48

سیاستدانوں کے آنسو !….ایم سرورصدیقی

OOOآنسوکئی قسم کے ہوتے ہیں ان میں سب سے زیادہ مگرمچھ کے آنسومشہورہیں نہ جانے کس نے اس کریہہ المجسم کو روتے دیکھ لیا اور مشہورکردیا حالانکہ رونا اور آنسو بہانا دو الگ الگ باتیں ہیں لیکن سب سے خوفناک چیز عورت کے آنسوؤں کو کہا جاتاہے کچھ لوگ اسے ٹسوے بہانے سے بھی تعبیرکرتے ہیں بہرحال مگرمچھ کے آنسو ہوں یا پھرٹسوے بہانا اس کو ایک ہی سکے کے دورخ کہا جا سکتاہے لیکن آنسوؤں کی ایک اور بھی قسم ہے یہ ہے خوشی کے آنسو جس میں آنکھیں روتی ہیں لیکن دل عجب قسم کی لذت سے آشنا ہوتا ہے۔آنسوؤں میں ایک خوبی تو کمال ہی ہوتی ہے کہ لوگوں کے دل پسیج جاتے ہیں اور نہ چاہتے ہوئے بھی رونے والے سے ہمدردی سی ہوجاتی ہے لیکن ایک بات ہے آنسوؤں سے کام لینا یا آنسوبہانا بھی ایک آرٹ ہے جوہر کس و ناکس کے بس کا روگ نہیں آنسو عورت کا سب سے مؤثرہتھیارہے رونااور آنسو بہانا ایک ہتھیار ہے تو اس کو کئی عالمی رہنماؤں نے اس اندازسے استعمال کیا ہے کہ آج تک دنیا حیران حیران ہے ہوسکتا ہے کسی رہنما کے سچ مچ آنسو نکل آئے ہوں لیکن سیاست کی دنیا میں ایسا کم کم ہوتاہے لیکن ایک خاص بات یہ ہے کہ جب سینہ غم سے بوجھل ہوجائے تو اب یہ تو آنسو روکے بھی تو نہیں رک پاتے۔ کوئی دعوےٰ نہیں کرسکتا کہ سب سے پہلے آنسوؤں کو ہتھیارکا درجہ کس نے دیا ماہرینِ نفسیات کا کہناہے کہ جب انسان کسی سبب کمزورپڑجاتاہے تو اس کے آنسو نکل جاتے ہیں جولوگ مضبوط اعصاب کے مالک ہوں مشکل حالات، اچانک غم یا خوشی میں بھی ان کی آنکھیں خود بخود بھیگ جاتی ہیں ایک بات طے ہے آنسوؤں کا ۔۔ دل اور جذبات سے گہرا رشتہ ہوتاہے ۔تاریخ میں کئی عالمی رہنما ؤں کے آنسو مشہورہیں مزے کی بات یہ ہے کہ پاکستانی سیاستدان بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں ابھی پچھلے دنوں ہمارے پیارے وزیرِ اعظم میاں نوازشریف اپنے ہی ملک کے سرکاری ہسپتالوں کی حالتِ زار کا تذکرہ کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے عوام اب تک حیران بلکہ پریشان ہیں کہ وہ کیونکر رو دئیے ان خاندان کئی دہائیوں سے برسر اقتدار ہے سرکاری ہسپتالوں کی ناگفتہ بہ حالت پر رونے کی بجائے ذمہ داروں کی گوش شمالی کرنے کی ضرورت تھی کیا رونے سے ان سرکاری ہسپتالوں کی حالت بہتر، معیار درست اور عوام کو سہولیات میسر آگئیں ایسا نہیں ہوا تو رونے کا ڈرامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ ۔سابقہ صدر ضیاء الحق اپنے ہی نامزدکردہ وزیر اعظم محمدخان جونیجو کو برطرف کرنے کے بعد قوم سے خطاب کے دوران ملکی حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے کئی سیکنڈ تک ان کی سسکیوں کی آواز سنائی دیتی رہی ۔ امریکی صدر بارک اوبامہ نے 5جنوری2016کو ایک تقریب کے دوران20بچوں کی ہلاکت پر آنسو بہائے۔انہوں نے اپنے خطاب کے دوران2012ء میں ہونیوالے ایک فائرنگ کا تذکرہ کرڈالا جس میں20بچے مارے گئے تھے شنید ہے کہ یہ ذکرکرتے ہوئے ان کی آنکھوں سے بے اختیار آنسو نکل آئے تھے ان کا کہنا تھا جب بھی میں ان بچوں کے بارے میں سوچتاہوں پاگل سا ہوجاتا ہوں بارک اوبامہ کے آنسوؤں نے کئی لوگوں کو آبدیدہ کردیا۔ پاکستان میں پشاور میں آرمی پبلک سکول میں ہونے والی دہشت گردی کے بدترین واقعہ میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور وزیر اعظم میاں نوازشریف،تحریکِ انصاف کے چیئر مین عمران خان سمیت کروڑوں افراد کے بے ساختہ آنسو نکل آئے اسی ظلم کے خاتمہ کے لئے قومی و عسکری قیادت نے دہشت گردوں کے خلاف اپریشن ضربِ عضب کا فیصلہ کیا جو کامیابی کے منطقی انجام کے قریب ہے۔ روسی صدر ولادی میر پوٹن، کریملن کے قریب معروف علاقہ مانیزلایا سکوائر میں اپنے حامیوں سے خطاب کے ددران اپنی کارکردگی بتاتے ہوئے اشک بہانے پر مجبورہوگئے تھے اسی طرح شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اس وقت زاروقطار روتے نظر آئے جو ان کے والد اور ملک کے سابق صدر کم جونگ ٹو کی تدفین ریاستی اعزاز کے ساتھ پیانگ یانگ میں ہورہی تھی۔۔۔۔ کینیڈاکے وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو کی آنکھوں میں اس وقت تارے جھلمانے لگے جب وہ ٹرتھ اینڈ ریکو نسلیشین کی فائنل رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعدقوم سے خطاب کررہے تھے اسی طرح سابق امریکی صدر جارج ڈبلیوبش اپنے دور صدارت کے دوران امریکی نیول سیل مائیکل مونسو رکو مرنے کے بعدایوارڈ دینے کی تقریب’’ میڈل آف آنر‘‘ میں اپنے بہتے آنسوؤں کو روکنے میں ناکام ہوگئے اورسسکیاں لینے لگے۔۔۔اٹلی کے سابقہ وزیرِ اعظم سلویوبرلسکونی۔۔ اس وقت رونے لگ گئے جب نہیں ٹیکس نہ دینے کے جرم میں سزا دی گئی جس کے خلاف وہ اپنے محل کے باہر بڑے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے باربار رو پڑے۔ میانمارکی معروف سیاستدان آنگ سان کو چند سال قبل ایک پریس کانفرنس کے دوران اچانک ان کا دل بھر آیا اور وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگ گئیں۔ ارجنٹائن کی سابق صدر کرسٹینا فرنانڈس صدارتی انتخابات کے دوران شاندارکامیابی پر اپنے بیٹے میک سیمو کا بوسہ لیتے ہوئے فرطِ جذبات سے رونے لگ گئیں۔۔سابقہ پاکستانی وزیرِ اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو ایک ٹیلی ویژن کو دئیے گئے انٹرویو کے دوران اپنے بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے سوال پر اپنے جذبات پرقابو نہ رکھ سکیں ان کی آواز بو جھل ہوگئی اور آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے موقعہ پر میاں نوازشریف بھی راولپنڈی میں تھے وہ ہسپتال گئے وہاں کارکنوں کی آہ و بکا دیکھ کر آنسوؤں پر قابو پانا مشکل ہوگیا۔ اسی طرح جب میاں نوازشریف کو فیملی کے ساتھ جلاوطن کیا گیا اس وقت بھی ان کی آنکھوں میں آنسو تھے اب یہ معلوم نہیں کہ وطن چھوڑنے کا غم میں انکی آنکھیں پرنم تھیں یا مشرف سے چھٹکاڑا پاکر ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے اسلام آباد میں تاریخی دھرنے کے دوران عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر پروفیسرطاہرالقادری نے کئی بار عوام کی حالتِ زار کا ذکرتے ہوئے جذباتی خطاب کرکے نہ صرف خود آبدیدہ ہوگئے بلکہ انہوں نے لوگوں کو بھی رلادیا۔۔۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما لال کرشن ایڈوانی کو اکثر رونے کی عادت تھی بات بات پر وہ اتنے جذباتی ہو جاتے کہ آنسو تھمنے کا نام ہی نہ لیتے تھے اس کے برعکس جواہر لال نہرو کو رونے سے سخت نفرت تھی ہاں البتہ چائنہ بھارت جنگ کے دوران لتا منگیشکر کا گایا ہوا گایا ’’ ذرا آنکھوں میں بھر لو پانی ‘‘ سن کر چند لمحوں کے لئے ان کی آنکھیں پرنم ہوگئیں تاہم پھر وہ سنبھل کر بیٹھ گئے۔ جے پور میں پارٹی اجلاس کے موقعہ پر کانگرس کے رہنما راہول گاندھی نے یہ کہہ کر سب کو جذباتی کرڈالا کہ جب مجھے کانگرس کا نائب صدر منتخب کیا گیا اسی روز ان کی والدہ میرے کمرے میں آئیں اور میرے گلے لگ کر خوب روئیں جس پر کئی ارکان رونے لگ گئے۔۔۔۔27دسمبر2012ء کو اپنی والدہ کی برسی کے موقعہ پر بلاول زرداری نے سیاست میں آنے کااعلان کیاان کے پرجوش خطاب نے کارکنوں کے لہو کو گرما دیا سٹیج پربیٹھے ہوئے ان کے والد آصف علی زرداری کی آنکھیں پرنم ہوگئیں جب آنسوؤں کا ذکرہواورMQMکے معزول اور خودساختہ جلاوطن رہنما الطاف حسین کا تذکرہ نہ کیا جائے یہ کیسے ممکن ہے اکثروبیشتر ان کے ٹیلی فونک خطابات کے دوران ان کی آواز بھاری اور دل بوجھل ہو جانے کے سبب وہ رونے لگ جاتے ہیں جس پر کارکنوں کا دل دہل دہل جاتاہے اب شنید ہے کہ الطاف حسین کے رونے دھونے کا اثرزائل ہوتاجارہاہے اپنی جان بچانے کیلئے کسی نے اپنی پارٹی بنا لی تو کوئی لاتعلق ہوگیا شاید مائنس دن فارمولا اسی کو کہتے ہیں لوگ کہتے ہیں ایسے ہی کسی مائنس دن فارمولے کی زد میں آصف علی زرداری بھی آنے والے ہیں۔کئی سال قبل بارک اوبامہ سے الیکشن کے دوران آئی اوواپرائمری ہارنے کے بعدہیلری کلنٹن سرعام رونے لگ گئیں جس پران کے معاونین اور انکے کارکنوں کو لگا کہ یہ اچھی بات نہیں ہوئی ۔۔ لیکن در حقیقت ہیلری کلنٹن کو اس کا فائدہ ہوا اور ہمدردی کے باعث انہیں خواتین سے بہت زیادہ ووٹ دے دئیے۔ اب حالیہ الیکشن کمپین میں بھی ہیلری کلنٹن اسی فارمولے کو دہرانا چاہتی ہیں دیکھیں کامیاب ہوتا بھی ہے یا نہیں بہرحال عام لوگوں کا کہناہے بیشتر سیاستدانوں اور مگرمچھ کے آنسوؤں میں کوئی فرق نہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں