27

ہیلتھ کارڈکی اجرا ء کیلئے نئے سروے کا آغاز کیا جائے ورنہ کے پی کے حکومت کی ہیلتھ کارڈ اسکیم ایک سوالیہ نشان بن جائیگی۔عوامی حلقے

موڑکہو(اعجاز احمد) گذشتہ دنوں خیبر پختونخواہ کے سیکرٹری ہیلتھ عابد مجید چترال کے ہسپتالوں کی بہتری ،دسمبر کے آخر تک چترال کے ہسپتالوں کیلئے ڈاکٹرز کی تعیناتی اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے استفادہ کرنے والوں کیلئے صحت کارڈ کا نوید سناتے ہوئے واپس لوٹے جو یقیناًکے پی کے حکومت کی طرف سے ایک حوصلہ افزا اور خوش کن اقدام ہے مگر سیکرٹری ہیلتھ نے اپنے دورے کے دوران ضلع چترال کے پسماندہ تحصیل موڑکہو کی واحد رورل ہیلتھ سنٹر کی دن بدن گرتی ہوئی ابتر صورتحال کا کوئی ذکر نہ کیا حالانکہ اس میں نہ ایکسرے نکالنے کا کوئی انتظام ہے نہ بجلی کی سہولت دستیاب ہے اور امراض کی تشخیص کیلئے مائیکرو لیب سسٹم کی عدم دستیابی ،نہ الٹراساونڈ مشین اور نہ لیڈی ڈاکٹر اور نہ نرسنگ اسٹاف ۔ہسپتال کو اپ گریڈ کرکے ٹی ایچ کیو کا درجہ نہ دینا سب امور ہسپتال کی ابتری اور مریضوں کی پریشانی کا سبب بنتے ہیں۔خدانخواستہ اگر کسی کو ہڈیوں کا فریکچر کا عارضہ ہوجائے تو بھاری اخراجات ادا کرکے چترال جانا کسی کے بس کی بات نہیں۔ہیلتھ سیکرٹری نے اپنے دورے کے دوران یہ اعلان کیاہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے دیٹا میں جن حضرات کا نام شامل ہے ان افراد کے نام ہیلتھ اسکیم کارڈ جاری کئے جائینگے جن سے ان کو علاج معالجے کی سہولت میسر آئیگی۔مگر حالات اسکے برعکس ہے۔گذشتہ سال کے ہیلتھ کارڈ سروے میں اکثر بے نظیر اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو ہیلتھ کارڈ سے محروم کردیا گیا ہے اور ہیلتھ کارڈ اپنے من پسند ایسے افراد کو دیے گئے ہیں جنکے پاس کوئی بے نظیر کارڈ نہیں ہے۔اس مرحلے پر عوامی حلقوں نے ہیلتھ اسکیم پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے خیبر پختونخواہ حکومت اور وزارت صحت سے پُرزور مطالبہ کیا ہے کہ ہیلتھ کارڈکی اجرا ء کیلئے نئے سروے کا آغاز کیا جائے ورنہ کے پی کے حکومت کی ہیلتھ کارڈ اسکیم ایک سوالیہ نشان بن جائیگی۔اور گھپلوں کی صورت میں کیے جانے والے سروے کو کالعدم قرار دیا جائے نیز آر ایچ سی ہسپتال دراسن کی گرتی ہوئی حالت زار کا جائزہ لیکر انکو فوری حل کرنے کیلئے اور مشکلات کا جائزہ لیکر انکو فوری حل کرنے کیلئے محکمہ صحت کے پی کے اور ڈی ایچ او چترال فوری طورپر ہسپتال کا دورہ کرکے ہسپتال کو ایک مثالی ہسپتال بنانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔اس مسئلے پر کمانڈنٹ چترال کرنل نظام الدین شاہ ،ڈی سی چترال اسامہ احمد وڑائچ ،اسسٹنٹ کمشنر مستوج حمید اللہ خٹک اپنی اپنی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں