41

افتخار الدین کی ناکام سیاست اور چترال کی پرانی پارٹی…… حافظ نصیر اللہ منصور

میرے گذشتہ کالموں کے چار اقساط (وزیر اعظم کا دورہ چترال اور افتخار الدین کی شخصیت و سیاست )کاملاحظہ کرنے والے چند دوستوں کے ای میل کومنٹس موصول ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’’ شہزادہ افتخار الدین کا چترال میں ووٹ بینک ہے‘‘ عوام کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ ہے ۔ اس کی نفی میں ایک لمبی تمہید باندھنے کی ضرورت پڑی ۔ یوں تو شہزادہ افتخار الدین کے ووٹ بینک کے پیچھے بڑے عوامل کار فرما تھے جن کو نظر انداز کرنا بھی ممکن نہ تھا۔ البتہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مورخ تاریخ لکھتے ہوئے شہزادہ محی الدین کا نام چترال کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے گا۔ موصوف شاہی خاندان کے چشم وچراغ ہونے کے باؤجود ابتدائی طور پر کچھ زیادہ مضبوط مالی حیثیت نہیں رکھتے تھے ۔انتہائی محنت کش ، اور ایماندار ہونے کی وجہ سے اپنے آپ کو منوانے میں بھر پور طریقے سے کامیاب ہوئے ۔اس وقت شہزادہ صاحب کا ضعیف العمری کی وجہ سے سیاست میں کردار نہیں رہا البتہ ان کا رغب اور دبدبہ چترال کی سیاست پر حاوی ہے۔ شہزادہ صاحب کی طبیعت اور مزاج میں ریاستی اور جمہوری دونوں ادور کا حسین امتزاج تھا ۔ایک خود دار ،نڈر اور زیرک سیاست دان ہونے کے ناطے قومی سیاست میں بھی ممتاز مقام رکھتے تھے۔ اسسٹنٹ کمشنر سے حکمرانی کا آغاز کرکے وفاقی وزیر بننے کا اعزاز حاصل کیا ۔تقریبا 35 سال کا طویل عرصہ تخت چترال پر رونق افروز رہے۔ ان کے دیرینہ مداحوں کی تعداد بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے یوں چترال میں ایک الگ قبائلی پارٹی کے سربراہ بھی بن گئے تھے۔ غالبا 35 سال اسی پارٹی کی بناؤسینگار میں صرف کرکے ایک منظم سیاسی،و فکری پارٹی کا قیام عمل میں لایا ۔اس پارٹی کے اکثر ممبران ریاستی دور کے کسی نہ کسی منصب سے لگاؤرکھتے تھے اورموصوف کے لیے مٹ مرنے کو تیار ہوتے بلکہ ان کی اولاد بھی اپنے آباؤاجداد کے نقش قدم پر چل کر اسی پارٹی کومنظم کرنے میں شہزادہ صاحب کے شانہ بشانہ کوشش کر تے رہے۔یہ کوئی ایک باقاعدہ رجسٹرڈ جماعت نہیں تھی لیکن اپنے وجود کے اعتبار سے’’ شزدہ لیگ ‘‘کے نام سے مشہور تھے ۔بہرحال شہزادہ کے لئے ان کے دلوں میں بڑا مقام تھا بہت زیادہ احترام اور عزت دیتے تھے ۔ چترال میں موصوف کا ایک زبردست ووٹ بینک بھی یہی لوگ تھے ۔شہزادہ کے سیاست سے علیحدگی کے بعد اس جماعت کو کوئی خاص جانشین یا اسرا نہ مل سکا جو اس خلا کو پر کر کے شہزادہ صاحب کی کمی محسوس ہونے نہ دیتے ۔رفتہ رفتہ اکثر بزرگ لوگ فوت ہوتے گئے اور نئی آنے والی نسل کو اس نہج پر موزوں قیادت نہ مل سکی اور یکسر یوتھ ونگ بن کر تحریک انصاف و دیگر پارٹیوں کے آغوش میں چلے گئے۔شہزادہ صاحب اپنی حکمرانی کے دور میں بھی اپنے لاڈلے فرزند افتخار الدین کی تربیت کرتے رہے اور اپنے ان کرم فرماؤں کے پاس الیکشن مہم کے دوران بھی جاتے ہوئے اپنے ہمراہ لے جاتے ۔افتخار الدین اپنے والد بزگوار کے نیشنل اسمبلی کی اخری الیکشن مہم میں چترال کے اکثر دوروں میں ساتھ رہے اور اس میں شہزادہ محی الدین صاحب کو کامیابی بھی ملی گئی تھی ۔شاید افتخار الدین اس سلسلہ خلافت کو جاری نہ رکھ سکے اور ہر جہ نئے کرم فرما ؤں کی تلاش میں رفو چکر ہو گئے اور اپنے والدمحترم کی پارٹی سے ہٹ کر مشرف کی چھتری پر انحصار کیا اور وقتی طور پر کامیابی سے ہم کنار ہوگئے۔ سیاسی ادوار کے بدلنے سے سیاسی وفاداریاں بھی بدل گئیں اور ایک مرتبہ بھی اپنے والد کے پرانے رفیق میاں نواز شریف کی کشتی میں سوار ہو نے کی ناکام کوشش کی میاں صاحب نے اپنے دورہ چترال میں افتخار الدین کی اپنے ساتھ وفاداری کاانکشاف کرکے مشرف کی مضبو ط چھتری سے ان کو نکال کر بے یارو مددگار سیاسی میدان میں لا کھڑا کیا ۔میرا خیال ہے کہ میاں صاحب نے شہزادہ صاحب کا مشرف سے گزشتہ وفاداری کا بدلہ لے لیا۔ موصوف اپنے والد گرامی سے شاید انسٹرکشن نہیں لیتے رہے جس کی وجہ سے’’ آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا ‘‘والا محاورہ کا مصداق بن گیا ہے ۔اپنے والد گرامی کی طرز سیاست پر اسی نہج سے چلتے تو شاید وہ دن دور نہ تھا کہ افتخار الدین بھی ایک سیاسی پارٹی کے سربراہ ہوتے۔ پاکستان کے سیاسی منظر نامے میں ایک پارٹی کی رجسٹریشن کے ساتھ چترال بھی بین الاقوامی میڈیا میں نمایاں ہوتا۔بلوچستان میں ہر قبیلے کی اپنی پارٹی ہو سکتی ہے تو چترال میں کیوں نہیں؟ مگر کاش ؟ …. آئندہ انتخابات مسلم لیگ نون کی ٹکٹ کسی اوربااثر شہزادے کو بھی مل سکتی ہے ۔موجودہ ایم این اے کے لئے ہزاروں مسائل کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ سیاسی وفاداریاں وہ لوگ تبدیل کرتے رہے جن کا حکومت سے لین دین ہوتا ہے کسی نہ کسی پہلو میں ٹھیکدار ہوتے ہیں اور اپنے مفادات حاصل کرنے کے لئے حکومت سے جڑے رہتے ہیں ، اور اپنی لوٹا کریسی کی سیاست کو بھی عوام کے بہتر مفاد میں ڈِکلیر کرتے ہیں ۔سیاست کے یہ سمجھدار اور دانا سیاستدان بھی ماضی بھلا کر کسی اور بہر پئے کی شکل اختیار کرکے میدان کے نئے شہوار بن جاتے ہیں اور عوامی امنگوں کی نئی ترجمانی کرتے ہیں ،نئے خواب اور سرسبز باغات دور دورتک دکھا تے ہیں اور اپنی حکومت مخالف مظلومیت کا بھی رونا روتے ہیں۔ عوام ایک نا لائق طالب علم کی طرح ماضی کے اسباق یکسر بھلا کر ایک نئے امتحان کی تیاری کرتا ہے۔(جاری ہے)

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں