43

15اکتوبر دیہی خواتین کا عالمی دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرح ناز

ہر معاشرے کی کل اکائی عورت کو ہی سمجھا جاتا ہے۔ ہر زمانے کی ترقی اور اس کے دیرپا اثرات کو جہاں ہم دیگر چیزوں کے مرہونِ منت سمجھتے ہیں۔وہاں ہم اس بات کو قطعی طور پر نظر انداز کر دیتے ہیں کہ صنفِ نازک ہی دراصل اثاثہ کل کی بنیاد ہے۔۱۵ اکتوبر دیہی خواتین کے خلاف امتیازی سلوک کے تدارک کے معاہدے کا دن ہے۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان نے ۱۹۹۶ میں اس عالمی معاہدے پر دستخط کئے جس میں یہ بات واضح طور پر ایک ذمہ داری کے طور پر حکومت پر عائد ہوتی ہے کہ پاکستان کی تمام خواتین پر امتیازی سلوک کے خاتمے کے لئے اس معاہدے پر عمل درآمد کروائے۔ وہ معاہدہ یا ارٹیکل دیہی خواتین کے حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ اس میں دو شقیں ایسی ہیں جو ہمارے معاشی، معاشرتی اور ہمارے تہذیب و ثقافت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان حقوق کو پورا کرتی ہیں ۔خواتین کو وہ تمام حقوق، تخفظ اور آزادی ملنی چاہیے جو کہ مردوں کو میسر ہے۔ صنفی مساوات کا یہ اصول دنیا کے تقریباً تمام انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کی تمہیدمانا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ عورتوں کو اکثر دوسرے درجے کا شہری جانا جاتا ہے اور گھسے پٹے قوانین اور پالیسیوں کے زور پر انہیں معاشرے میں اپنے حقوق اور اہلیت کے مطابق حصہ سے روکتی ہیں۔ اس روایتی تصور کی بناء پر کہ خواتین کا اصل مقام گھر کی چار دیواری کے اندر ہے۔ اور مرد اپنے کنبوں کی کفالت کی خاطر گھر سے باہر عوامی ذندگی کا حصہ ہے۔ خواتین کو سماجی یا عوامی زندگی تک وہ رسائی حاصل نہیں جو کہ مرد حضرات کو ہے۔ حتی کہ کچھ مغربی جمہوری معاشرے جیسے کہ برطانیہ میں ۱۹۲۸ تک خواتین کو ووٹ تک ڈالنے کاحق نہیں تھا۔ اس بات کو تسلیم کرتے ہوئے کہ دنیا کے بہت سے حصوں سے منفی سلوک اور نا انصافی معاشرتی سوچ کا حصہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۱۹۷۹ میں عورتوں کے خلاف ہر طرح کے تشدد اور ان کے حقوق کی پاسداری کے نفاذکی توثیق کے لئے کنونشن پاس کیا۔ جو کنونشن آن دی ایلی میشن آف آل فارمز آف ڈسکیمینیشن اگینسٹ ویمن۷۶ ہے۔ تاحال ۱۸۵ ممالک نے اس پر دستخط کرکے اپنی قومی پالیسی میں اسے شامل کرنے کا قدم اٹھایا ہے۔ چائلڈ رائٹس کنونشن سی آر سی کے بعد انسانی حقوق کی واحد دستاویز ہے۔ جسے اتنے بڑے پیمانے پر دنیا کے ممالک نے اپنے قومی قانون کا حصہ بنایا ہے۔ سی ای ڈی اے ڈبلیو کے مطابق کسی بھی طرح کی تمیز ، پابندی، یا اخراج جو صنفی بنیاد پر کیا جائے اور جس کا مقصد بااثر خواتین کی حیثیت، راحت اور خوشی اور کام کو ٹھیس پہنچائے یا زائل کرے یہ سب صنفی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔اس بات سے قطع نظر کہ وہ شادی شدہ ہیں یا نہیں۔ مرد اور عورت میں برابری کی بنیاد پر سماجی یا کسی بھی شعبے میں مکمل آزادی ہونی چاہئے ۔جن اداروں نے یا حکومتوں نے اس قانون کو اپنے ملکی قانون کا حصہ بنایا ہے۔ اس بات کے پابند ہیں کہ وہ ایسے اداروں ، رسم ورواج یا قوانین کو ختم کرے جو عورتوں کے خلاف متعصبانہ رویہ رکھتے ہیں اور ایسا ماحول پیدا کریں جہاں خواتین ہر لحاظ سے مردوں کے مساوی حقوق رکھتی ہوں۔ خواتین کے حقوق کی پاسداری اور ان کو عمل پذیر بنانے کے لئے صرف حکومت کا ہی فرض نہیں بلکہ ہمیں اپنے طور پر بھی ان کو اپنے علاقے اپنے گاؤں میں نافذ کر سکتے ہیں۔ اس کے لئے ضروری نہیں کہ تمام لوگ ہی پڑھے لکھے ہوں بلکہ یہ قانون سب کے لئے ہے۔ اس وجہ سے ہم اپنے معاشرے میں ایسا انقلاب لا سکتے ہیں جس سے ہماری خواتین خاص طور پر گاؤں کی خواتین ایک صبح نو دیکھ سکتی ہیں۔ آرٹیکل نمبر ۱۴ کی تفصیلات مندرجہ ذیل ہیں۔
۱۔ ریاستیں اور فریق ریاستیں دیہی خواتین کے شمار میں نہ کئے جانے والے اقتصادی شعبوں اور ان کو درپیش مسائل کے ساتھ ساتھ ان خواتین کے کردار پر بھی غور کریں گی جو وہ اپنے خاندانوں کی اقتصادی حالت کو بہتر کرنے کے لئے انجام دے رہی ہیں۔ اس کے علاوہ اس معاہدے پر عمل درآمد کے لئے مناسب اقدامات کریں گی۔
۲۔ مردوں کے ساتھ برابری کی بنیاد پر عورتوں کو حقوق دلانے کے لئے ریاستیں وہ تمام مناسب اقدامات کریں گی جن کے باعث وہ دیہی ترقی کے تمام ثمرات سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔ اس سلسلے میں نہ صرف ریاست بلکہ ساتھی ریاستیں بھی مندرجہ ذیل حقوق کی فراہمی یقینی بنائیں گی
ا۔ ہر سطح پر ترقیاتی منصوبوں کی تیاری اور عمل درآمد میں شریک ہونے کا حق
ب۔ خاندانی منصوبہ بندی کے بارے میں معلومات، مشاورت اور خدمات کے ساتھ ساتھ صحت کی حفاظت کی خاطر سہولتیں حاصل کرنے کا حق
ج۔ وہ پروگرام جن سے سماجی تحفظ حاصل ہو، ان سے براہ راست استفادہ کرنے کے موقع کے ساتھ پورا حق دینا
د۔ عورتوں کی فنی تربیت اور ان کی عملی تعلیم کے ساتھ ساتھ رسمی اور غیر رسمی تعلیم کے مواقع فراہم کرنا۔
ر۔ عورتوں کی سماجی اور سیاسی طور پر گروپ بندی کرنا تاکہ ان کے حقوق کے لئے تنظیمیں یا گرپ بنانا جو ان کے ملازمت کے حصول یا خود روزگار کے ذریعے ان کو معاشی ظور پر فائدہ ہو سکے۔
س۔ تمام معاشرتی سرگرمیوں میں شرکت کا برابر کا حق دینا
ص۔ ہر قسم کے زرعی قرضوں یا کاروباری سہولتوں، زرعی اراضی اور اصلاحات کی سکیموں سے استفادہ کرنے کا حق دینا
ط۔ ہر قسم کی رہائشی سہولتوں اور ان کے ساتھ ساتھ ان میں رہائش، بجلی، پانی، نکاسی آب، ٹرانسپورٹ، اور دیگر مواصلاتی وسائل سے فائدہ اٹھانے کا حق دینا۔
اسی تناظر میں دیکھا جائے تو سی ای ڈی اے ڈبلیو کے ۲۲ نومبر ۲۰۰۷ میں خواتین کے خلاف ہر قسم کی تفریق کے خاتمے کے بین الاقوامی
کنونشن کا آرٹیکل ۱۱(۱) تمام شامل حکومتوں کو پابند کرتا ہے کہ۔۔ وہ ملازمت کے میدان میں خواتین کے خلاف امتیاز ختم کرنے مناسب اقدامات کریں تاکہ عورتوں اور مردوں میں برابری کی بنیاد پر مساوی حقوق کو یقینی بنایا جائے۔ خصو صاًشق نمبر (ر) مساوی معاوضے کا حق بشمول اضافی فوائد اور یکساں کام کی یکساں قدر اس کے علاوہ اہلیت اور ہنر کی قیمت لگانے میں یکساں سلوک کی ہدایت کرتا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (۱۹۷۹) خواتین کے خلاف ہرطرح کی تفریق کے خاتمے پر کنو نشن میں ایک اور جگہ اسی کنونشن کو مزید بہتر طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔ کہ خواتین کے خلاف امتیازی سلوک مساوی حقوق اور انسانی توقیر کے احترام جیسے اعلی اصولوں کی نفی کرتا ہے۔ یہ خواتین کی اپنے ملک کی سیاسی سماجی معاشی اور ثقافتی زندگی میں شمولیت اور مردوں کے ساتھ یکساں حیثیت کی راہ میں روکاوٹ ہے۔ معاشرے اور خاندان کی ترقی کی راہ میں بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہے جبکہ اپنے ملک اور انسانیت کی خدمت کے لئے خواتین کی صلاحیتو ں کی مکمل نشوونما کو مشکل بناتا ہے۔ ناگہانی آفات اورغربت کے حالات میں خواتین کی دسترس خوراک صحت ، تعلیم وتربیت، ملازمت کے مواقع اور دوسری ضرویات پر اور بھی کم ہو جاتی ہیں۔ اگر ہم اپنے ہر گاؤں میں یہ پیغام عام کر دیں کہ گاؤں کی ایک ان پڑھ یا کم پڑھی لکھی ماں کسی بھی طرح ایک پڑھی لکھی ملازمت پیشہ ماں سے کم تر نہیں ہوتی۔ د وہ اپنے بچوں پر عام عورتوں سے زیادہ ہی توجہ دیتی ہے۔ اگر ہم کسی ایک خاتون کی روزمرہ کی مصروفیت دیکھیں تو صبح سویرے سے لیکر پانی بھرنے، کھیتوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے ، گھر کے افراد کی ضروریات کا خیال رکھنے ، کھانا پکانا، مال مویشی کی دیکھ بھال، اولاد کی دیکھ بھال ، اگر طبعیت خراب ہو تو بھی وہ ان کاموں سے چھٹی نہیں کر سکتی۔ بلکہ ہزار مسائل کا سامنا کرتے ہوئے اس کے دل میں مزید آگے بڑھنے اور اپنے خاندان کے لئے مزید آرام دینے کے لئے کام میں جتی رہتی ہے۔ اور اسکی پھر بھی کوئی فرمائش نہیں ہوتی۔ اس لئے نہیں کہ اسکو یہ سب کچھ ایک فرض سمجھ کر اداکرنا ہے اور اسکے صلے میں خاندان کی خوشی اسکو ملتی ہے۔ بلکہ اس کی فرمائش اس لئے نہیں ہوتی کہ معاشرے نے اسکو اتنا بھی کہنے کا حق نہیں دیا کہ مجھے میرا حق دو۔ شاید ہم اسلام کے دیئے ہوئے اصول اور ضابطوں کو اپنا لیتے تو معاشرہ اتنی تنزلی کی طرف نہ جاتا اور نہ ہی ہم اس مقام تک آتے کہ غیر اقوام کوئی تحریک لے کر آئیں اور تمام اقوام اسکو من و عن قبول کر لیں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم ایسی کوئی تحریک لاتے کہ اقوام عالم ہماری تقلید کرتے اور اسلام کے بتائے ہوئے سنہرے اصول جن میں ایک یہ ہے کہ عورت کی عزت کرو۔ اس پر سختی مت کرو۔ لیکن ہم شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ عورت کی عزت ہی معاشرے کی عزت ہے۔ صنفِ نازک خدا کا ایک انمول تخفہ ہے۔ اسکی قربانیوں اور جذبہ ہمدردی جہاں اسکو دینا کی تم مخلوقات سے عظیم بناتی ہیں۔ ان کے صلے میں ہم ایک عورت کو کیا مقام دیتے ہیں ۔ اسکو ہم قربانی کا بکرا بنا کر سمجھتے ہیں کہ وہ ہمارے لئے وہ سب کچھ کر رہی ہے جو اس کو کرنا چاہیے۔ لیکن کیا کبھی ہم نے اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھا کہ اپنے پیروں میں جنت لئے ماں کا روپ دھارے ایک ماں کی ان بے تحاشا قربانیوں کو جن میں اس نے زندگی کے معمولات کے علاوہ کبھی شہری عورت ہونے کے ناطے جو قربانیاں دیں یا ایک دیہات کی عورت نے اپنی زندگی کے ہر پل کو دوسروں کے لئے وقف کردیا۔ ان کو ہم نے کیا دیا؟ کیا ایک بھی دیہات کی عورت آج ہمیں اس دور کی عورت نظر آتی ہے جو زندگی کی تمام نہ سہی لیکن ایک چوتھائی حصہ کی خوشیوں پر اپنا حق جتا سکے۔ کیا ہم نے ان کے آگے بڑھنے کے راستے تنگ تو نہیں کر دیئے۔ اگرغیر اقوم اپنے صحت کے منصوبوں پر عملی جامہ پہنانے
کے لئے ہمارے معاشرے کی سب سے مضبوط اکائی یعنی عورت اسکی صحت، اسکی تعلیم اور اسکے لئے زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرنے کے لئے انتخاب کر سکتے ہیں تو کیا ہم جو اس معاشرے کا حصہ ہیں ہم کیوں آنکھیں بند کئے بیٹھے ہیں۔ عورت چاہے کوئی بھی قربانی دے دے اس کا ہم کیوں پرچار نہیں کرتے ۔ کیا ہم اتنے بے حس ہو چکے ہیں کہ اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کسی بھی معاشرتی ناانصافی کو کیوں ان دیکھا اور ان سُنا کر دیتے ہیں۔ جب غیر اقوام کے لوگ آکر اسی معاشرتی برائی یا ناانصافی پر کام شروع کر دیتے ہیں تو ہم بھی اس ناانصافی کو ایک معاشرتی ناسور سمجھنے لگ جاتے ہیں۔اور سماجی تنظیمیں محض فنڈ کی رقوم کی خاطر اس پر کا م شروع کر کے واہ واہ حاصل کرتی ہیں۔ کیا کھبی انہوں نے کسی گاؤں کی خواتین کو فائیو سٹار ہوٹلوں یا سیمیناروں میں ان کے مسائل اور ان کے تدارک کے لئے عملی اقدامات کئے ہیں۔ کیا یہ مناسب نہیں کہ ہم ایک باشعور قوم ہونے کے ناطے اپنی ہم وطن دیہاتی بہنوں کے لئے کچھ مناسب اقدامات کر سکیں۔
ذرا نم ہو تو مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں