61

گلگت بلتستان کے حسین نظارے……. تحریر: سید ضمیر عباس کاظمی

گلگت بلتستان پاکستان کا ایک انتہائی اہمیت کا حامل علاقہ ہے۔یہاں کا جغرافیہ ایک طرف عظیم چین پاکستان کا انتہائی مخلص دوست ملک کی سرحدیں ملتی ہیں تو دوسری طرف شمالی افغانستان کی سرحداور ساتھ سینٹرل ایشین ریاستیں تو ایک طرف سیاچن گلیشر کارگل لاداخ گلگت بلتستان میں انتہائی دلفریب وادیاں اور دنیاکے عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم کوہ ہمالیہ اور کوہ ہندوکش ہیں تو ایک طرف انہیں پہاڑی سلسلوں میں دنیا کے عظیم گلیشرہوپر گلیشر تو آنکھوں کو چندیا دیتے ہیں تو پاسو گلیشر شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ ایک دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔کئی اور گلیشرز ہیں یہاں کے پہاڑوں میں دنیا کے عظیم ترین معدنیات کا خزانہ ہے تو دوسری طرف یہاں کے پہاڑوں میں نایاب قیمتی پتھر بھی وافرمقدار میں پائے جاتے ہیں ۔یہاں کے پہاڑوں میں تقریباََ دنیا کے سارے قیمتی پتھروں اور جواہرات کے خزانے موجود ہیں چند نام یاقوت ،زمرد ،اقامریں ،بیروج ٹوباز غرض کہ ہر قسم کے پتھر پائے جاتے ہیں ۔یہاں کے قدرتی وسائل بے شمار ہیں ۔ملک عزیز پاکستان کو سیراب کرنیوالا سب سے بڑا دریائے سندھ بھی یہاں کے گلیشرز سے نکلتا ہے اور پورے ملک کو سیراب کرتا ہے۔یہاں کے ضلع دیامر کی لکڑی دیار پوری دنیا میں عمارتی اور فرنیچر کیلئے مشہور ہے۔وادی ہوپر ایک ایسی حسین قدرت کی شاہکار وادی ہے جو کہ گولڈن پیک کے دامن میں ہوپر گلیشر کے ساتھ اپنی مثال آپ ہے۔وادی نگر بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے وادی نگر خاص موجودہ ضلع نگر کا میروں کے دور میں دارلخلافہ رہا ہے۔گلگت بلتستان کے مشہور وادیوں میں استور کا اپنا ایک الگ مقام ہے۔وادی استور میں جنگلات وافر مقدار میں پھیلے ہوئے ہیں ۔استور کا ذکر ہو تو راما کا سب سے پہلے زہن میں آتا ہے یہ حسین وادی بھی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے یہاں کی وادی دیوسائی جس کو دنیا کا چھت بھی کہا جاتا ہے قدرت کا انمول نظارہ پیش کرتی ہے ۔بلتستان میں وادی خپلو بھی اپنی ثانی نہیں رکھتی ہے وادی کھرمنگ کی اپنی الگ پہچان ہے ۔گلگت بلتستان سے اگر سکردو کی طرف سفر کریں تو وادی بلتستان کی پہلی تحصیل روندو آتی ہے ۔روندو میں کئی وادیاں ہیں یہاں کی وادی بلمک کا آلو پورے پاکستان میں مشہور ہے ۔کچورا پل کے پار شنگریلا ہوٹل پوری دنیا میں اپنی پہچان رکھتی ہے ۔کچورا جھیل کا نظارا ہی الگ ہے ۔سکردو کے ساتھ ہی سدپارہ جھیل قدرت کا ایک حسین نظارہ پیش کرتا ہے ۔وادی شنگریلا کا اپنی ہی پہچان ہے ۔شگر فورٹ ایک بین الاقوامی حیثیت رکھتا ہے ۔شگر کے خوبانی اور قیمتی پتھر بہت مشہور ہیں ۔گلگت شہر کے مغرب میں وادی کارگاہ اپنی مثال آپ ہے ۔کارگاہ نالہ کی ٹراؤٹ مچھلی پوری دنیا میں مشہور ہیں ۔وادی ہنزہ کی اپنی ایک منفرد حیثیت ہے یہاں کے باسی تعلیم کے میدان میں بہت ہی آگے نکل گئے ہیں جو کہ گلگت بلتستان کیلئے فخر کی بات ہے ۔وادی ہنزہ کے باسیوں نے علاقے کی ثقافت کو بھرپور طریقے سے زندہ رکھا ہے ۔نگر کی وادی شین بھر بھی اپنے اندر قدرت کے انمول شاہکار چھپائے ہوئے ہے یہاں کی وادی بھر میں دینتر انتہائی دلکش مناظر پیش کرتا ہے تو دوسری طرف چھپروٹ کے جنگلات بھری وادی اپنی قدرتی حسن سے مالا مال ہے۔وادی چھلت اپنے سنگم میں بڈلس بھر اور چھپروٹ کو سموئے ہوئے ہے۔۔۔۔۔جاری ہے

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں