58

انٹرنشنل اسلامک یونیورسٹی اور چترال کے ضلعی حکومت میں مفاہمتی یادداشت کا تاریخی فیصلہ ۔۔سماجی کارکن عنایت اللہ اسیر

اس دفعہ دعوی اکیڈمی انٹرنشنل اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد کا اسلامک تربیتی پروگرام اپنی نوعیت کا منفرد اور علاقائی جعرافیائی اہمیت کا آئینہ دار پروگرام رہا کچھ خامیوں اور کمزوریوں کے باؤجود اس تربیتی پروگرام کو چترال اور اس ریجن کیلئے تاریخی فیصلوں کا حامل اور کامیاب دورہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
ایک انٹرنشنل اسلامی یو نیورسٹی کے عزت ماب پریذیڈنٹ کا چترال تشریف لانا اور چترال کے معززین کا ان کے اعزاز میں عشائے اور عصرانے کا شاندار بندوبست اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ڈپٹی کمشنر کی قیادت میں انکا سرکاری طور پر استقبال اور ان کے اعزاز میں شاندار پولو میچ کا انعقاد اور چترال کے معروف کھلاڑیوں کا بابائے پولو کے فرزند ارجمند مقبول صاحب کی قیادت میں انتظام اگرچہ پولو پلیرز کا انکے مقام اور حثیت اور شوق کے مطابق حوصلہ افزائی نہیں ہوسکی مگر ایک عرب مہمان کا اس طرح شاندار احترام کرنا ہی ان کی بلند حوصلے مہمان نوازی اور ایک مہذب قوم کے فرزند ہونے کا مظہر تھا۔
یہ پروگرام صرف اور صرف چترال کے موجودہ مفال ڈپٹی کمشنر اسامہ وڑائج صاحب کے بہترین رہنمائی و سرپرستی ا ورNOC,s کی بر وقت فراہمی سے ہی ممکن ہوا جس کیلئے دعوی اکیڈمی انٹرنشنل اسلامی یو نیورسٹی ان کے مشکور ہیں۔ضلعی حکومت کی جانب سے پریذیڈنٹ انٹرنشنل اسلامی یونیورسٹی کے اعزاز میں چترال کے ضلعی کونسل کے معزز ممبران تمام سیاسی جماعتوں کے سربراہان اور معزیزین شہرو مختلف تعلیمی اداروں کے سربراہوں کے ہمراہ گورنر ہاؤس میں عشائیہ چترال کے باشندوں کے اتفاق و اتحاد ، مہمانوازی اور مہمانوں کی عزت افزائی کیلئے اپنے تمام سیاسی اختلافات پیچھے چھوڑ کر سب ملکر مہمانوں کی عزت افزائی کرنے کے تاریخی روایات کا امین تھا اور ضلعی ناظم مغفرت شاہ کا ان کے سامنے سپاس نامہ یقیناًایک مثبت اور بڑے فکر اور مستقبل کیلئے بہترین تعلیمی راستے کی نشاندہی کرتے ہوئے اس خطے کی اہمیت کا آئینہ دار ہے۔
انٹرنشنل اسلامی یونیورسٹی کے شاخ کا چترال میں قیام کا مطالبہ ، دعوی اکیڈمی کے مستقبل برانچ کا چترال میں اجراء اور چترالی طلبا کیلئے انٹرنشنل اسلامی یو نیورسٹی میں داخلے کی سہولیات کا مطالبہ ضلعی ناظم کے کم عمری کے باؤ جود ایک پختہ کار قومی لیڈر کا نقشہ پیش کرتا ہوا نظر آیا۔ اور جواب میں تینوں مطالبوں پر مکمل دستاویزات تیار کرکے انٹرنشنل اسلامی یونیورسٹی کے پریذیڈنٹ کو ضلعی حکومت کی طرف سے جمع کرنے کا فیصلہ کیا گیا جو انتہائی خوش ائیند اور بڑی کا میابی ہوگی اب ضلعی حکومت ورکنگ گروپ تشکیل دیکر ان موضوعات پر عملی طور پر کام کرنے میں دیر نہ کرے ۔
31 اکتوبر کو چترال کے معروف سماجی و سیاسی کارکن اور سنیٹر ایڈوکیٹ ممبر پر اونشنل بار کونسل عبدالولی خان عابد صاحب کا انٹرنشنل اسلامی یونیورسٹی کے تمام ڈاکٹر صاحبان DG صاحب اور تمام 15 مہمانوں کے اعزاز میں ظہرانے کا شاندار بندوبست اور چترالی ٹوپیان پہنانا اور ان کے کھلے پیشانی اور خوش خلقی سے رخصت کرنا چترال کے عظیم باشندوں کی تاریخی مہمان نوازی کا آئینہ دار تھا۔
دعوی اکیڈمی کے مہمانان کی خاطر تواضع میں پہلے دن کا سنگور کے رفیع اللہ صاحب کا ظہرانہ دوسرے دن دنین کے حیدر علی خان کا عشائیہ اور پھر ژانگ بازار کے عبد الحفیظ بھائی کا عشائیہ اور چترال پرائیویٹ سیکٹر میں نجی تعلیمی اداروں کے قیام اور جدید تعلیم کے ترویج کے بانی مرحوم پروفیسر اشرف الدین کے فرزند ار جمندوجیہ الدین اورارفیع الدین کی طرف سے شاندار عشائیہ اور رونڈور کے جناب نور الدین صاحب، ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام کا دیگر معزیزین شہر DSP اٹیا ئیر فضل الہی صاحب اور RPM AKSP جناب سردار ایوب کے ہمراہ پر لطف عشائیہ نے پورے چترال کے باشندوں کے شاندار تاریخی مہمانوازی کے روایات کو تازہ کیا۔
تربیتی پروگرام میں استازلا اساتذہ مولائی نگاہ کی قیادت میں اور چترال پریس کے سنئر معزز صحافی جناب محمد نزیر صاحب اور شہریار بیگ اور معروف سماجی کارکن اور پروگرام ارگنا ئیزر شاد مانی اور بابا فتح اور سلطان غنی جیسے سفید ریشان اور نوجوانان عزیز الدین و عالم زیب جیسے نوجوانوں نے بغیر کسی اعزاز ئینہ کے دور دور سے پانچ دن تک PTDC ہوٹل میں بھر پور توجہ سے حاضری دیکر پروگرام کو کامیاب کیا۔
چترال کے با شندوں کی یہ خاصیت ہی ہمارے لئے اعزاز ہے کہ ہم کسی ایوارڈ اور ریوارڈ سے بالاتر ہو کر چترال تشریف لانے پر اپنے مہمانوں کا تمام سیاسی علاقائی مسلکی قومی و زبانی اختلافات کو بالائے طاق رکھکر استقبال کرتے آئے ہیں اور کرتے رہیں گے ۔ کوئی ہمارے اردو بولنے کا مذاق اڑائے یہ نہ اڑائے۔
یاد رہے کہ اس ٹریننگ کے یادگار طور پر کامیاب ہونے میں چترال پریس کلب ، چترال ایسویشن برائے تعلیم و صحت، چترال یوتھ کلب ، انجمن ترقی کھوار ، چترال اہل قلم اور قلم قبیلے کا بھرپور تعاون شامل حال رہا۔

چترال اور چترولیوں کی عظمت کو سلام۔۔۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں