے پرکھنے اور مشاہدہ کرنے میں اس دنیا میں حیثیت امتیازی مقام رکھتا ہےـ زندگی ایک بیش بہا قیمتی تحفہ ہے ـ یہ ایک بے مثال اور خوبصورت تحفہ ہے ـ کوئی آج تک صحیح معنوں میں زندگی کو دریافت ہی نہیں کر سکا یہاں تک کی ساری ساری عمریں بھی  کھپا دئیے مگر پھر بھی کچھ حاصل نہ ہوا ـ

نہ تھا کچھ تو خدا تھا ، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

دبویا مجھ کو ہونے نے ، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

اور مزید اس کو اس انداز سے بھی دیکھیں :

اپنے من میں دوپ کر پا جا سوراغ زندگی

تو اگر  میرا نہیں  بنتا نہ بن ،  اپنا تو  بن

 زندگی اور موت کو ہر ایک نے اپنے اپنے انداز میں پیش کیا ہے ـ کسی نے زندگی کو جبر مسلسل کا نام دیا ہے تو کسی نے خوشی اور مسرت کا نام دیا ہے ـ کوئی زندگی سے روٹ گیا ہے تو کوئی ہے جو زندگی کو آس لگائے اپنی دنیا میں مست  و مگن ہے ـ

زندگی جبر مسلسل کی طرح کاٹی ہے

جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں

 بہرحال زندگی جتنی بھی طویل ہو ، مگر ایک نہ ایک دن اس کو فنا ہے ـ موت ایک حقیقت ہے جس کا مزا زندگی کو چکھنا ہے ـ زندگی کا ساتھ ہر کوئی دینا چاہتا ہے مگر زندگی ہے کہ کسی کا ساتھ نہیں دے رہی ـ اصل میں زندگی نام ہی فنا کا ہے ـ  اپنی ہستی مٹائیں گے تو آپ مرتبہ ومقام پائیں گے ـ

مٹا دے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں  مل کر گل  گلزار ہوتا ہے

زندگی سے روٹھے ہوئے موت کی آرزو کرتے ہیں جبکہ جن کو زندگی پیاری ہو زندگی کی دعا دیتے ہیں ـ  زندگی کے بے شمار رنگ ہیں زندگی کی حقیقت کوئی سمجھے تو گلاب کی مانند ہے جو دیکھنے والوں کو اپنی خوبصورتی کے ساتھ خوشبو کی مہک دیتی ہے ـ ایک احساس ایک دلکشی اور تازگی دیتی ہے ـ

زندگی کو جب کوئی نہ سمجھے بس ایک رواں دواں سی کیفیت کا نام دے تو زندگی درد بے حساب دیتی ہے ـ مزید زندگی کی بات کریں تو یہ ایک قیمتی  تاج کی مانند نایاب چیز ہے جس میں طرح طرح کے ہیرے  موتی لعل و جواہر سجائے  گئے ہیں جو اسی کے سر سجے گا جو  ان شرائط  مثال کے طور صبر ، محنت ، ہمدردی اور قربانی کے اصولوں پر کار بند رہے گاـ  اور ہاں موت بھی  ہر وقت زندگی کے آس پاس منڈلاتا رہتا ہے ـ موت اس کیفیت کا نام ہے جہاں سے واپسی ناممکن ہے جہاں آپ سوائے حسرت و ارمان کے اور کچھ کر بھی نہیں سکتے ہیں ـ

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے

مر کہ بھی  چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

زندگی ایک فلسفہ ہے جس کی گتھی تبھی سلجتھی ہے جب ایک روح کے آسمان کی جانب پرواز کا وقت آتا ہے ـ وگرنہ آپ جتنا بھی چاہو زندگی کی تہہ تک نہیں پہنچ  پاؤ گے اس کا اختتام ہی اس کی شروعات ہے ـ حقیقت میں یہ شروع اس وقت ہوتا ہے جب روح جسم کی جگہ کام کرنا شروع کر دے اور انسانی جسم کا کردار کچھ بھی نہ رہے ـ  کیا کوئی ہے جو نہیں چاہتا کہ وہ سو سال یا اس سے زیاد زندگی جیئے مگر معزرت کے ساتھ پھر بھی مرنا ہے پھر بھی موت آنی ہے ہر ایک روح کو موت کا مزا چکھنا ہ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں