32

لمحئہ فکریہ ـ ـ ـ ـ ـ ـ محمد صابر   گولدور چترال ـ

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ زمانے کے حال احوال بھی بدلتے جارہے ہیں ـ زمانہ بڑی تیزی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے ـ  معاشرہ دن بدن پهلتا پهولتا جا رہا ہے ـ جہاں گاؤں نے شہروں کی صورت اختیار کر لی ہے وہی شہروں نے اسمال سٹیز کا روپ دهار لیا ہے ـ
جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں ـ جہاں بہت ساری معاشرتی مسائل نے جنم لیا ہوا ہےـ ان مسائل کے حل کےلیے سوچ بچار اور عملی حکمت عملی  ضرورت ہےـ ہمارے ہاں پلاننگ نام کی کوچیز  نہیں ہےـ جس کو گھر بنانا ہو جہاں جی چاہے بنالیاـ  یہاں تک کہ حکومتی سرپرستی میں  بھی کوئی ڈھنگ کا کام آپ کو نظر نہیں آئے گا ـ کسی کو معاشرتی حوالے سے کچھ کرنا ہو کر گزرا یہ دیکھے سوچے بغیر کہ کسی کو تکلیف تو نہیں ہورہا ـ معاشرہ افراد سے بنتا ہےـ ایک فلاحی معاشرے کےلیے ضروری ہے کہ وہاں کے باسی پڑهے لکهے تعلیم یافتہ ہوں ـ اپنی حقوق کا شعور رکھتے ہوں ـ
ہم مسلمان قوم ہیں ـ ہماری تہذیب و تمدن دوسرے اقوام عالم سے جدا ہے ـ مرد عورت کا دائرہ کار جداگانہ ہے ـ ایک تہذیب یافتہ معاشرے کی کردار سازی مرد عورت دونوں پر عائد ہوتی ہےـ آج کے اس دور میں  مملکوں  کی ترقی و خوشحالی میں مرد وعورت دونوں کا ہاتھ ہے ـ مگر ہمارے ہاں بات مختلف ہےـ اسلام نے  عورتوں کو اختیار دیا ہے ـ اگر کوئی ضروری کام آن پڑے تو ضرورت کے تحت گھر سے باہر نکل سکتی ہیں ـ بشرطیکہ شرعی پرده کیا ہو ـ مگر اسی شرط پر کہ کام کی جگہ پر نا محرم مردوں سے آمنا سامنا نہ ہو ـ اور جہاں وه کام کرتی ہو ـ وه جگہ صرف اور صرف خواتین کےلیے مختص ہو ـ
آج اگر ہم زرا اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو یہ بات صاف نظر آتی ہے ـکہ ہمارا معاشرہ  پہلے جیسا معاشره نہیں رہاـ بہت کچھ بدل گیا ہے ـ مثال کے طور پر ہمارے چترال میں پہلے پہل کم آبادی ہر جگہ آپ کو  سکون ، ہریالی،  صفائی  ، کھیت کھلیان اور بے شمار درخت نظر آتے تھے ـ مگرآج تین گنا آبادی ٹریفک کا شور ائیر پلوشن سڑک کنارے  گندگی کا دھیڑ  بے سکونی اور بے یقینی کی زندگی ــــ
چترال شہر اپنی دلکشی کے ساتھ ساتھ یہاں کی خواتین کی بے مثال اسلام پسندی اور عین شرعی پردے  کی وجہ سے مشہور تھا ـ آج ہمیں بد قسمتی سے یہی چیزیں معدوم نظر آتی ہیں ـ  چترال شہر ٹاؤن کی سطح تک کافی بدل چکا ہے ـ جیسا کہ بائی پاس روڈ بننے کے بعد سے مین بازار کی منتقلی، نئے عمارتوں کی تعمیر دوکانات کا نیا جال وغیرہ ـ
ان واقعات و حالات کی وجہ سے کافی معاشرتی مسائل نے جنم لیا جن کا کسی حد تک ذکر ہوا ـ بھائی بہنوں ایک پیچیده مسئلہ جسے اٹھانا میں ضروری سمجھتا ہوں وه یہ کہ  کچھ عرصہ  قبل چترال کی سڑ کوں اور  گلی محلوں میں  سر عام  خواتین کا اس قدر آمدورفت اور چہل پہل دیکھنے کو نہیں ملتا تھا  ـ الا یہ کہ اسکول اور کالج کے  اوقات  میں ہماری بچیاں  ، بیٹیاں اور  بہنیں حسب معمول اسکول آتے ہوئے اور جاتے ہوئے دیکھائی دیتےـ مگر آج جس طرح ہماری مائیں بہنیں بیٹیاں گھر کی دہلیز کو پار کر رہی ہیں ـ اول تو یہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ـ دوسری چترالی روایات کے بھی بلکل برعکس ہے ـ ہمیں اس معاملے کو یوں ہی نہیں چهوڑ دینا چاہئے کیونکہ یہ ہم سب کی عزت و ناموس کا سوال ہے ـ سنی کمیونٹی ہو چاہے اسماعیلی کیمونٹی سب کےلیے یکساں لمحئہ فکریہ ہے ـ ہم میں سے کوئی بھی غیرت مند یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی ماں بہن یا بیٹی بازار حسن بنے ـ بغیر ضرورت کے محرم کے ہوتے ہوئے بھی گھر کی دہلیز سے باہر قدم رکھنا نہایت بے غلط بات ہےـ  خاص کر شاپنگ کے نام پر بازاروں کے  بار بار چکر لگانا اور مرد دوکانداروں سے خرید و فروخت  رکھنا نہ ہی چترالی کلچر کا حصہ ہے اور نہ ہی اسلامی تعلمات کے مطابق ہے ـ لہذا ابھی بھی وقت ہے کہ بے راہ روی کے جتنے بھی صورتیں ہیں انہیں ختم کیاجائے وگرنہ یہ ہمارے لیے دنیا و آخرت میں شرمندگی کا باعث  بنے گا ـ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں