37

تمام محکموں اور شعبوں میں سزا و جزا کی پالیسی اپنائی ہے تاہم ڈاکٹرز سمیت ملازمین کا تعاون ضروری ہے ۔مظفر سید ایڈوکیٹ

پشاور(نمائندہ ڈیلی چترال)خیبر پختونخوا کے وزیر خزانہ مظفر سید ایڈوکیٹ نے ڈاکٹر برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے معزز پیشے کی لاج رکھیں اور دکھی انسانیت کی قرار واقعی خدمت کو یقینی بنائیں وہ نہ صرف خود مریضوں پر بھرپور توجہ دیں بلکہ اپنے ماتحت پیرامیڈیکل عملے کو بھی انکی خدمت کی ترغیب دیں کیونکہ ڈاکٹروں پر ہسپتالوں میں مریضوں کے علاج کے ضمن میں طبی اور انتظامی دونوں لحاظ سے بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں وہ اپنے دفتر سول سیکرٹریٹ پشاور میں ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل سٹاف کے مختلف وفود سے بات چیت کر رہے تھے جنہوں نے اپنی ترقیوں و مراعات سے متعلق مسائل اور مشکلات سے انہیں اگاہ کیا محکمہ خزانہ و صحت کے متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے وزیر خزانہ نے پیش کردہ مسائل کے مناسب ازالے کایقین دلاتے ہوئے واضح کیا کہ صحت اور تعلیم ہماری بنیادی ترجیحات کے شعبے ہیں جن میں ہم نے ایمرجنسی کا نفاذ کیا ہے شعبہ صحت کے 104منصوبوں کیلئے ساڑھے 8ارب روپے جاری کئے گئے ڈاکٹر و پیرامیڈیکس کی مراعات میں کئی گنا اضافہ کے علاوہ ہزاروں نئی بھرتیاں کی گئیں تاہم قومی خزانے سے تنخواہیں لینے کے ناطے ہم سب عوام کے خدمتگار ہیں کیونکہ یہ رقم غریب عوام کے خون پسینے کے ٹیکسوں سے ہے اور انکی تعلیم وصحت کی ضروریات ریاست کی اولین ذمہ داری بنتی ہے انہوں نے کہا کہ ہم نے تمام محکموں اور شعبوں میں سزا و جزا کی پالیسی اپنائی ہے تاہم ڈاکٹرز سمیت ملازمین کا تعاون ضروری ہے جنکی شبانہ روز محنت اور اخلاص کی بدولت ہی قومی تعمیر و ترقی کی منزل ممکن بنائی جا سکتی ہے انہوں نے کہاکہ ہم ہسپتالوں کو جدید طرز پر ترقی دے رہے ہیں فوڈ سیفٹی اتھارٹی قائم کی گئی، ہیلتھ کیئر کمیشن کو توسیع ملی، غریب کے علاج کیلئے صحت سہولت کارڈ کا اجراء ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر طبی خدمات بھی بہتر بنا رہے ہیں تاکہ عوام کو علاج کی بہترین سہولیات مہیا ہوں مگر ان تمام اقدامات کے نتائج نظر آنا چاہئیں مظفر سید ایڈوکیٹ نے کہا کہ انکی حکومت صوبے میں بہترین طبی سہولیات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور اس ضمن میں کسی بھی غفلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے رائٹ ٹو انفارمیشن اور رائٹ ٹو سروسز سمیت متعدد قوانین بنائے ہیں اور اب ایک عام آدمی بھی حکومت کے کسی بھی شعبے میں وسائل کے استعمال کے بارے میں ہر طرح کی معلومات حاصل کر سکتا ہے اور موجودہ سسٹم میں عوام کو چیک اینڈ بیلنس کا مکمل اختیار ہے اسی طرح اانہوں نے کہا کہ سیاسی چیک اینڈ بیلنس بھی لازمی ہے مگر اداروں میں سیاسی مداخلت نہیں ہونی چاہیئے کیونکہ اسی مداخلت نے ماضی میں سرکاری اداروں کی کارکردگی کو کمزور کیا وزیر خزانہ نے واضح پیغام دیا کہ انکی حکومت عوامی امنگوں کے مطابق ہر لحاظ سے بہتر طرز حکمرانی اور اعلیٰ طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے گی جس میں طبی عملے کا تعاون اور جذبہ بھی کارفرما نظر آنا چاہئے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل وفود نے صوبائی حکومت کی ہیلتھ پالیسی کو سراہتے ہوئے اسے کامیاب بنانے میں مکمل تعاون اور دن رات محنت کا یقین دلایا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں