143

چترال میں سیلاب سے نقصانات کی تفصیل جاری/سرکاری اداروں نے فنڈز کی عدم دستیابی کا رونا رویا

چترال (نمائندہ ڈیلی چترال) حالیہ تباہ کن اور بدترین سیلابوں کے نتیجے میں چترال میں ابتک کم ازکم 32افراد جان بحق ہو گئے ہیں جبکہ نا قابل یقین حد تک مالی نقصانات ہوئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق 16جولائی سے شروع ہونے والے بارشوں اور اسکے نتیجے میں آنیوالے سیلابوں کے نتیجے میں ابتک 32اموات ہوئے ہیں جنمیں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ ان اموات میں چترال میں تین، سب ڈویژن مستوج میں 28اور گرم چشمہ میں ایک شخص کی موت شامل ہے۔سیلاب کے نتیجے میں 700گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے ہیں جبکہ جزوی نقصانات والے گھروں کی تعداد بھی ایک ہزار کے لگ بھگ بتائی جارہی ہے ، اسکے علاوہ بڑی تعداد میں دیگر عمارتیں جنمیں مساجد، جماعت خانے، سکول، دکانیں شامل ہیں سیلاب برد ہو چکے ہیں۔ سیلاب نے تقریباً 20گاڑیوں کو بھی بہا لیا۔ تاریخ کے اس بدترین قدرتی آفت کے نتیجے میں ضلع کے اندر انفراسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچا ہے اورضلع کے اندر مواصلات کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، ضلع کے نصف سے زیادہ آبادی ضلعی ہیڈکوارٹر سے کٹ کر محصور ہو کر رہی گئی ہے ۔ ان علاقوں میں سب ڈویژن مستوج، گرم چشمہ ویلی، کالاش ویلیز بموریت اور رمبور، شیشی کوہ ویلی وغیرہ شامل ہیں۔ سب ڈویژن مستوج سمیت دیگر علاقوں میں مختلف گاؤں اور دیہات کا آپس میں رابطہ منقطع ہے۔ مختلف جگہوں پر قائم 70کے قریب پل سیلاب برد ہوئے ہیں جبکہ 53مقامات پر سڑکوں کو نقصان پہنچنے کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہے ۔ سڑکوں کی بندش کی وجہ سے چترال کے اکثر علاقوں میں اشیاء خوردو نوش سمیت دیگر ضروریات زندگی کی قلت پیدا ہوچکی ہے۔ سیلاب کے نتیجے میں ضلع کے اندر 60فیصد رقبے پر موجود فصلیں ا ور باغات تباہ ہوئے ہیں جسکی وجہ سے لوگوں کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے۔اعدادو شمار کے مطابق سیلاب کے نتیجے میں ریشن بجلی مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے جبکہ شیشی بجلی گھر سے بھی بجلی سپلائی بند ہے، اسکے علاوہ مختلف علاقوں میں قائم تقریباً دس چھوٹے پن بجلی گھر سیلاب برد ہو چکے ہیں جبکہ کئی بجلی گھروں کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔پورے ضلع چترال میں واٹر سپلائی کے90فیصد اسکیمیں تباہ ہونے کی وجہ سے چترال کے اکثر مقامات پر پینے کا پانی دستیاب نہیں اور مختلف ادارے بشمول چترال سکاؤٹس، پولیس، ضلعی انتظامیہ ویگر غیر سرکاری ادارے گاڑیوں کے ذریعے لوگوں کو پانی فراہم کر رہے ہیں۔ آبپاشی کے 400سے زائد ذرائع (نہریں) تباہ ہو گئے ہیں جسکی وجہ سے چترال میں زراعت کے شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہے۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں کیونکہ سیلاب میں بڑی تعداد میں جانور مر گئے ہیں اور ان علاقوں میں خصوصی اسپرے کرانے کا کوئی معقول بندو بست نہیں کیاگیا ہے۔ تباہ کن سیلاب نے زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گذشتہ دنوں سیلاب کی صورتحال کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جسمیں ڈپٹی کمشنر چترال امین الحق اور کمانڈنٹ چترال سکاؤٹس کرنل نعیم اقبال کے علاوہ ضلع کے اندر موجود تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے سربراہان نے شر کت کیں۔ اس اجلاس میں اکثر لائن ڈیپارٹمنٹس نے ایک مرتبہ پھر فنڈز کی عدم دستیابی کا واویلا کیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرکاری اداروں کے پاس فنڈ کی عدم موجودگی چترال میں امداد اور بحالی کے کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک کے اعلانات کے باوجود متعلقہ محکموں کے پاس ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لئے فنڈز کی عدم دستیابی ایک لمحہ فکریہ ہے جسکی وجہ سے چترال میں بحالی کے کام بری طرح متاثر ہو نگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں