29

ایم پی اے سلیم خان میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ تحریک انصاف کے کارکن کے ساتھ مناظرہ کر سکے۔پی ٹی آئی رہنماعبدللطیف کا پریس کانفرنس

چترال (نمائندہ ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما عبدللطیف نے کہا ہےکہ پچاس ہزار روپے مالیت کے پنساری کی دکان کا مالک ایم پی اے سلیم خان آج کروڑوں سے کھیل رہا ہے اور کرپشن کی وجہ سے اُس میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ تحریک انصاف کے کارکن کے ساتھ مناظرہ کر سکے اور یہی وجہ ہے کہ سلیم خان کو مناظرے کیلئے جو وقت دیاگیاتھا ۔ اُس میں حاضر ہو کر اپنی کارکردگی میڈیا کے سامنے واضح کرنے کی بجائے چترال سے رفو چکر ہو گئے اور خود کو عمران خان کے ہم پلہ لیڈر قرار دے کر خود اپنے چھوٹے پن کا اقرار کر لیا ۔جمعہ کے روز چترال پریس کلب میںایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عوام کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کسی بھی حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے ۔ لیکن بعض اوقات حکومت کی کارکردگی کا تذکرہ کرنا مجبوری بن جاتی ہے۔ تحریک انصاف نے گزشتہ انتخابات میں چار بنیادی نکات کو اپنی ایجنڈے کا حصہ بنا کر انتخابات میں حصہ لیا تھا۔ جن میں تعلیم، صحت ، مستحکم بلدیاتی نظام میرٹ اور احتساب کے ادارے قائم کرنا شامل تھا۔ ان احداف کو موجودہ حکومت کس حد تک حاصل کرتی ہے۔ اس کا فیصلہ انے والے انتخابات میں عوام اپنے ووٹ کے زریعے کریں گے۔ لیکن چونکہ ہمارے ایک ممبر صوبائی اسمبلی سلیم خان صاحب گزشتہ کئی مہینوں سے مسلسل صوبائی حکومت پر تنقید کے نشتر چلا رہے ہیں کہ تحریک انصاف کی حکومت نے چترال کی ترقی کے لئے کچھ نہیں کیا۔ سلیم صاحب اگر گزشتہ دور میں ایم پی اے یا وزیر نہ ہوتے تو ان کی باتوں کو ہم یہ سمجھ کر در گزر کردیتے کہ شاید وہ حکومت میں آکر چترال کو ترقی کی معراج تک پہنچائیں گے۔ لیکن چونکہ موصوف پانچ سال تکصوبائی حکومت میں بطور وزیر شامل رہے لیکن اپنے گاوں کندو ژال کے لئے سڑک تک نہ بنوا سکے۔ اور ان کے گاوں اور گھر کا راستہ بھی تحریک انصاف کی حکومت میں بن رہا ہے۔ ان صاحب کو میں نے یہ کہہ کر چیلنج کیا تھا۔ کہ وہ اپنے گزشتہ دور حکومت کی تفصیلات اور میں اپنی تین سالہ دور حکومت کی کارکردگی لے کر میڈیا اور عوام کے سامنے ائیں گے تاکہ دودھ کا ددوھ پانی کا پانی ہو جائے میں آج اپنے وعدے کے مطابق حاضر ہوا ہوں ۔اُنہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کہ چترال سے کوئی منتخب صوبائی یا قومی اسمبلی کا ممبر نہیں اور ضلعی حکومت میں بھی تحریک انصاف اپوزیشن میں ہے۔ اس کے باوجود تحریک انصاف کی حکومت کی گزشتہ دو مالیاتی سالوں میں چترال میں شروع کئے گئے مختلف سیکٹرز کے منصوبوں کی تفصیل آپ کی خدمت میں پیش کررہا ہوں۔
تعلیم :
یہ بات آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی قوم کی ترقی کا دارومدار اس کے تعلیمی نظام پر ہے ہمارا تعلیمی نظام جس بے دردی سے ماضی کی حکومتوں نے تباہ کیا میں اس کی تفصیل میں جانا نہیں چاہتا ہوں میں صرف اپ کو تحریک انصاف کے دور میں شروع کئے گئے تعلیمی اصلاحات کی تفصیل مختصراََ عرض کر رہا ہوں۔
۱۔ چترال میں یونیورسٹی کا قیام: سلیم خان کی دور حکومت میں جب مختلف اضلاع میں یونیورسٹیاں قائم کی گئیں تو چترال کے نوجوانوں نے بھی یونیورسٹی کا مطالبہ کیا۔ لیکن یونیورسٹی کی قیام کی جگہ کرائے کی مکان میں کیمپس قائم کر کے چترالی قوم کو لولی پاپ دینے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن الحمد اﷲ پچھلے سال جب صوبائی وزیر اعلیٰ پرویز خٹک عمران خان کے ساتھ چترال تشریف لائے تو پی ٹی ائی کے ورکرز نے اپنے قائد کو چترال میں یونیورسٹی بنانے کا مطالبہ کیا جس پر انھوں نے فوری طور پر صوبائی وزیر اعلیٰ کو یونیورسٹی کا قیام کے حوالے سے احکامات دئیے جس پر عمل کرتے ہوئے صوبائی حکومت نے موجودہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں چترال یونیورسٹی کو شامل کر کے تیس کرورڑ روپے کے فنڈز مختص کئے کہ یہ منصوبہ اربوں روپے کا ہے ۔ اور بتدریج فنڈز کی فراہمی کے ذریعے پائیہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔
۲۔ ڈگری کالج برائے خواتین ایون!۔
چالیس کروڑ روپے کی لاگت سے ایون میں خواتین کے لئے ڈگری کالج بھی صوبائی حکومت کی طرف سے تعلیم کے میدان میں ایک انقلابی قدم ہے جس کا کسی دوسری سیاسی پارٹی خواب ہی دیکھ سکتی ہے۔
۳۔اسکولوں میں اساتذہ کی میرٹ پر تعیناتی :
اُنہوں نے کہا کہ یہ بات ریکارڈ کا حصہ ہے کہ جب سلیم خان اور اس کی اتحادی حکومت 2013 ء میں سبکدوش ہو رہی تھی۔ تو پورے صوبے میں تیس ہزار اساتذہ کی اسامیاں خالی تھیں۔ تحریک انصاف کی حکومت اتے ہی سب سے پہلے تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا لیکن یہ کمی ماضی کے برعکس جب اساتذہ کی بھرتی سیاسی بنیادوں پرہوتی تھی۔ این ٹی ایس کے شفاف نظام کے زریعے بغیر سیاسی مداخلت کے پر کرنے کا فیصلہ کیا اور اب تک صرف چترال میں زنانہ سکولوں میں دو سو اٹھاسیٹھ 268/اور مردانہ سکولوں میں 695اساتذہ بھرتی کئے جاچکے ہیں۔ اس کے علاوہ تمام سکولوں میں فرنیچر کی فراہمی جون 2017 ء تک مکمل ہو جائے گی۔ اب تک دس سکولوں میں ائی ٹی لیبقائم کئے جا چکے ہیں جبکہ پانچ سکولوں میں ائی ٹی

لیب کے قیام کے لئے فنڈز متعلقہ اداروں کو ریلیز کئے جا چکے ہیں۔مالی سال 2014-15میں سکولوں کی حالت بہتر بنانے یعنی چار دیواری کی تعمیر گروپ لیٹرین اور اضافی کمروں کے لئے 26389000/=روپے خرچ کئے گئے ۔ جبکہ 2015-16میں 29.270/=ملین روپے خرچ ہوئے ۔ پرائمری سکول کی بچیوں کو کھیل کو د کے سامان کی فراہمی کے لئے 28سکولوں کے لئے ایک ایک لاکھ روپے سے زائد فی سکول فراہم کئے گئے۔
ماضی میں دو کمروں پر مشتمل سکول بنا کر تعلیم کے ساتھ مذاق کیا جاتا رہا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے یہ پالیسی اپنائی ہے کہ اب جب بھی کوئی پرائمری سکول بنے گا وہ چھ کمروں پر مشتمل ہوگا اور ہر کلاس کے لئے الگ استاد مقرر کیا جائے گا۔
مانیٹرنگ کا نظام:
تعلیمی اداروں میں اساتذہ کی حاضری کو یقینی بنانے کے لئے مانیٹرنگ کا نظام متعارف کیا گیا جس سے اساتذہ کی حاضری جو پہلے 70%فیصد سے بھی کم تھی اب 98%فیصد ہو گئی ہے۔ Proxyٹیچر کا خطرناک کلچر جو تعلیمی نظام کو تباہ کر رہا تھا۔
مانیٹر نگ کے نظام کی بدولت اس کا خاتمہ ہوا ۔ یہ وہ اقدامات ہیں جو سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ہٹ کر شروع کئے گئے۔ اور انشاء اﷲ پانچ سال اگر یہ پالیسیاں رہیں تو چترال میں تعلیم کا معیار قابل فخر سطح تک بلند ہوگا۔
صحت:
صحت کا شعبہ تعلیم کے بعد کسی بھی حکومت کی ترجیحات میں نہیں تھا۔ تحریک انصاف کی حکومت میں صحت کے شعبے میں جو انقلابی اقدامات چترال کے حوالے سے کئے ہیں ان کا مختصر جائزہ پیش کر رہا ہوں۔ چترال میں صحت کی فراہمی کے لئے تین بڑے ادارے ڈی ایچ کیو چترال ، ٹی ایچ کیو بونی اور ٹی ایچ کیو دروش ہیں ۔ لیکن یہ تمام ادارے اسٹاف کی کمی دواوں کی عدم دستیابی اور سہولیات کے عدم فراہمی اور تشخیصی سہولیات کی کمی کے باعث بیماریاں ختم کرنے کی بجائے ان میں اضافے کا سبب بن رہے تھے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کی Standarizationکے لئے سترہ کرورڑ17000000/=روپے ٹی ایچ کیو بونی کی اپ گریڈیشن کے لئے چالیس کرورڑ وپے ٹی ایچ کیو دروش کے لئے تقریباََ بارہ کرورڑ روپے مختص کئے گئے۔ اس کے علاوہ مختلف بی ایچ یوز اور ار ایچ سیز کو مستحکم کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی اس کے علاوہ ہیں مختلف بی ایچ یوز اور ار ایچ سیز کے لئے چالیس نرسز اور چھ ڈاکٹروں کی تعیناتی بھی پی ٹی ائی کے دور حکومت میں ہی ممکن ہوئی ۔ ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں گزشتہ کئی سالوں سے ڈاکڑوں کی کمی تھی جس کو پورا کرنے کے لئے چودہ نئے ڈاکٹرز نرسز اور سپورٹنگ اسٹاف کی تعیناتی بھی موجودہ حکومت کی کارکردگی ہے۔ اس کے علاوہ صحت سہولت کارڈ کے زریعے دس ہزار غریبوں کو سالانہ ایک لاکھ چالیس ہزار روپے تک مفت علاج کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ اور اب انصاف کارڈ کا اجراء کیا جا رہا ہے۔ جس سے چترال کیتقریباساٹھ فیصد ابادی کو سالانہ پانچ لاکھ روپے تک صحت کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
بیس سال پہلے پیپلز پارٹی کی حکومت میں چترال کے مختلف علاقوں میں پیپلز ورکس پروگرام کے تحت ڈسپنسریاں بنائی گئی لیکن دو عشروں تک یہ ڈسپنسریاں لوگوں کی ذاتی استعمال میں رہیں اور بعض جگہوں پر مویشی خانوں کے طور پر استعمال ہوئے سلیم خان صاحب پانچ سال منسٹر رہتے ہوئے ان ڈسپنسریوں کو فعال نہ کر سکے۔ جن پر قوم کا کروڑوں روپے خرچ ہو چکا تھا۔تحریک انصاف کی حکومت میں ان بارہ ڈسپنسریوں کو فعال کرنے کے لئے اقدامات کئے ۔ ان کے لئے اب باقاعدہ اسٹاف کی منظوری ہو چکی ہے۔ اور اسٹاف کی تعیناتی کے لئے درخواستیں بھی طلب کی گئی ہیں ۔اور عنقریب تعیناتی کے بعد لوگوں کو سہولیات کی فراہمی شروع ہو جائے گی۔
ؓؓؒ بلدیاتی نظام:
دنیا کے تمام ترقیافتہ ممالک میں ایک مستحکم بلدیاتی نظام قدر مشترک ہے لیکن بد قسمتی سے پاکستان کی سیاسی جماعتیں جو خاندانی وراثت کی بنیاد پر کام کرتی ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی اختیارات عوام تک منتقل کرنے کی کوشش نہیں کی موجودہ صوبائی حکومت نے عوام کو فیصلہ سازی اور ترقیاتی عمل میں شامل کرنے کے لئے صوبے کا 30% بجٹ بلدیاتی اداروں کے زریعے خرچ کرنے کا فیصلہ کیا گزشتہ سال چترال کی سو ویلج کونسلز اور Neighbourhood کونسلز کے لئے 285ملین روپے کا ترقیاتی بجٹ دیاتحصیل اور ڈسڑکٹ کونسل کا بجٹ اس کے علاوہ ہے ۔جو تقریباََ اتنی ہی مالیت کا بنتا ہے۔ ویلج کونسل کے چئیر مین کو دفتر کے اخراجات کے علاوہ دس ہزار روپے کا اعزازیہ دیکر عوامی نمائندوں کی عزت اور توقیر میں اضافے کا ساماں کیا۔ اس عمل سے معاشرے کا ہر طبقہ چاہے خواتین ہو نوجوان ہو یا کسان وہ فیصلہ سازی میں شریک ہو گئے۔ تمام بین الاقوامی اداروں اور Think Tanksنے خیبر پختونخواہ کے بلدیاتی نظام کو پاکستان میں تمام صوبوں سے بہترین قرار دیا ہے۔اختیارات عوام تک منتقلی کیساتھ ساتھ چترال میں دو سو افراد کو برا ہ راست اور ہزاروں لوگوں کو بلواسطہ روزگار کے مواقع میسر ائے۔
پبلک ہیلتھ انجنئیرنگ :
پینے کی صاف پانی کی فراہمی کے لئے چترال کی تاریخ میں سب سے بڑی سرمایہ کاری تحریک انصاف کی دور حکومت میں ہوئی ہے۔ اب تک مختلف تکمیل شدہ اور جاری منصوبوں کے لئے 805.985/-ملیں جو کہ اسی کروڑ انساٹھ لاکھ پچاسی ہزار روپے بنتے ہیں اور چالیس کروڑ روپے کے منصوبے منظوری کے اخری مراحل میں ہیں ۔ جو 2016-17کی مالی سال میں یہ منصوبے بھی انشاء اﷲ شروع ہو جائیں گے۔
بجلی و توانائی :
چترال کو اﷲتعالی نے پانی کے ذخائر سے مالا مال کیا ہے جہاں سے ہزاروں میگاوٹ بجلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ لیکن 2013تک چترال میں صوبائی اور وفاقی حکومت کے مشترکہ پراجیکٹس سے صرف 5.5میگا واٹ بجلی پیدا کی جارہی تھی۔ تحریک انصاف کی حکومت میں چترال میں پن بجلی کے منصوبوں کو ترقی دینے کے لئے قلیل مدتی اور طویل مدتی منصوبے شروع کئے ۔ قلیل مدتی منصوبوں میں ایک عرب چھ کروڑ روپے کی خطیر رقم سے 55چھوٹے پن بجلی گھروں کی منظوری دی گئی ۔ جن میں سے 19منصوبے مکمل ہو چکے ہیں ۔ باقی چھتیس منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں۔ اورجون 2017 ؁ء تک 6.275میگا واٹ کے یہ چھوٹے پن بجلی گھر مکمل ہو جائیں گے۔ طویل مدتی منصوبوں میں اٹھارہ ارب روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والے ڑاوی پاور پراجیکٹ پر عملی کام کا اغاز ہو چکا ہے۔ اور دو ارب روپے کے فنڈز ریلیز بھی ہو چکے ہیں ۔شغور سین کا تقریباََ150میگا واٹ کا پراجیکٹ بھی انشاء اﷲ تحریک انصاف کے دور میں ہی شروع ہوگا۔ جس کی فیزیبیلٹی وغیرہ بھی مکمل ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ چوبیس کروڑ روپے کی لاگت سے ریشن پاور ہاوس کے متاثرین کو سولر پینلز کی فراہمی کا منصوبہ بھی جاری ہے ۔
ڈیزاسٹر!۔
گزشتہ سال کی سیلاب اور زلزلے سے چترال میں جو تباہی آئی اس میں دو ارب اٹھارہ کروڑ روپے متاثرین سیلاب اور زلزلہ زدگان میں نقد تقسیم کئے گئے ۔ جس میں پچاس فیصد صوبائی حکومت اور پچاس فیصد وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈنگ کی گئی۔ تباہ شدہ انفرا سٹرکچر کی بحالی کے لئے سات کروڑ روپے سی اینڈ ڈبلیو کو 4.5کروڑ روپے پبلک ہیلتھ انجنئرنگ کو اور پانچ کروڑ چالیس لاکھ ایریگشن ڈیپارٹمنٹ کو 7.5کروڑTMAsکو جبکہ 21کرورڑ سے زائد رقم ایف ڈبلیو او کو فراہم کئے گئے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ بحالی کے پراجیکٹس کو ایف ڈبلیو او کے ذریعے کرانے کامطالبہ منتخب نمائندوں نے کیا تھا۔ جن میں ممبران قومی اور صوبائی شامل ہیں ۔ اب مزید تباہ شدہ انفرااسٹرکچر کی بحالی کے لئے پچاس کرورڑ روپے کی چیف منسٹر کی ڈائرئکٹیو اچکی ہے۔ اور باقی ماندہ منصوبے ان فنڈز کے زریعے مکمل کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ گرم چشمہ روڈ کی بلیک ٹاپنگ کے لئے پندرہ کروڑ روپے شغور گرم چشمہ روڈ کی تعمیر Re Alligment/کے لئے ایک ارب چالیس کروڑ روپے کا منصوبہ زیر غور ہے ۔ جو انشاء اﷲ جلد ہی منظور ہو کر عملی کام کا اغاز ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ایون کے پل کے لئے ساڑھے اٹھ کروڑ جبکہ کوشٹ پل کی تعمیر کے لئے پانچ کروڑ روپے منظور کئے جا چکے ہیں۔ بونی پل جو کئی سالوں سے التوا کا شکار تھا۔اس کی تکمیل بھی تحریک انصاف کے دور میں ہوئی ۔ اس کے علاوہ چھوٹے موٹے روڈز وغیرہ کے لئے نو کروڑ روپے منظور ہو چکے ہیں۔ بونی بوزوندروڈ جو گزشتہ حکومت میں کرپشن اور لاپرواہی کا نشان بن چکا تھا۔ اس کی صوبائی انسپکشن ٹیم اور نیب کی تحقیقات کے بعد صوبائی حکومت کی کوششوں سے کام کا اغاز ہو چکا ہے ۔ ایک ارب روپے سے زائد کے اس منصوبے میں صوبائی حکومت کا حصہ دس فیصد ہے لیکن اس کو عملی بنانے میں اور تکمیل کے حوالے سے صوبائی حکومت کا کردار سو فیصد ہے۔
اسپورٹس:تحریک انصاف کے ایجنڈے میں نوجوانوں کو صحت مند تفریح کے زرائع فراہم کرنا بھی ہے۔دو اسٹیڈئمز سید آباد لوئر چترال اور گہلی بونی اپر چترال میں باقاعدہ کام کا اغاز ہو چکا ہے۔ یہ دونوں منصوبے پندرہ پندرہ ملین روپے کی لاگت سے مکمل ہونگے۔ جبکہ 54لاکھ روپے کی لاگت سے کوشٹ کا پولو گراونڈ دوبارہ تعمیر ہو رہا ہے۔ اور ہر یونین کونسل میں کھیلوں کا میدان تحریک انصاف کا ایجنڈا ہے ۔ اس پر زور و شور سے کام جاری ہے۔
CDLD: جو صوبائی حکومت کا پراجیکٹ ہے چونتیس کروڑ روپے کے پراجیکٹ مکمل ہو چکے ہیں۔ جن کی تعداد 222ہے ۔ 26000000/=روپے کی پراجیکٹ مزید شروع ہو رہے ہیں۔ جو 24یونین کونسل میں مکمل کئے جائیں گے۔ اس موقع پر پروفیسر رحمت کریم بیگ نے بھی پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا ۔ عبدالطیف نے اُنہیں ہار پہنایا ۔ اور پارٹی میں شمولیت پر خوش آمدید کہا ۔ جبکہ کریم بیگ نے بھر پور تعاون کا یقین دلایا ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں