31

تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے۔۔۔۔ تحریر : عطا حسین اطہر

اللہ تبارک وتعالیٰ تمام شہداء کواپنی جوار رحمت میں جگہ عطافرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطاکرے۔ایک ایسا سانحہ جس نے آنکھوں کو آشکبار ،دلوں کو غم سے مغموم کردیا۔ سینے درد کی شدت سے پھٹے جارہے ہیں۔آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ بد قسمت جہاز میں سوار ہر شخص چترال اور پاکستان کے لیے سرمائے کی حیثیت رکھتا تھا۔ آج ان کی صرف یاد ہی ہمارے پاس باقی بچے۔ ڈی سی صاحب کی خدمات اور چترال سے محبت کو کس طرح بھولیں۔ ہفتہ پہلے ہمیں انٹرویو کا وقت دیا تھا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ وقت کسی کا نہیں ہوتا۔چترال کے تمام مسائل کا حل تعلیم اور تعلیم کو قرار دیتے تھے۔ ہر روز چترال کوچنگ سنٹر میں آکے کلاسوں کا جائزہ لیتے۔ ڈی سی پارک کی صورت میں 50دنوں میں ایک خوبصورت پارک کا قیام ان کی انتھک محنت کا نتیجہ تھا۔تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے شب و روز کام کیا۔سیلاب زدگان مدد کے لیے ہر وقت موجود ہوتے۔ چترال میں لینڈ مافیا،ٹمبرمافیا، ٹھیکہ دار مافیااور دوسرے سماج دشمن عناصر کے خلاف ہونے کی وجہ سے ایک خاص طبقہ ان کے خلاف سرگرم علم تھا۔ لیکن ان کے مخالفت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے ہر وقت اپنے کام میں مشغول رہتے۔کئی عرصے بعد چترال کو ایک محنتی، مخلص اور دلیر اور ہر دلعزیز ڈی سی میسر آیا تھا۔لیکن ہماری قسمت خراب کہ آج وہ ہم میں نہیں ر ہے۔ جنید جمشید دل دل پاکستان سے اپنے کیریئر کا آغاز کرنے والے اس انسان کی زندگی کا ارتقاء قابل فخر رہا۔ اللہ کی راہ میں انہوں نے جان دے دی۔ عنایت اللہ اسیر صاحب نے ان کی خطاب سننے کی ہمیں دعوت دی تھی لیکن ایک دوسری مصروفیت کی وجہ سے نہیں جاسکا۔ اس کا دکھ ہمیشہ رہے گا۔ محمد خان صاحب،اکبر علی صاحب اور عمرا خان صاحب آپ کے ساتھ کئی حوالوں سے ایک خوبصورت تعلق رہا۔ایک تعلیمی ادارے سے وابستہ تھے۔ چترال کی تعلیمی ترقی کے حوالے سے ان خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔اس کے ساتھ ساتھ ان کے بچے ہمارے اسکول میں ہیں۔ تو ان کی کار کردگی کے حوالے سے ہر وقت ہمارے ساتھ رابطے میں رہتے۔ اسکول آتے تو اپنے بچوں کی تعلیمی کار کردگی کے ہر پہلو کا جائزہ لیتے اور ہر سبجیکٹ کے ٹیچرز کے ساتھ الگ الگ بیٹھتے، فیڈ بیک دیتے۔اس لیے آپ کے بچوں کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے پرفارمنس دوسرے بچوں کی نسبت بہترین ہیں۔ان معصوم صورت بچوں کے چہرے میرے خیال میں آتے ہیں تو بے اختیار آنکھو ں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں۔
مجھ سے تمہیں نفرت سہی ،نیر سے لڑائی بچوں کا بھی نہ دیکھا تماشا کوئی دن اور
ہنس مکھ احترام الحق میرے چھوٹے بھائیوں کا دوست تھا۔ رات کو انہی کے ساتھ ٹھہرے تھے۔ میری امی کا برا حال ہے۔کہتی ہے ان کو تو میں نے صبح ہی رخصت کی تھی۔ ائیر پورٹ سے بھی ان کاخدا حافظ کا ایس ایم ایس آیا تھا۔بھائیوں کو یقین نہیں آرہا ہے۔ابھی بھی ان کا نمبر ملا رہے ہیں۔ پاگلو! جانے والے کب واپس آتے ہیں۔
جانے والے کو نہ روکو کہ بھرم رہ جائے تم پکارو بھی تو کب اس کو ٹھہر جانا ہے
سلمان لال، کچھ ہی عرصہ پہلے آپ کے پیارے ابو جی داغ مفارقت دے گئے تھے۔اللہ آپ کے پورے خاندان کو استقامت عطا فرمائیں۔ عدنان لال! آپ کے بڑے بھائی ہیں۔ہم آپ کو کیا کہہ کے تسلی دے۔ جس کا جگر کا ٹکڑا جد ہو ان کو کن الفاظ سے تسلی دی جائے گی۔بس اللہ اپنے پیارے بندوں کا ہی امتحان لیتا ہے ایک اور آزمائش سہی۔۔۔ اللہ اس آزمائش میں بھی آپ کو آپ کے خاندان کو سرخرو کرے۔ ہم دعا ہی کر سکتے ہیں۔ہمارے بس میں اور ہے بھی۔۔۔ سلمان لال ہاشو فاؤنڈیشن چترال کے سربراہ کے طور پر چارچ سنبھالے کم وقت ہی ہوا تھا۔ ہاشو فاونڈیشن بھی ایک اچھے منتظم سے محروم ہوگیا۔
آپ ایک استاد تھے، ایک مہم جو تھے۔ ایک بانکا شہزادہ تھے آج بھی شہزادوں کا وہ رکھ رکھاؤ ،، شہزادوں کے وہ مشغلے لیے مہم جوئی میں جان جان آفرین کے سپرد کی۔ کھوار کے درویش شاعر شہزداہ عزیز الرحمن بیغش کے فرزند شہزادہ فرحت عزیز اپنی چھوٹی بیٹی کے ساتھ اس جہاز میں سوار تھے۔ جب پائلٹ نے اعلان کیا ہوگا کہ جہاز کو آگ لگی ہے تو اپنی بیٹی کو کس طرح اپنی باہوں میں لیا ہوگا اور کس طرح اپنے سینے سے لگایا ہوگا۔یہ سوچتا ہوں تو کلیجہ پھٹنے لگتا ہے۔
بس اب صرف دعا ہے’’ تم بھی اٹھاؤ ہاتھ کہ موسم دعا کا ہے‘‘۔ اور کیا کرسکتے ہیں۔ ان کی مغفرت کی دعا اور پسماندگان کے لیے صبر کی دعا۔۔
جو غم کا سایہ کل سے پورے چترال اور پاکستان میں چھایا ہوا ہے۔ کیا وہ لوگ بھی اس غم کو محسوس کررہے ہیں یا نہیں جو یہ اعلان کرتے ہوئے نہیں تھکتے ہیں کہ اس واقعے کی تحقیقات ہوگی۔ مجھے نہیں لگتا کہ وہ اس غم کا تھوڑا بھی احساس رکھتے ہیں۔ کیا خاک تحقیقات کریں گے۔ اس سے پہلے کونسے تحقیقات انہوں نے کی ہے جو اب کریں گے۔ابھی تک پی آئی اے کے سی ای او کی طرف سے کوئی معذرت ہی نہیں کی گئی ہے۔ تحقیقات ضرور ہونی چاہیئے ۔ ہم نے اپنے پیاروں کو کھو دیا لیکن کوئی دوسرا ان کی نہ اہلی کی وجہ سے اس قسم کے حالات سے دوچار نہ ہو۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں